منی، مز دلفہ اور باقی افعال حج کا طریقہ
فصل پنجم :منی و مز دلفہ و باقی افعال حج
(1)
جب غروب آفتاب کا یقین ہو جائے فور مزدلفہ کو چلو، اور امام کا ساتھ افضل ہے مگر وہ دیر کرے تو اس کا انتظار نہ کرو۔
(2)
راستے بھر ذکر، درود و دعا و لبیک وزاری و بکا میں مصروف رہو۔
(3)
راستہ میں جہاں گنجائش پاؤ اور اپنی یا دوسرے کی ایذا کا احتمال نہ ہو تو اتنی دیر اتنی دور تیز چلو، پیاده ( پیدل ) ہو خواہ سوار
(4)
جب مزدلفہ نظر آئے بشر ط قدرت پیادہ ہو لینا بہتر ہے اور نہا کر داخل ہونا افضل ہے۔
(5)
وہاں پہنچ کر حتی الامکان جبل قزح کے پاس راستے سے بیچ کر اتر و، ورنہ جہاں جگہ ملے۔
(6)
غالبا وہاں پہنچتے پہنچتے شفق ڈوب جائے گی، مغرب کا وقت نکل جائے گا ، اونٹ کھولنے اسباب اتارنے سے پہلے
امام کے ساتھ مغرب و عشاء پڑھو، اور اگر وقت باقی رہے جب بھی ابھی مغرب ہر گز نہ پڑھو نہ راہ میں کہ اس دن یہاں نماز مغرب وقت مغرب میں پڑھنا گناہ ہے، اگر پڑھ لو گے عشاء کے وقت پھر پڑھنی ہوگی، غرض یہاں پہنچ کر مغرب و عشاء میں بہ نیت ادانہ کہ بہ نیت قضاء حتی الامکان امام کے ساتھ پڑھو ، اس کا سلام ہوتے ہی معا عشاء کی جماعت ہوگی، عشاء کے فرض پڑھو، اس کے بعد مغرب و عشا کی سنتیں اور وتر پڑھو، اگر امام کے ساتھ نماز مل سکے تو اپنی جماعت کر لو اور نہ ہو سکے تو تنہا پڑھو
(7)
باقی رات ذکر لبیک و در و دعا میں گزارو کہ یہ بہت افضل جگہ ہے اور بہت افضل رات ہے زندگی ہو تو اور سونے کو
بہت سی راتیں ملیں گی اور یہاں یہ رات خدا جانے دوبارہ کسے ملے اور نہ ہو سکے تو خیر با طہارت سور ہو کہ فضول باتوں سے سونا بہتر ہے اور اتنے پہلے اٹھ کر صبح چمکنے سے پہلے ضروریات و طہارت سے فارغ ہولو ، آج نماز صبح بہت اندھیرے سے پڑھی جائے گی، کوشش کرو کہ جماعت امام بلکہ پہلی تکبیر فوت نہ ہو کہ عشاء و صبح جماعت سے پڑھنے والا پوری شب بیداری کا ثواب پاتا ہے۔
(8)
اب در بار اعظم کی دوسری حاضری کا وقت آیا ، ہاں ہاں کرم کے دروازے کھولے گئے ہیں کل عرفات میں حقوق اللہ معاف، یہاں حقوق العباد معاف فرمانے کا وعدہ ہے۔ مشعر الحرام میں یعنی خاص پہاڑی پر اور جگہ ملے تو اس کے دامن میں، اور نہ ہو سکے تو وادی محسر کے سوا جہاں گنجائش پاؤ وقوف کرو اور تمام باتیں کہ وقوف عرفات میں مذکور ہو ئیں ملحوظ رکھو۔
(9)
جب طلوع آفتاب میں دو رکعت پڑھنے کا وقت رہ جائے امام کے ساتھ منی کو چلو اور یہاں سے ساتھ چھوٹی چھوٹی کنکریاں دانه خرما کجھور کی گٹھلی) کے برابر پاک جگہ سے اٹھا کر تین بار دھولو، کسی پتھر کوتوڑ کر کنکریاں نہ بتاؤ۔
(10)
راستے بھر بدستور ذکر و عا و در و دو بکثرت لبیک میں مشغول رہو۔
(11)
جب وادی محسر پہنچو پانچ سو پنتالیس ہاتھ بہت جلدی تیزی کے ساتھ چل کر نکل جاؤ مگر نہ وہ تیزی جس سے کسی
