حجاز مقدس میں چندہ جمع کر کے بھیجنا کیسا؟
:سوال
امام اہلسنت کے دور میں حجاز مقدس میں ترکوں کی خدمت تھی، وہاں ٹرین کے انتظام کے لیے مسلمان چندہ جمع کر کے بھیج رہے تھے ، اس کے بارے میں آپ علیہ الرحمہ سے سوال ہوا، اور اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کہ درمیانے لوگ مال کھا نہ جائیں، تو امام اہلسنت علیہ الرحمہ نے اس کا جواب دیا۔
:جواب
حجاز ریلوے مسلمانوں کے نفع و آرام کی چیز ہے، نیت صالحہ سے اس میں شرکت ان شاء اللہ تعالی باعث اجرو برکت ہے۔ بعض حاجیوں کو یہ خیال کہ ریل بننا ہی غلط ہے بلکہ بیچ کے لوگوں نے یہ شعبدہ اٹھا رکھا ہے روپیہ جو جاتا ہے تغلب بعض خائنان میں آتا ہے، اس میں پہلا فقرہ محض غلط وسوئے ظن ہے وہ بھی صریح یقین کے مقابل اور پچھلا فقرہ اگر چہ بعض مواضع پر صحیح ہونا ممکن، اور تجربہ شاہد ہے کہ ضرور کہیں صحیح ہوگا، ایسے معاملات میں بہت کا ذب و خائن کھڑے ہو جاتے ہیں ، مگر نہ سب یکساں ہیں نہ بعد حصول ذرائع اطمینان، اجازت سو ئیگمان ہے اور بالفرض ہو بھی، تو مسلمان جس نے لوجہ اللہ تعالیٰ دیا اپنی نیت پر اجر پائے گا۔
فقیر نے اس میں اعانت پر کبھی انکار نہ کیا، البتہ بعض جاہلان علم ادعا نے یہ کہہ دیا تھا کہ اس کی اعانت فرض ہے کہ بے امنی راہ کے باعث فرضیت حج میں خلل ہے، ریل کا بننا اس خلل کا ازالہ کرے گا ، اور مقدمہ فرض فرض ہوتا ہے اس کا میں نے رو کیا تھا کہ یہ محض جہالت ہے ، اوّل بحمد اللہ تعالیٰ ہرگز راہ میں بے امنی نہیں، جسے حق سبحانہ نے وہ سفر کریم بخشا اور اس کے ساتھ ایمان کی آنکھ اور عقلِ سلیم عطا کی ہے اُس نے موازنہ کیا اور معلوم کر لیا ہے وہاں با آنکہ بارہ منزل کے اندر صرف دو ایک چوکیاں ہیں ، بحمدہ تعالیٰ وہ امن وامان رہتی ہے کہ یہاں قدم قدم پر چوکی پہرے کی حالت میں ہو۔
جس قافلہ میں یہ فقیر اپنے رب کے دربار سے اس کے حبیب کی سرکار جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوتا تھا ، قافلہ بعد زوال ظہر و عصر پڑھ کر وہاں ہوتا اور وقت مغرب خفیف قیام کرتا کہ لوگ مغرب و عشاء کے فرض و وتر پڑھ لیتے ، شافعیہ اپنے مذہب پر ایسا کرتے اور حنفیہ بضرورت تقلید غیر پر عامل ہوتے کہ بحالت ضرورت ان شرائط پر کہ فقہ میں مفصل ہیں ایسا روا ہے مگر یہ فقیر بحمد اللہ اپنے امام رحمہ اللہ تعالیٰ کے مطابق مذہب ، ہر نماز خاص اُس کے وقت مقرر ہی میں پڑھتا جن کی تعین اللہ ورسول جل وعلا و صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمادی ہے، مجھے عصر و عشاء کے لیے اُترنا پڑتا، قافلہ دور نکل جاتا ، میں جلدی کر کے مل جاتا ، قضائے حاجت کے لیے بھی لوگ اس خیال سے کہ قافلہ بعید نہ ہو جائے نزدیک ہی بیٹھ جاتے ہیں، مجھے یہ پسند نہ آتا اور دور کسی پیڑیا پہاڑ کی آڑ میں جاتا اس میں بھی لوگ، قافلہ دور نکل جاتا ،دن کی تنہائیوں اور رات کی اندھیریوں میں بار ہا بدوی ملے وہ مسلح تھے
