حج میں ہونے والے جرم اور ان کے کفارے
فصل ششم : جرم اور ان کے کفارے
تنبیہ: اس فصل میں جہاں دم کہیں گے اس سے مراد ایک بھیڑیا یا بکری ہوگی ، اور بد نہ اونٹ یا گائے، یہ سب جانور انھیں شرائط کے ہوں جو قربانی میں ہوں، (اور صدقہ سے مراد صدقہ فطر کی مقدار ہے )۔
مسئلہ: جہاں دم کا حکم ہے وہ جرم اگر بیماری یا سخت گرمی یا شدید سردی یا زخم یا پھوڑے ہاجُوؤں کے ایذ ا کے باعث ہوگا تو اسے جرم غیر اختیاری کہتے ہیں اس میں اختیار ہو گا کہ دم کے بدلے چھ مسکینوں کو ایک ایک صدقہ دے دے یا تین روزے رکھ لے، اور اگر اس میں صدقہ کا حکم ہے اور یہ مجبوری کیا تھا اختیار ہو گا کہ صدقے کے بدلے ایک روزہ رکھ لے۔
:اب احکام سنئے
(1)
سیلا کپڑا یا خوشبو کا رنگا چار پہر کامل (ایک دن یا ایک رات مثلا طلوع سے غروب یا غروب سے طلوع ) یالگا تار زیادہ دنوں پہنا تو دم واجب ہے، اور چار پہر سے کم اگر چہ ایک لحظہ تو صدقہ ۔
(2)
اگر دن کو پہنا اور رات کو گرمی کے باعث اتار ڈالا، یا رات کو سردی کے سبب پہنا دن کو اتار دیا اور باز آنے کی نیت سے اتارا دوسرے دن پھر پہنا تو دوسرا جر مانا ہوگا، اسی طرح جتنی بار کرے۔
(3)
بیماری کے سبب پہنا تو جب تک وہ بیماری رہے گی ایک جرم ہے اور اگر وہ بیماری یقینا جاتی رہی دوسری بیماری شروع ہوگئی اور اس میں بھی پہننے کی ضرورت ہے جب بھی یہ دوسرا جرم ہو گا مگر غیر اختیاری۔
(4)
بیماری وغیرہ سے اگر سر سے پاؤں تک سب کپڑے پہنے کی ضرورت ہوئی تو ایک ہی جرم غیر اختیاری ہے اور اگر مثلا ضرورت صرف عمامہ کی تھی اور اس نے کرتا بھی پہنا تو دو جرم ہیں عمامہ کا غیر اختیاری اور کرتا کا اختیاری۔
(5)
مرد سارا سر یا چہارم یا مرد خواہ عورت منہ کی ٹکلی ساری یا چہارم چار پہر یا زیادہ لگا تا چھپائیں تو دم ہے اور چہارم سے کم چار پہر تک یا چار پہرسے کم اگر چہ سارا سر یا منہ تو صدقہ ہے اور چہارم سے کم کو چار پہر سے کم تک چھپائیں تو گناہ ہے کفارہ نہیں۔
(6)
خوشبو اگر بہت سی لگائی جسے دیکھ کر بہت لوگ بتائیں اگر چہ عضو کے تھوڑے ٹکڑے پر یا کوئی بڑا اعضو جیسے سریا منہ یاران یا پنڈلی پورا سان دیا اگر چہ تھوڑی ہی خوشبو سے، جب تو اس پر دم ہے، اور اگر تھوڑی سی خوشبو تھوڑے حصے میں لگائی تو صدقہ ہے۔ مسئلہ: سنگ اسود شریف پر خوشبو ملی جاتی ہے وہ اگر بوسہ لینے میں بحالت احرام منہ کو بہت سی لگ گئی تو دم دینا ہوگا اور تھوڑی سے صدقہ ۔
