منی اور مزدلفہ سے روانگی کے مسائل
:سوال
منی اور مزدلفہ سے رونگی میں کافی مسائل ہوتے ہیں ، لے جانے والے مانتے ہی نہیں، کیا کیا جائے ؟ نیز کیا عورت کی طرف سے رمی کی جاسکتی ہے؟
: جواب
اگر اہل قافلہ مل کر یا ایک ہی شخص جو ان کے نزدیک ذی وجاہت ہو مجبور کریں تو ان کو مانا پڑتا ہے، فقیر کو اس کا تجربہ ہے اور اگر نہ مانیں اور مجبوری ہو تو نویں رات منٰی میں صبح تک ٹھہرنا اور آفتاب چپکنے پر عرفات کو چلنا سنت ہے مجبورانہ اس کے ترک سے حج میں کوئی نقص نہ آئے گا مزدلفہ کی حدود کے اندر دسویں تاریخ کے طلوع صبح صادق سے طلوع آفتاب تک کسی طرح موجود ہونا اگر چہ ایک لحظہ ہوا دائے واجب کے لیے کافی ہے تو اگر حدود مزدلفہ سے نکل جانے سے پہلے صبح صادقی ہوگئی تو واجب ادا ہو گیا
اگر چہ سنت ترک ہوگئی، ہاں اگر اتنی رات سے چل دیا کہ صبح صادق نہ ہونے پائی اور مزدلفہ کی حدود سے نکل گیاتو بے شک واجب ترک ہوا، قربانی دینی آئے گی مگر بدوی ایسا نہیں کرتے۔ اور عورتوں اور نہایت کمزور مردوں اور بیماروں کو بخوف ہجوم خود شرع بھی رات سے چل دینے کی اجازت فرماتی ہے، انہیں کوئی جرمانہ دینا نہ ہوگا، بارہویں تاریخ قبل زوال چل دینے کی ضرور اب وہاں عادت نکالی ہے،
اور یہ ہمارے مذہب و ظاہر الروایۃ میں گناہ ہے، فقیر نے تو جمالوں کو مجبور کیا اور بحمد اللہ ان کو رکنا پڑا کہ میں اور میرے ساتھ کے سب مردو عورت بعد زوال رمی کر کے روانہ ہوئے جہاں وہ ہر گز نہ مانیں اور پیچھے رہ جانے میں اندیشہ صحیح ہو تو یہ صورت مجبوری کی ہے، ضعیف روایت پر عمل کر کے قبل زوال رمی کر کے جا سکتا ہے۔عورت ہو نا رمی میں نیابت کے لیے عذر نہیں ، ہاں ایسا بیمار ہو کہ رمی کو نہ جا سکے تو اس سے اجازت لے کر دوسرا اس کی طرف سے رمی کر سکتا ہے یا جوغشی میں ہو تو اسکی بلا اجازت اسکی طرف سے رمی ہوسکتی ہے۔
READ MORE  نماز کے اندر کتنے فرض ہیں؟ ان کی فرضیت ہر نماز میں یکساں ہے یا صرف فرضی نمازوں کے ساتھ مختص ہے؟ نیز تعدیل ارکان کا کیا حکم ہے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top