اور میں نہتا ،مگر کبھی سواالسلام علیکم و علیکم السلام مساكم الله بالخير والسعادة صبحكم الله بالرضاء والنعيم ) تم پر سلام ہو اور تم پر بھی سلام ہو، اللہ تعالیٰ رات خیر اور صبح مبارک کرے، اللہ اپنی خوشنودی اور انعامات سے نوازے۔) کے اصلا کسی نے کوئی تعرض نہ کیا اللہ الحمد، اتفاقا کہیں کوئی واقعہ ہوجانا بدامنی نہیں کہلاتا، یہاں شہر سے اسٹیشن کو جاتے ہوئے شب میں متعدد واردات ہو چکیں اور رات کو آنولے سے بدایوں جانے میں تو کتنے ہی وقائع ہوئے ، کوئی عاقل ایسے اتفاقیات پر شہر یا راہ میں بدامنی نہ مانے گا پھر وہاں اس حال پر کہ بارہ منزل تک بیچ میں صرف ایک قلعہ رابغ ملتا ہے جگہ جگہ چوکی پہروں کا نشان نہیں، اگر اتفاقی واردات ہو جائیں تو اُس کے باعث بدامنی ماننا، فرضیت حج میں خلل جاننا، ضعف ایمان نہیں، تو کیا ہے لئیم الطبع لوگ جو قافلوں میں بدویوں سے دنائت و خست کا برتاؤ کرتے ہیں
اور اس کے سبب وہ ان کی خدمت گزاری کہ ان پر شرعاً عرفا کسی طرح لازم نہیں، پوری نہیں کرتے ( حالانکہ مشاہدہ وہ تجربہ ہے کہ وہ کریم الطبع بندے قلیل پر کثیر راضی ہو جاتے اور ادنی خدمت گار سے بڑھ کر کام دیتے ہیں ، ہاں خسیس دنی الطبع کوضرور مگر وہ رکھتے ہیں ) اس باعث سے اگر کوئی تکلیف ان سفہاء کو پہنچ جاتی ہے تو انہیں کی لوم وخست کا نتیجہ ہے اسے طرح طرح کی رنگ آمیزیوں کے ساتھ یہاں آ کر بیان کرتے اور محض بے اصل نئی پرانی افواہ اپنے حواشی بڑھا کر مسلمانوں کو سناتے اور انہیں حاضری بارگاہ خدااو ررسول سے بددل کرتے ہیں یہ اُن کی ایمانی حالت کا خاکہ ہے۔
اور اگر معاذ اللہ بدامنی اس حد کی فرض کی جائے، کہ مانع فرضیت حج ہو، تو اب یہ ریل اگر مورث امن و امان بھی لی جائے تو مقدمہ فرض نہ ہوگی کہ بسبب بے امنی حج فرض ہی نہیں ، ہاں مقدمہ فرضیت ہوگی کہ یہ ہو جائے تو حج فرض ہو اور مقدمہ فرضیت، فرض در کنار مستحب بھی نہیں ہوتا، مثلا اتنا مال جمع کرنا کہ حوائج اصلیہ سے بچ کر قد ر نصاب رہے اور اس پر سال گزرے، مقدمہ فرضیت زکوۃ ہے کہ ایسا ہو تو زکوۃ فرض ہو مگر وہ اصلاً مستحب نہیں ، غرض ہر عاقل جانتا ہے کہ اسباب ادائے واجب کا مہیا کرنا واجب ہوتا ہے، نہ کہ اسباب وجوب کا ۔ یہ ان جاہلان عالم نما کی جہالت کار د تھا ور نہ نفس ریل و اعانت چندہ پر فقیر نے کبھی اعتراض نہ کیا، مسلمانوں کو اتنا ضرور ہے کہ اس امر خیر میں ہمت کریں تو ذرائع اطمینان حاصل کر لیں۔
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 06, Fatwa 795 to 797

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top