احرام کی حالت میں لنگوٹ باندھنا کیسا؟
: سوال
ایک شخص عازم بیت اللہ شریف ہے اور اس کے ایک عارضہ یہ ہے کہ بعد اجابت قطرات سرخ زائد از ایک گھنٹہ برابر آیا کرتے ہیں کہ بغیر لنگوٹ نہیں رہ سکتا ہے، بعد ایک گھنٹے کے جب قطرات موقوف ہوں تب استنجا کر کے کپڑا پہنتا ہے تو ایسا شخص بغیر لنگوٹ نہیں رہ سکتا احرام کیونکر باند ھے کیونکہ لنگ احرام تو روز نا پاک ہوا کرے گا اور بسبب پیری اور بیماریوں کے غسل سے بھی جو مجبور ہے تو کیا صرف تیمم کرلئے؟ نیز سردیوں میں سوا چادر احرام کے کوئی کمبل وغیرہ اوپر سے اوڑھ سکتا ہے یا کیا؟
:جواب
احرام میں لنگوٹ باندھنا مطلقا جائز ہے سلا نہ ہو کہ ممانعت لبس مخیط بروجہ معتاد سے ہے یا سر اور منہ کے چھپانے سے اور نا دوختہ لنگوٹ میں دونوں باتیں نہیں۔ اور ایسی ضرورت شدیدہ کی حالت میں تو اگر لنگوٹ نا جائز بھی ہوتا اجازت دی جاتی۔ کمل یا بانات یا اونی چادر وغیرہ بے سلے کپڑے اگر چہ دو چار ہوں اوڑھنے کی اجازت ہے بلکہ سوتے وقت اُو پر روئی کا انگر کھا چغہ لبادہ چہرہ چھوڑ کر بدن پر ڈال لینا یا نیچے بچھا لینا بھی ممنوع نہیں بلکہ بیداری میں بھی انہیں کندھوں پر ڈال سکتا ہے جبکہ آستین میں ہاتھ نہ ڈالے، نہ بند باند ھے، نہ کسی اور ذریعہ سے بندش کر ے ضعیف کمزور کو دو تدبیر ہیں اور ملحو ظ رہیں تو انسب
او لا : تمتع کرے کہ تنہاحج کرنے سے افضل بھی ہے اور احرام کی مدت بھی کم ہوگی یعنی محاذات یلملم سے۔۔۔ صرف عمرے کا احرام باندھے، مکہ معظمہ پہنچتے ہی طواف وسعی سے عمرہ بجا لاکر احرام کھولدے، اب بلا تکلف ہشتم ذی الحجہ تک بلا احرام مکہ معظمہ میں قیام کر سکتا ہے جو چاہے پہنے، اوڑھے، سرے عمامہ باندھے، جو چاہے کرے۔۔۔ بعدہ آٹھویں کو پھر احرام حج کا باند ھے منٰی کو جائے ، عرفات و مزدلفہ سے پلٹ کر دسویں تاریخ جب پھر منٰی میں آئیگا اور جمرۃ العقبہ کی رمی کر کے قربانی جو اس پر بوجہ تمتع واجب تھی بجالائیگا ، اس کے بعد سر منڈ ائے یا بال کتر وائے ، احرام کھل گیا سوا عورتوں کے (کہ بعد طواف زیارت حلال ہوں گی ) جو کچھ احرام نے حرام کیا تھا سب حلال ہو گیا، تو یہ ا حرام پورے تین دن بھی نہ رہا۔
ثانياً : یہاں بمبئی سے دالان کی شکل کی ایک چیزکھیچیوں کی بنوالے جس کی تین دیواریں ہوں ہر ایک آدھ گزیا قدرے زائد کی اور اوپر چھت پٹی ہو اور دروازہ زمین بالکل خالی ہو، تینوں دیوار اور چھت کو روئی وغیرہ جس سے چاہیں منڈھ لیں سو تے وقت سرہانے اس مکان کو رکھ کر سر اس کے دروازہ سے داخل کریں کہ چہرہ اس کے سائے میں رہے، باقی بدن پر کپڑا اڈال لیں ، اب اس مکان کی وجہ سے سر ہوائے سرد سے محفوظ ہو گیا اور رو ( چہرے ) ، وسر کا چھپانا بھی لازم نہ آیا۔ جنابت سے طہارت کے لیے تو آپ ہی تیمیم کرے گا، جبکہ نہانے پر قادر نہ ہو، اور احرام کے وقت جو غسل مسنون ہے اس پر قدرت نہ ہو تو اس کے عوض تیمم مشروع نہیں کہ وہ غسل نظافت کے لیے ہے نہ طہارت کے لیے، کہ طہارت تو حاصل ہے اور تیم سے طہارت ہوتی نہ نظافت بلکہ بدن پر غبار لگنا خلاف نظافت ہے، تو ایسا شخص اس غسل کے عوض کچھ نہ کرے صرف وضو کافی ہے۔
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 05, Fatwa 358

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top