(7)
سر پر تیل مہندی کا خضاب کیا کہ بال نہ چھپائے تو ایک دم ہے اور اگر گا ڑھی تھوپی اور چار پہر گزرے تو مرد پر دو دم ہیں اور چار پہر سے کم تو ایک صدقہ اور ایک دم ، اور عورت پر بہر حال ایک دم ۔
(8)
ایک جلسہ میں کتنے ہی بدن پر خوشبولگائے ایک جرم اور مختلف جلسوں میں ہر بار نیا جرم۔
(9)
تھوڑی سی خوشبو بدن کے متفرق حصوں پر لگائی اگر جمع کرنے سے ایک بڑے عضو کامل کی مقدار ہو جائے تو دم ہے ورنہ صدقہ ۔
(10)
خوشبو دار سر مہ تین بار یا زیادہ بار لگا یا تو دم ہے ورنہ صدقہ ۔
(11)
اگر خالص خوشبو کی چیز اتنی کھائی کہ اکثر منہ میں لگ گئی تو دم ہے ورنہ صدقہ ۔
(12)
کھانے میں خوشبو اگر پکنے میں پڑی یا فنا ہوگئی جب تو کچھ نہیں ورنہ اگر خوشبو کے اجزاء زیادہ ہوں تو وہ خالص خوشبو کے حکم میں ہے، اور اگر کھانے کا حصہ زیادہ ہے تو عام کتابوں میں مطلق حکم دیا کہ اس میں کفارہ کچھ نہیں، ہاں خوشبو آئی تو کراہت ہے۔
(13)
پینے کی چیز میں خوشبو ملائی اگر خوشبو کا حصہ غالب ہے یا تین با ریا زیادہ پیا و دم ہے ورنہ صدقہ ۔
مسئلہ: خمیرہ تمبا کو نہ پینا بہتر مگر منع یا کفارہ نہیں۔
(14)
اگر چہارم سر یا داڑھی کے بال زیادہ کسی طرح دور کئے تو دم ہے اور کم میں صدقہ ۔
(15)
اگر چند لا ہے یا داڑھی بہت ہلکی چھدری تو یہ دیکھیں کہ اتنے بال اس جگہ کی چہارم مقدار تک پہنچتے ہیں یانہیں؟
(18)
یونہی چند جگہ سے دور کئے تو ملا کر چہارم کی مقدار دیکھیں گے۔
(17)
اگر سارے بدن کے بال ایک جلسہ میں دور کیے تو ایک ہی جرم ہے اور مختلف جلسے تو ہر بار نیا جرم ۔
(18)
مونچھیں اگر چہ پوری ہوں صرف صدقہ ہے۔
(19)
گردن یا ایک بغل پوری ہو تو دم ہے اور کم میں اگر چہ نصف یا زائد ہو صدقہ ۔ یونہی موئے زیر ناف ۔ چہارم کو سب کے برابر ٹھہرانا صرف سر اور داڑھی میں ہے۔
(20)
دونوں بغلیں پوری منڈائے جب بھی ایک ہی دم ہے۔
(21)
سر اور داڑھی اور زیر ناف اور بغل کے سواباقی اعضاء کے منڈنے میں صرف صدقہ ہے۔
(22)
مونڈنا، کترنا مو چنہ سے لینا، نورہ لگا نا سب کا ایک حکم ہے۔
(23)
عورت اگر سارے یا چہارم سر کے بال ایک پورہ برابر کترے تو دم ہے اور کم میں صدقہ ۔
(24)
وضو کرنے یا کھجانے یا کنگھی کرنے میں جو بال گرے اس پر بھی پورا صدقہ ہے۔ اور بعض نے کہا دو تین بال تک ہر بال کے لیے ایک مٹھی اناج یا ایک روٹی کا ٹکڑایا ایک چھوہارا۔
