کیا پہننے کے زیور پر بھی زکوۃ ہے؟

کیا پہننے کے زیور پر بھی زکوۃ ہے؟

:سوال
کیا سونے کا نصاب ساڑھے سات اور چاندی کا ساڑھے باون تولے ہے؟ کیا پہنے کے زیور پر بھی زکوۃ ہے؟ زید کہتا ہے کہ اگر نصاب کی مقدار سونا چاندی ہو مگر ز کوۃ نکالنے سے اسے خطرہ ہے کہ سال بھر کا خرچہ کیسے چلے گا، بال بچے کہاں سے کھائیں گے؟
: جواب
فی الواقع سونے کا نصاب ساڑھے سات اور چاندی کا ساڑھے باون تولے ہے ان میں سے جو اُس کے پاس ہو اور سال پورا اس پر گزر جائے اور کھانے پہنے مکان وغیرہ ضروریات سے بچے اور قرض اسے نصاب سے کم نہ کر دے تو اس پر زکوۃ فرض ہے اگر چہ پہنے کا زیور ہو زیور پہنا کوئی حاجت اصلیہ نہیں، گھر میں جو آدمی کھانے والے ہوں اس کا لحاظ شریعت مطہرہ نے پہلے ہی فرمالیا، سال بھر کے کھانے پینے پہنے تمام مصارف سے جو بچا اور سال بھر رہا اُس کا تو چالیسواں حصہ فرض مطہرہ نے پہلے ہی فرمالیا، سال بھر کے کھانے پینے پہنے تمام مصارف سے جو بچا اور سال بھر رہا اُسی کا تو چالیسواں حصہ فرض ہوا ہے اور وہ بھی اس لیے کہ تمھیں آخرت میں بھی عذاب سے نجات ملے جس سے آدمی تمام جہان دے کر چھوٹنے کو قیمت سمجھے اور دنیا میں تمھارے مال میں ترقی ہو برکت ہو، یہ خیال کرنا کہ زکوۃ سے مال گھٹے گانِراضعف ایمان ہے۔
مولی تعالی قرآن عظیم میں ارشاد فرماتا ہے کہ وہ زکوة کوترقی وافزونی دیتا رہے جسے وہ بڑھائے وہ کیونکر گھٹ سکتا ہے، یہ خیال کہ اس وقت سو روپیہ سے ڈھائی روپے کمانے میں اُٹھا دیں گے تو آئندہ بال بچے کیا کھائیں گے محض شیطانی وسوسہ ہے۔ آئندہ سال اگر مال بڑھ گیا کہ سال بھر کا بال بچوں سب کا خرچ ہو اوہ روپیہ بدستور رکھے رہے جب تو اس وسوسہ کا جھوٹ ہونا علانیہ ظاہر ہو جائے گا اور اگر ان میں سے کھانے پینے کی حاجت پڑی یہاں تک کہ نصاب سے کم رہ گیا تو اب آپ سے کوئی زکوۃ نہ مانگے گا مگر بال بچوں کی فکر اگلے سال کے لیے کیا ہوگی ، وہ جو جمع تھے کھانے پینے میں اٹھ گئے اور اب زکوۃ بھی نہیں جس کا سر الزام دھرو، آگے کیونکر جیو گے، ایسی کمزوریاں شیطان سکھاتا ہے۔
مزید پڑھیں:صحیح مقدار ز کوۃ معلوم نہ ہو اور فرض مقدار سے کم ادا کی حکم؟
READ MORE  عورت نے شوہر سے مہر لینا ہے، کیا اس پر زکوۃ ہے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top