کو ایذا ہو اور اس عرصہ میں یہ دعا کرتے جاؤ:
اللَّهُمْ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَلَا تُهْلِكُنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبَلُ ذَلِكَ
ترجمہ: الہی ! اپنے غضب سے ہمیں قتل نہ کر اور اپنے عذاب سے ہمیں ہلاک نہ کر اور اس سے ہمیں عافیت دے۔
(12)
جب منی نظر آئے وہی دعا پڑھو جو مکہ سے آتے منی کو دیکھ کر پڑھی تھی۔
(13)
جب منی پہنچو سب کاموں سے پہلے جمرۃ العقبہ کو جاؤ جو ادھر سے پچھلا جمرہ ہے اور مکہ معظمہ سے پہلے نالے کے وسط
میں، سواری پر جمرے سے پانچ ہاتھ ہٹے ہوئے یوں کھڑے ہو کہ منی داہنے ہاتھ پر اور کعبہ بائیں کو اور جمرہ کی طرف منہ ہو، سمات کنکریاں جدا جدا سیدھا ہا تھ خوب اٹھا کر کہ سپیدی بغل ظاہر ہو ہر ایک پر ہم اللہ اللہ اکبر کہ کر مارو، بہتر یہ ہے کہ کنکریاں جمرہ تک پہنچیں ور نہ تین ہاتھ کے فاصلے پر گریں۔ اس سے زیادہ فاصلے پر گری تو وہ کنکری شمار میں نہ آئے گی۔ پہلی کنکری سے لبیک موقوف کرو۔
(14)
جب سات پوری ہو جا ئیں وہاں نہ ٹھہر وہ فورا ذکر کرو، دعا کرتے پلٹ آؤ۔
(15)
اب قربانی میں مشغول ہو، یہ وہ قربانی نہیں جو عید میں ہوتی ہے کہ وہ تو مسافر پر اصلا نہیں اور مقیم مالدار پر واجب ہے اگر چہ حج میں ہو بلکہ یہ حج کا شکرانہ ہے، قارن و متمتع پر واجب اگر چہ فقیر ہو۔ اور مفرد کے لیے مستحب اگر چہ غنی ہو، جانور کی عمر و اعضاء میں وہی شرطیں ہیں جو عید کی قربانی میں۔
(16)
ذبح کرنا آتا ہو تو آپ ذبح کرو کہ سنت ہے ورنہ وقت ذبح حاضر رہو۔
(17)
رو بقبلہ لٹا کر خود بھی رو بقبلہ رہو اور تکبیر کہتے ہوئے نہایت تیز چھری سے بہت جلد اتنی پھیرو کہ چاروں رگیں کٹ جائیں، زیادہ ہاتھ نہ بڑھاؤ کہ بے سبب کی تکلیف ہے۔
(18)
بہتر یہ ہے کہ وقت ذبح قربانی والے جانور کے دونوں ہاتھ اور ایک پاؤں باندھ لو، ذبح کر کے کھول دو۔
(19)
اونٹ ہو تو اسے کھڑا کر کے سینہ میں گلے کے انتہا پر تکبیر کہہ کر نیزہ مارو کہ سنت یونہی ہے اور اس کا ذبح کرنا مکروہ، مگر حلال ذبح سے بھی ہو جائے گا اور گلے پر ایک جگہ اسے ذبح کرے۔ جاہلوں میں جو مشہور ہے کہ اونٹ تین جگہ سے ذبح ہوتا ہے غلط و خلاف سنت اور مفت کی اذیت و مکروہ ہے۔
(20)
کسی ذبیحہ کو جب تک سرد نہ ہو کھال نہ کھینچو، اعضاء نہ کاٹو کہ ایذا ہے۔
(21)
یہ قربانی کر کے اپنے اور تمام مسلمانوں کے حج و قربانی قبول ہو جانے کی دعا کرو۔
(22)
بعد قربانی رو قبلہ بیٹھ کر مرد حلق کریں یعنی سارا سر منڈا ئیں کہ افضل ہے یا بال کتروائیں کہ رخصت ہے۔ اور عورتوں کو حلق حرام ہے ایک پور برابر بال کتر وادیں۔
(23)
حلق ہو یا تقصیر دہنی طرف سے ابتداء کرو اور اس وقت
اللہ اكبرط اللهُ أَكْبَرُط لَا إِلَهَ إِلَّا الله وَالله أَكْبَرُط الله أَكْبَرُ ط وَلِلَّهِ الْحَمْدُ
بعد فراغت بھی کہو، سب مسلمانون کی بخشش مانگو۔
