حج کا بیان: منی کی روانگی اور عرفہ کا وقوف
فصل: چہارم منی کی روانگی اور عرفہ کا وقوف
(1)
ساتویں تاریخ مسجد حرام میں بعد نماز ظہر امام خطبہ پڑھے گا اسے سنو۔
(2)
یوم الترویہ کہ آٹھ تاریخ کا نام ہے جس نے احرام نہ باندھا ہو باندھ لے اور ایک نفل طواف میں رمل وسعی جیسا کہ او پرگزرا۔
(3)
جب آفتاب نکل آئے منی کو چلو اور ہو سکے تو پیادہ کہ جب تک مکہ معظمہ پلٹ کر آؤ گے ہر قدم پر سات سو نیکیاں لکھی جائیں گی سو ہزار کا لاکھ ، سولا کھ کا کروڑ ، سوکروڑ کا ارب ، سو ارب کا کھرب ، یہ نیکیاں تخمینا 78 کھرب 40 ارب ہوتی ہیں، اور اللہ کا فضل اس نبی کے صدقہ میں اس امت پر بے شمار ہے جل و علا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ والحمد الله رب العالمین۔
(4)
راستے بھر لبیک دعا اور در و دو ثنا کی کثرت کرو۔
(5)
جب منی نظر آئے کہو: اللَّهُمَّ هَذِهِ مِنَى فَامْنُنْ عَلَى بِمَا مننتَ بِهِ عَلَى أَوْلِيَائِكَ ترجمہ الہی یہ منیٰ ہے تو مجھ پر وہ احسان کر جو تو نے اپنے دوستوں پر کئے۔
(6)
یہاں رات کو ٹھہرو، آج ظہر سے نویں کی صبح تک پانچ نمازیں مسجد خیف میں پڑھو، آج کل بعض مطوفوں نے یہ نکالی ہے کہ آٹھویں کو منی انہیں ٹھہر تے سیدھے عرفات پہنچتے ہیں، ان کی نہ مانے اور اس سنت عظیمہ کو ہرگز نہ چھوڑے، قافلہ کے اصرار سے ان کو بھی مجبور ہونا پڑے گا۔
(7)
شب عرفہ منیٰ میں ذکر و عبادت سے جاگ کر صبح کر و، سونے کے بہت دن پڑے ہیں، اور نہ ہو تو کم از کم عشاء وصبح تو جماعت اولی سے پڑھو کہ شب بیداری کا ثواب ملے گا، اور با وضو سوؤ کہ روح عرش تک بلند ہوگی۔
(8)
صبح تک مستحب وقت نماز پڑھ کر لبیک وذکر و درود میں مشغول رہو یہاں تک کہ آفتاب کو ہ ثبیر پر کہ مسجد خیف شریف کے سامنے ہے چھکے، اب عرفات کو چلو، دل کو خیال غیر سے پاک کرنے میں کوشش کرو کہ آج وہ دن ہے کہ کچھ کا حج قبول کریں گے اور کچھ ان کے صدقے بخش دیں گے محروم وہ جو آج محروم رہا، وسو سے آئیں تو ان سے لڑائی نہ باندھو کہ یوں بھی دشمن کا مطلب حاصل ہے وہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اور خیال میں لگ جاؤ بڑائی باندھی جائے جب بھی تو اور خیال پڑے، بلکہ ان کی طرف دھیان ہی نہ کرو، یہ مجھ لو کہ کوئی اور وجود ہے جو ایسے خیالات لا رہا ہے مجھے اپنے رب سے کام ہے یوں ان شاء اللہ وہ مردو دونا کام واپس جائے گا۔
(9)
راستے بھر ذ کرو درود میں بسر کرو، بے ضرورت کچھ بات نہ کرو، لبیک کی بار بار کثرت کرتے چلو۔
(10)
جب نگاہ جبل رحمت پر پڑے ان امور میں اور زیادہ کوشش کرو کہ ان شاء اللہ تعالی وقت قبول ہے۔
(11)
عرفات میں اس کوہ مبارک کے پاس یا جہاں جگہ ملے شارع عام سے بچ کر اتر و۔
(12)
آج کے ہجوم میں کہ لاکھوں آدمی ، ہزاروں ڈیرے خیمے ہوتے ہیں، اپنے ڈیرے سے جا کر واپسی میں اس کا ملنا دشوار ہوتا ہے اس لیے پہچان کا نشان قائم کر لو کہ دور سے نظر آئے۔
(13)
مستورات ساتھ ہوں تو ان کے برقعہ پر بھی کوئی خاص کپڑا علامت چمکتے رنگ کا لگا دو کہ دور سے دیکھ کر تمیز کر سکو اور دل میں تشویش نہ رہے۔