(25)
بال آپ گر جائے بے اس کا ہا تھ لگائے یا بیماری سے تمام بال گر پڑیں تو کچھ نہیں۔
(26)
ایک ہاتھ ایک پاؤں کے پانچوں ناخن کترے یا بیسوں ایک ساتھ تو ایک دم ہے۔ اور اگر کسی ہاتھ پاؤں کے پورے پانچ نہ کترے تو ہر ناخن پر ایک صدقہ، یہاں تک کہ چاروں ہاتھ پاؤں کے چار چار کترے تو سولہ صدقے دے مگر یہ کہ صدقوں کی قیمت ایک دم کے برابر ہو جائے تو کچھ کم کرلے۔
(27)
اگر ایک جلسہ میں ایک ہاتھ یا پاؤں کے کترے، دوسرے میں دوسرے کے، تو دو دم دے، یونہی چار جلسوں میں چاروں کے تو چاروم۔
(28)
کوئی ناخن ٹوٹ گیا کہ اب اگنے کے قابل نہ رہا اس کا بقیہ اس نے کاٹ لیا تو کچھ نہیں۔
(29)
شہوت کے ساتھ بوس و کنار و مساس میں دم ہے اگر چہ انزال نہ ہو اور بلا شہوت میں کچھ نہیں۔
(30)
اندام نہانی پر نگاہ کرنے سے کچھ نہیں اگر چہ انزال ہو جائے، مگر وہ ضرور ہے۔
(31)
حلق سے انزال ہو جائے تو دم ہے ورنہ مکروہ ہے۔
(32)
طواف فرض کلی یا اکثر جنابت میں یا حیض و نفاس میں کیا تو بد نہ ہے، اور بے وضو تو دم ہے اور پہلی صورت میں طہارت کے ساتھ اس کا اعادہ واجب، دوسری میں مستحب۔
(33)
نصف سے کم پھیرے بے طہارت کے کئے تو ہر پھیرے کے لیے ایک صدقہ ۔
(34)
طواف فرض کل یا اکثر بلا عذرا پنے پاؤں چل کر نہ کیا بلکہ سواری یا گود میں یا بیٹھے بیٹھے۔
(35)
یا بے ستر عورت کیا مثلاً عورت کی چہارم کلائی یا چہارم سر کے بال کھلے تھے۔
(36)
یا کعبہ کو دہنے ہاتھ پرلے کے الٹا کیا۔
(37)
یا اس میں حطیم کے اندر ہو کر گزرا۔
(38)
یا بارھویں کے بعد کیا تو ان پانچوں صورتوں میں دم دے۔
(39)
اس کے چارے کم پھیرے بالکل نہ کیے تو دم دے دے اور بارھویں کے بعد کیے تو ہر پھیرے پر صدقہ ہے۔
(40)
طواف فرض کے سوا اور کوئی طواف ناپاکی میں کیا تو دم ہے، اور بے وضو تو صدقہ ۔
(41)
فرض وغیرہ کوئی طواف ہو جیسے ناقص طور پر کیا کہ کفارہ لازم ہوا، جب کامل اعادہ کر لیا کفارہ اتر گیا مگر بارھویں کے بعد ہونے سے جو نقصان طواف فرض کے سوا کسی پھیرے میں آیا اس کا اعادہ نا ممکن، بارھویں تو گزر گئی۔
(42)
نجس کپڑوں سے طواف مکروہ ہے کفارہ نہیں۔
(43)
سعی کے چار پھیرے یا زیادہ بلا عذر اصلا نہ کئے، یا سواری پر کیے تو دم دے اور حج ہو گیا اور چار سے کم میں ہر پھیرے پر صدقہ دے۔
(44)
طواف سے پہلے سعی کر لی پھر کرے، نہ کرے گا تو دم لازم ۔ .