(24)
بال دفن کرو اور ہمیشہ بدن سے جو چیز بال، ناخن، کھال جدا ہو دفن کرو۔
(25)
یہاں حلق یا تقصیر سے پہلے ناخن نہ کتر اؤ، خط نہ بنواؤ۔
(26)
اب عورت سے صحبت کرنے شہوت سے ہاتھ لگانے، گلے لگانے ، بوسہ لینے، دیکھنے کے سوا جو کچھ احرام نے حرام کیا تھا سب حلال ہو گیا۔
(27)
افضل یہ ہے کہ آج دسویں ہی تاریخ فرض طواف کے لیے جسے طواف الزيارة کہتے ہیں مکہ معظمہ جاؤ بدستور مذکوره پیاده با طهارت دستر عورت طواف کرو مگر اس طواف میں اضطباع نہیں۔
(28)
قارن و مفره طواف قدوم میں اور متمتع بعد احرام حج کسی طواف نفل میں حج کے رمل وسعی دونوں خواہ صرف سعی کر چکے ہوں تو اس طواف میں رمل وسعی کچھ نہ کریں اور اگر اس میں رمل وسعی کچھ نہ کیا ہو یا صرف رمل کیا ہو یا جس طواف میں کیسے تھے وہ عمرہ کا تھا جیسے قارن و متمتع کا پہلا طواف یا وہ طواف بے طہارت کیا تھا تو ان چاروں صورتوں میں رمل وسیعی دونوں اس طواف فرض میں کریں۔
(29)
کمزور اور عور تیں اگر بھیڑ کے سبب دسویں کو نہ جائیں تو اس کے بعد گیارھویں کو افضل ہے اور اس دن یہ بڑا نفع ہے کہ ملا مطاف خالی ملتا ہے ، گنتی کے بیس بیس آدمی ہوتے ہیں۔ عورتوں کو بھی باطمینان تمام ہر پھیرے میں سنگ اسود کا بوسہ ملتا ہے۔
(30)
جو گیارھویں کو نہ جائے بارھویں کو کرلے۔ اس کے بعد بلا عذر تاخیر گناہ ہے۔ جرمانہ میں ایک قربانی ہوگی ، ہاں ۔ مثلاً عورت کو حیض یا نفاس آگیا تو وہ ان کے ختم کے بعد کرے۔
(31)
بہر حال بعد طواف دو رکعت ضرور پڑھیں ۔ اس طواف سے عورتیں بھی حلال ہو جائیں گی ، حج پورا ہو گیا کہ اس کا دوسرا رکن یہ طواف تھا۔
(32)
دسویں، گیارھویں، بارھویں راتین منی ہی میں بسر کرنا سنت ہے، نہ مزدلفہ میں نہ مکہ میں نہ راہ میں، تو جو دس یا گیارہ کو طواف کے لیے گیا واپس آکر رات منی ہی میں گزارے۔
(33)
گیارھویں تاریخ بعد نماز ظہر امام کا خطبہ سن کر پھر رمی کو چلو، ان ایام میں رمی جمرۃ اولی سے شروع کرو جو مسجد خیف سے قریب مزدلفہ کی طرف ہے اس کی رمی کو راہ مکہ کی طرف سے آکر چڑھائی پر چڑھو کہ یہ جگہ بہ نسبت جمرۃ العقبہ کے بلند ہے
یہاں رو بہ کعبہ سات کنکریاں بطور مذکور مار کر جمرہ سے کچھ آگے بڑھ جاؤ اور دعا میں ہاتھ یوں اٹھاؤ کہ ہتھیلیاں قبلہ کور ہیں، حضور قلب سے حمد و در و دو دعا و استغفار میں کم سے کم بیس آیتیں پڑھنے قدر مشغول ہو ورنہ پون پارہ یا سورہ بقر پڑھنے کی مقدار تک۔
(34)
پھر جمرہ وسطی پر جا کر ایسا ہی کرو۔
(35)
پھر جمرہ عقبے پر مگر یہاں رمی کر کے نہ ٹھہر وہ معاپلٹ آؤ۔ پلٹنے میں دعا کرو۔
(36)
بعینہ اسی طرح بارھویں تاریخ تینوں جمرے بعد زوال رمی کرو، بعض لوگ آج دو پہر سے پہلے رمی کر کے مکہ معظمہ کو چل دیتے ہیں، یہ ہمارے اصل مذہب کے خلاف اور ایک ضعیف روایت ہے۔
(37)
