ضعیفہ مریضہ کا حج بدل کروانا کیسا؟
سوال
ایک بیوہ پچپن برس کی عمر ہے، دوبارہ پہلے اپنی طرف سے لوگوں کو بھیج کر حج بدل کرا چکی ہے اُس سے بعض صاحبوں نے کہا کہ وہ حج نہ ہوئے خود حج کو جا، اُس نے محرم نہ ہونے کی وجہ سے نکاح کیا مگر ضعیفہ مریضہ ہے اس صورت میں اس کے وہ حج بدل ادا ہو گئے یا اب خود اس پر حج لازم ہے یا کیا حکم ہے؟
:جواب
زندگی میں جو کوئی حج بدل اپنی طرف سے بوجہ عجز و مجبوری کرائے اس حج کی صحت کے لیے شرط ہے کہ وہ مجبوری آخر عمر تک مستمر رہے، اگر حج کے بعد مجبوری جاتی رہی اور بذات خود حج کرنے پر قدرت پائی تو اس سے پہلے جتنے حج بدل اپنی طرف سے کرائے ہوں سب ساقط ہوگئے حج نفل کا ثواب رہ گیا فرض ادا نہ ہوا، اب اس پر فرض ہےکہ خود حج کرےپھراگر غفلت کی اور وقت گزر گیا اور اب دوبارہ مجبوری لاحق ہوئی تو از سر نو حج بدل کرانا ضرور ہے، ہاں اگر کسی کی معذوری ایسی ہو جو عادة اصلا زوال پذیر نہیں۔
اس نے حج بدل کرلیا اور اس کے بعد بمحض قدرت الہی مثلا کسی ولی کی کرامت سے وہ عذر نا قابل الزوال زائل ہو گیا مثلا اندھے نے حج بدل کرایا تھا پھر رب العزۃ نے اسے آنکھیں دے دیں تو اس کا وہ حج بدل ساقط نہ ہواوہی کافی ہے، خود اگر حج کرے سعادت ہے ورنہ فرض ادا ہو گیا، ایسا زوال عذر کہ کرامت خرق عادت ہو معتبر نہیں۔ مسئلہ شرعیہ تو یہ ہے اور صورت سوال سے ظاہر کہ عورت نے پہلے جو دو حج بدل کرائے یا تو وہ حقیقتہ ایسی مجبوری نہ تھی۔
کہ خود نہ جاسکتی یا مرض وضعف وغیرہا کی وجہ سے مجبوری تھی اور بعد کو وہ مجبوری زائل ہو گئی کہ اس نے خود حج کا قصد کیا جس پر دلیل روشن، اسی نیت سے اس کا نکاح کرنا ہے ورنہ پچپن سالہ عورت کو نکاح کی کیا حاجت تھی ، بہر حال ان دونوں صورتوں میں کوئی شکل ہو وہ دونوں حج بدل یا تو سرے سے ناکافی تھے یا اب ساقط ہو گئے ، صرف ثواب نکل رہا، فرض گردن پر باقی ہے خود ادا کرے، اورمجبور و نا امید ہو تو پھر حج بدل کرائے۔
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 03, Fatwa 109

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top