(45)
دسویں کی صبح بلا عذر مزدلفہ میں وقوف نہ کیا تو دم دے ۔ ہاں کمزور یا عورت بخو ف زحمت ترک کرے تو جرمانہ نہیں۔
(48)
حلق حرم میں نہ کیا ، حددد حرم سے باہر کیا یا بارھویں کے بعد کیا تو دم ہے۔
(47)
رمی سے پہلے حلق کر لیا دم دے۔
(48)
قارن یا متمتع رمی سے پہلے قربانی یا قربانی سے پہلے حلق کریں تو دم دیں۔
(49)
اگر رمی کسی دن اصلا نہ کی ۔
(50)
یا کسی ایک دن کی بالکل یا اکثر ترک کردی مثلا دسویں کو تین کنکریوں تک ماریں یا گیارھویں کو دس کنکریوں تک ۔
(51)
یا کسی ایک دن کی بالکل یا اکثر اس کے بعد دوسرے دن کی ، تو ان صورتوں میں دم دے، اور اگر کسی دن کی رمی اس کے بعد آنے والی رات کر لی تو کفارہ نہیں۔
(52)
اگر کسی دن کے نصف سے کم رمی مثلاً دسویں کی تین کنکریاں اور دن کی دس بالکل چھوڑ دیں یا دوسر ے دن کیں، تو ہر کنکری پر ایک صدقہ دے۔ ان صدقوں کی قیمت دم کے برابر ہو جائے تو کچھ کم کرلے۔
(53)
احرام والے نے کسی دوسرے کے بال مونڈے یا ناخن کترے اگر وہ بھی احرام میں ہے تو یہ صدقہ دے اور وہ صدقہ یادم اسی تفصیل پر کہ اوپرگزری۔ اور اگر وہ احرام میں نہیں تو کچھ خیرات کر دے اگر چہ ایک مٹھی ، اور وہ کچھ نہیں۔
(54)
اور اگر اس کو سلے کپڑے پہنائے یا خوشبو اس طرح لگائی کہ اپنے نہ لگی تو اس پر کفارہ نہیں ، ہاں گناہ ہو گا ، اگر وہ بھی احرام میں تھا۔ اور وہ حسب تفصیل مذکوردم یا صدقہ دے گا۔
(55)
وقوف عرفہ سے پہلے جماع کیا تو حج نہ ہوا اسے حج ہی کی طرف پورا کر کے دم دے اور پھر فورا ہی سال آئندہ اس کی قضا کر لے۔ عورت بھی احرام حج میں تھی تو اس پر لازم ہے اور مناسب ہے کہ حج کے احرام سے ختم تک دونوں اس طرح جدا رہیں کہ ایک دوسرے کو نہ دیکھے اگر خوف ہو کہ پھر اس بلا میں پڑ جائیں گے اور وقوف کے بعد صحبت کرنے سے حج تو نہ جائے گا مگر اگر حلق وطواف سے پہلے کیا تو بد نہ دے اور دونوں کے بیچ میں کیا تو دم ، اور بہتر اب بھی بد نہ ہے اوردونون کے بعد کچھ نہیں۔
(56)
عمرہ میں طواف کے چار پھیروں سے پہلے جماع کیا تو عمرہ جاتا رہا، دم دے اور عمرہ پھر کرے اور چار کے بعد دم دے عمرہ صحیح ہے۔
(57)
اپنی جوں اپنے بدن یا کپڑوں میں ماری یا پھینک دی تو ایک میں روٹی کا ٹکڑا دے، اور دو ہوں تو مٹھی بھر اناج او رزیادہ میں صدقہ دے۔
(58)
جو میں مارنے کو سر یا کپڑا ھو یا یا دھوپ میں ڈالا جب بھی یہی کفارے جو خود قتل میں تھے۔
(59)
یونہی دوسرے نے اس کے کہنے یا اشارہ کرنے سے اس کی جوں کو مارا، جب بھی اس پر کفارہ ہے، اگر چہ وہ دوسرا احرام میں نہ ہو۔
(60)
زمین وغیرہ پر گری ہوئی جوں یا دوسرے کے بدن یا کپڑوں کی مارنے میں اس پر کچھ نہیں اگر چہ وہ دوسرا بھی احرام میں ہو۔
مسئلہ: جہاں ایک دم یا صدقہ ہے قارن پر دو ہیں۔
مسئلہ: کفارہ کی قربانی یا قارن و متمتع کے شکرانہ کی غیر حرم میں نہیں ہو سکتی مگر شکرانہ کی قربانی سے آپ کھائے غنی کوکھلائے ، اور کفارہ کی صرف محتاجوں کا حق ہے۔
نصیحت : کفارے اس لیے ہیں کہ بھول چوک سے یا سونے میں یا مجبوری سے جرم ہوں تو کفارہ سے پاک ہو جائیں، نہ اس لیے کہ جان بوجھ کر بلا عذر جرم کرو اور کہو کفارہ دے دیں گے، دینا تو جب بھی آئے گا، مگر قصد احکم الہی کی مخالفت سخت ہے۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ ، حق سبحانہ توفیق طاعت عطا فرما کر مدینہ کی زیارت کرائے ۔ آمین!
READ MORE  ستائیس 27 رجب کا روزہ رکھنے کا ثبوت احادیث میں ہے یا نہیں؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top