بارھویں کی رمی کر کے غروب آفتاب سے پہلے اختیار ہے کہ مکہ معظمہ روانہ ہو جاؤ، مگر بعد غروب چلا جانا معیوب ہے، اب ایک دن اور ٹھہرنا اور تیرھویں کو بدستور دو پہر ڈھلے رمی کر کے مکہ جانا ہوگا اور یہی افضل ہے مگر عام لوگ بارھویں کو چلے جاتے ہیں تو ایک رات دن یہاں قیام میں قلیل جماعت کو دقت ہے۔
(38)
حلق رمی سے پہلے جائز نہیں۔
(39)
گیارھویں بارھویں کی رمی دو پہر سے پہلے اصلا صحیح نہیں۔
(40)
رمی میں یہ امور مکروہ ہیں: (۱) دسویں کی رمی دو پہر بعد کرنا (۲) تیرھویں کی رمی دو پہر سے پہلے کرنا، (۳) رہی میں بڑا پتھر مارنا ، (۴) تو ڑ کر بڑے پتھر کی کنکریاں مارنا (۵) جمرہ کے بیچے جو کنکریاں پڑی ہیں اٹھا کر مارنا کہ یہ مردود کنکریاں ہیں جو قبول ہوتی ہیں، قیامت کے دن نیکیوں کے پہلے میں رکھنے کو اٹھائی جاتی ہیں ورنہ جمروں کے گرد پہاڑ جمع ہو جاتے، (۲) نا پاک کنکریاں مارنا، (۷) سات سے زیادہ مارنا ، (۸) رمی کے لیے جو جہت مذکور ہوئی اس کا خلاف کرنا ، (۹) جمرہ سے پانچ ہاتھ سے کم فاصلہ پر کھڑا ہونا زیادہ کا مضائقہ نہیں، (۱۰) جمروں میں خلاف ترتیب کرنا ، (11) مارنے کے بدلے کنکری جمرے کے پاس ڈال دینا۔
(41)
اخیر دن یعنی بارھویں خواہ تیرھویں کو جب منی سے رخصت ہو کر مکہ معظمہ چلو تو وادی محصب میں کہ جنت المعلی کے قریب ہے سواری سے اتر لو بے اترے کچھ دیر ٹھہر کر مشغول دعا ہو، اور افضل تو یہ ہے کہ عشاء تک نمازیں یہیں پڑھو ایک نیند لے کر داخل مکہ معظمہ ہو۔
(42)
اب تیرھویں کے بعد جب تک مکہ میں ٹھہر واپنے پیر استاد، ماں باپ خصوصا حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور ان کے اصحاب و عترت اور حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہم کی طرف سے جتنے ہوسکیں عمرے کرتے رہو تعظیم و جو مکہ معظمہ سے شمال یعنی مدینہ طیبہ کی طرف تین میل کے فاصلے پر ہے جاؤ وہاں سے عمرہ کا احرام اوپر بیا ن ہوا باندھ کر آؤ اور طواف وسعی حسب دستور کرکے حلق یا تقصیر کر لو عمرہ
ہو گیا، جو حلق کر چکا اور مثلا اسی دن دوسرا عمرہ کیا وہ سر پر استرا پھر والے کافی ہے۔ یوں ہی وہ جس کے سر پر قدرتی بال نہ ہوں۔
(43)
مکہ معظمہ میں کم از کم ایک بارختم قرآن مجید سے محروم نہ رہے۔
(44)
جنت المعلیٰ حاضر ہو کر ام المومنین خدیجتہ الکبری و دیگر مدفونین کی زیارت کرے۔
(45)
مکان ولادت اقدس حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بھی زیارت سے مشرف ہو۔
(46)
حضرت عبد المطلب کی زیارت کریں اور ابو طالب کی قبر پر نہ جاؤ، یونہی جدہ میں جو لوگوں نے حضرت حوارضی اللہ عنہا کا مزار کئی سو ہاتھ کا بنا رکھا ہے وہاں بھی نہ جاؤ کہ بے اصل ہے۔ کہ۔
(47)
علماء کی خدمت سے شرف لو۔
(48)
