والدہ کی طرف سے حج کرنے کا ایک مسئلہ
:سوال
امام اہلسنت علیہ الرحمہ کے پیر خانے سے ایک خاتون نے سوال کیا کہ ) میں اس سال جو حج بیت اللہ کوجاتی ہوں تو بارادہ حج بدل اپنے پیر و مرشد جناب نا نا صاحب حضرت شاہ آل رسول رضی اللہ تعالی عنہ کے جاتی ہوں مارہرہ آ کر ایک بات پتا چلی کہ جناب مرحومہ مغفورہ والدہ صاحبہ جو بیت اللہ تشریف لے گئی تھیں وہاں جا کر ان کو مرض الموت پیدا ہوا اور تاریخ آٹھویں ذی الحجہ مقام مٹی پہنچ کر انتقال ہو گیا اور حج نہیں ہوا، تو مجھ پر اب حج والدہ مغفورہ لازمی ہو گیا، چونکہ میں اپنے ہمراہ بھانجے کو لیے جاتی ہوں جس کی عمر 19 سال کی ہے اور یہ پہلی مرتبہ بیت اللہ جاتا ہے تو دریافت طلب آپ سے یہ امر ہے کہ میں اس بچہ سے حج والدہ مغفورہ کرادوں اور خود حج بعوض پیرو شد کروں اور میں سابق میں اپنے شوہر اور اپنے والد مغفور کا حج کر کے آئی ہوں اور میرا ذاتی حج عرصہ اٹھارہ سال ہوا کہ ہو چکا تھا۔
:جواب
اگر حضرت کی والدہ ماجدہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا پر اُسی سال حج فرض ہوا تھا اس سے پہلے کسی برس میں مال وغیرہ اتنانہ تھا کہ حج فرض ہوتا تو جب تو ان کا حج بفضلہ تعالیٰ ادا ہو گیا، بلکہ ایسا ادا ہوا کہ ان شاء اللہ قیامت تک ہر سال حج ادا کرتی رہیں گی، اور اگر اس سال سے پہلے فرض ہو چکا تھا تو البتہ حج فرض اُن پر باقی رہا، حضرت ان کی طرف سے ادا فرمائیں یا ادا اور کرا دیں تو اجر عظیم ہے، اب دیکھا جائے کہ یہ صاحبزادے جب سے بالغ ہوئے کسی سال زمانہ حج میں مال وغیرہ اتنا سامان ان کے پاس تھا کہ ان پر حج فرض ہو گیا یا اب تک ان پر فرض نہ ہوا اور اگر ان پر اصلاً فرض نہ ہوا تو حضرت ان کو والدہ ماجدہ کی طرف سے حج کرادیں اور خود پُر نور پیر و مرشد برحق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے کریں، اور اگر خودان پر حج فرض ہو لیا ہو تو یہ دوسرے کی طرف سے حج کرنے سے گنہگار ہوں گے مگر حج جس کی طرف سے کریں گے ادا ہو جائے گا ان پر گناہ رہے گا اور ایسی صورت میں اُن سے حج غیر کرانا بھی مکروہ ہے کہ ایک گناہ کا حکم دینا ہے۔
(659ص)
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 05, Fatwa 323

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top