جو شخص احرام میں سر پر بھولے سے کپڑا ڈال لے تو کیا حکم ہے؟
:سوال
جو شخص احرام میں سر پر بھولے سے کپڑا ڈال لے تو کیا حکم ہے؟ حج میں تو خلل نہیں آئے گا ؟ اور اگر کسی عذر کے سبب سر چھپانا پڑے تو کیا حکم ہے؟
:جواب
جومرد اپنا سارایا چوتھائی سر بحالت احرام چھپائے جسے عادة سر چھپانا کہیں، جیسے ٹوپی پہنتا عمامہ سر باندھنا،سرے چادر اوڑھنا، دھوپ کے باعث سر پر کپڑا ڈالنا، ورد کے سبب سر کسنا ، زخم کی وجہ سے پٹی باندھنا (نہ گٹھڑی یا صندوق یا خوان وغیرہ کاسر پر اٹھانا کہ یہ سر چھپانے میں داخل نہیں ) اس پر مطلقا جرمانہ واجب ہے اگر چہ بھولے سے، اگر چہ سوتے میں، اگر چہ بیہوشی میں اگر چہ صحت حج میں خلل نہیں، ہاں ایک طرح کا قصور ہے جس کی تلافی کو جرمانہ مقرر ہوا، جیسے نماز میں سہو ا ترک واجب سے سجدہ۔
عذرو نے عذر میں اتنا فرق ہے اگر بے عذر ایک دن کامل یا ایک رات کامل یا اس سے زائد سر چھپا رہا تو خاص حرم میں ایک قربانی ہی کرنی ہوگی جب چاہے کرے، دُسرا طریقہ کفارہ کا نہیں اور عذر مثلاً بخار یا زخم یا درد کے سبب اتنی مدت چھپایا تو اختیار ہو گا حرم میں قربانی کرے یا جہاں چاہئے جب چاہئے تین صاع گیہوں یا مثلا چھ صاع جو ، چھ مسکینوں کو دے یا تین روزے جس طرح چاہے رکھ لے۔
اور اگر کامل دن یا رات کی مدت سے کم چھپارہا اگر چہ کتنی ہی تھوڑی دیر کو، تو بے عذری کی صورت میں صدقہ فطر کی طرح خاص صدقہ ہی لازم ہوگا، یعنی نیم صاع ( نصف صاع) گیہوں یا مثلاً ایک صاع کو کہ جہاں چاہے دے اور بصورت عذر مختار ہو گا چاہے یہ صدقہ دے یا ایک روزہ جہاں چاہے رکھ لے۔
ایک صاع دو سو ستر تولے کا ہوتا ہے اور سکہ انگریزی روپیہ سوا گیارہ ماشے کا، تو جہان سو روپے بھر کا سیر ہے جیسے ہمارے شہر بریلی میں ہو وہاں کی تول سے صاع پانچ ماشے پانچ رتی او پر آدھ پاؤ پونے تین سیر کا ہوا، اور نصف صاع دو ماشے ساڑھے چھ رتی او پر تین چھٹا نک سواسیر کا یعنی کچھ کم ڈیڑھ سیر، اس نصف صاع کے آدھے کو عربی میں مُد اور من کہتے ہیں۔
(ص 713)
READ MORE  معذور ہونے کی وجہ سے حج نہیں کر سکتا، اس کے لیے کیا حکم ہے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top