کعبہ معظمہ کیداخلی کمال سعادت ہے اگر جائز طور پر نصیب ہو، حرم عام میں داخلی ہوتی ہے مگر سخت کش مکش کمزور مرد کا کام ہی نہیں، نہ عورتوں کو ایسے ہجوم میں جرات کی اجازت، زبردست مرد اگر آپ ایذا سے بچ بھی گیا تو اوروں کو دھکے دے کر ایزا دے گا اور یہ جائز نہیں، نہ یوں حاضری میں کچھ دوق ملے اور خاص داخلی ہے لین دین میسر ہیں اور اس پر لیا بھی حرام اور دیا بھی حرام کے ذریعہ ایک منتخب ملا بھی تو وہ بھی حرام ہو گیا، ان مفاسد سے نجات نہ ملے تو حطیم شریف کی حاضری غنیمت جانے او پرگزرا کہ وہ بھی عجب ہی کی زمین ہے اور اگر شاید بن پڑے ہوں کہ خدام کعبہ سے ظہر جائے کہ داخلی کے مرض میں کچھ نہ دیں گے۔ اس کے بعد یا تیل چاہے ہزاروں روپے دے دو تو کمال آداب ظاہر و باطن کی رعایت سے انکھیں بیچے کیسے گردن جھکائے گناہوں پر شرماتے ۔ جلال رب البیت سے لرزتے کا نپتے بسم اللہ کہ کر پہلے سیدھا پاؤں بڑھا کر داخل ہو اور سامنے کی دیوار تک اتنا بڑھو کہ تین ہاتھ کا فاصلہ رہے، وہاں دو رکعت نفل غیر وقت مکرده میں پڑھو کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا مصلے ہے۔ پھر دیوار پر رخسار اور منہ رکھ کرحمد و درود اور دعا میں کوشش کرو۔ یوں ہی نگاہیں نیچے کیے چار گوشوں پر جاؤ اور دعا کرو اور ستونوں سے چھٹو اور پھر اس دولت کا ملنا اور حج وزیارت کا قبول مانگو اور یونہی آنکھیں نیچے کیے واپس آؤ، او پر یا ادھر ادھر ہرگز نہ دیکھو اور بڑے فضل کی امید کرو کہ وہ فرماتا ہے جو اس گھر میں داخل ہوا وہ امان میں، والحمد اللہ۔
(49)
بچی ہوئی بتی وغیرہ جو یہاں یا مدینہ طیبہ میں خدام دیتے ہیں ہر گز نہ لو بلکہ اپنے پاس سے بتی وہاں روشن کر کے باقی اٹھا لو۔
(50)
جب عزم رخصت ہو طواف وداع بے رمل وسعی و اضطباع بجالاؤ کہ باہر والوں پر واجب ہے۔ ہاں وقت رخصت عورت حیض و نفاس میں ہو تو اس پر نہیں ۔ پھر دو رکعت مقام ابراہیم میں پڑھو۔
(51)
پھر زمزم پر آکر اسی طرح پانی پیو، بدن پر ڈالو۔
(52)
پھر دروازہ کعبہ پر کھڑے ہو کر آستانہ پاک کو بوسہ دو اور قبول و بار بار حاضری کی دعا مانگواور وہی دعائے جامع پڑھو۔
(53)
پھر ملتزم پر آکر غلاف کعبہ تھام کر اسی طرح چمٹوذ کرو در و داور دعا کی کثرت کرو۔
(54)
پھر حجر اسود کو بوسہ دو اور جو آنسور رکھتے ہو گراؤ۔
(55)
پھر الٹے پاؤں رخ بہ کعبہ یا سیدھے چلنے میں بار بار پھر کر کعبہ و حسرت سے دیکھتے، اس کی جدائی پر روتے یا رونے کامنہ بناتے مسجد کریم کے دروازے سے بایاں پاؤں پہلے بڑھا کر نکلو اور دعا ئے مذکور پڑھو اور اس کے لیے بہتر باب الحزورہ ہے۔
(56)
حیض و نفاس والی دروازے پر کھڑے ہو کر کعبہ کو بہ نگاہ حسرت دیکھے اور دعا کرتی پلٹے۔
(57)
پھر بقدر قدرت فقرائے مکہ معظمہ پر تصدق کر کے متوجہ سرکار اعظم مدینہ طیبہ ہو، وباللہ التوفیق۔
READ MORE  زیور کی زکوۃ کی ادائیگی میں کس وقت کی قیمت اعتبار ہوگا؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top