(14)
دو پہر تک زیادہ وقت اللہ کے حضور زاری اور با اخلاص نیت حسب استطاعت تصدق و خیرات وذکر و لبیک و ورود دعا و استغفار وکلمہ توحید میں مشغول رہو ، حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: سب سے بہتر وہ چیز جو آج کے دن میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء نے کہی یہ ہے : لا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِ وَيُمِيتُ طَ وَ هُوَ حَى لَّا يَمُوتُ طَ بِيَدِهِ الْخَيْرِطَ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ترجمہ: اللہ کے سواکوئی سچا معبود نہیں، وہ ایک اکیلا ، اس کا کوئی ساتھی نہیں، اس کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے سب خوبیاں، وہی جلائے وہ مارے، اور وہ زندہ ہے کہ کبھی نہ مرے گا، سب بھلائیاں اس کے قبضہ میں ہیں اور وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔
(15)
دو پہر سے پہلے کھانے پینے وغیرہ ضروریات سے فارغ ہو لو کہ دل کسی طرف لگا نہ رہے، آج کے دن جیسے حاجی کو روزہ مناسب نہیں کہ دعا میں ضعف ہوگا، یونہی پیٹ بھر کر کھانا سخت ضرر اور غفلت و کسل (سستی) کا باعث ہے، تین روٹی کی بھوک والا ایک ہی کھائے ۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے تو ہمیشہ کے لیے یہی حکم دیا ہے، اور خود دنیا سے تشریف لے گئے اور جو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہ کھائی حالانکہ اللہ کے حکم سے تمام جہان اختیار میں تھا اور ہے، اور اگر انوار و برکات لینا چاہو تو صرت آج بلکہ حرمین شریفین میں جب تک حاضر ہوتہائی پیٹ سے زیادہ ہرگز نہ کھاؤ ، نہ مانوگے تو اس کا نقصان آنکھوں سے دیکھ لوگے، ہفتہ بھراس پر عمل کر کے تو دیکھو، انکی حالت سے فرق نہ پاؤ جبھی کہنا ، جی بچے تو کھانے پینے کے بہت دن ہیں، یہاں تو نور وذوق کے لیے جگہ خالی رکھو، بھر اتن دوبارہ کیا بھرے گا۔
(16)
جب دو پہر قریب آئے نہاؤ کہ سنت موکدہ ہے اور نہ ہو سکے تو صرف وضو ۔
(17)
دو پہر ڈھلتے ہی بلکہ اس سے پہلے کہ امام کے بقریب جگہ ملے مسجد نمرہ جاؤ سنتیں پڑھ کر خطبہ سن کر امام کے ساتھ ظہر پڑھو، بیچ میں سلام و قیام تو کیا معنی سنتیں بھی نہ پڑھو، اور بعد عصر بھی نقل نہیں، یہ ظہر وعصر ملا کر پڑھنا بھی جائز ہے کہ نماز یا تو سلطان خود پڑھائے یا وہ حج میں اس کا نائب ہو کر آتا ہے، جس نے ظہرا کیلے یا اپنی خاص جماعت سے پڑھی اسے وقت سے پہلے عصر پڑھنا حلال نہ ہوگا، اور جس حکمت کے لیے شرع نے یہاں ظہر کے ساتھ عصر ملانے کا حکم فرمایا ہے یعنی غروب آفتاب تک دعا کے لیے وقت خالی ملنا وہ جاتی رہے گی۔
(18)
خیال کرو جب شرع کو یہ وقت دعا کے لیے فارغ کرنے کا اس قدر اہتمام ہے تو اس وقت اور کام میں مشغولی کس قدر بیہودہ ہے، بعض احمقوں کو دیکھا ہے کہ امام تو نماز میں ہے یا نماز پڑھ کر موقف کو گیا اور وہ کھانے پینے حقے چائے اڑانے میں مصروف ہیں خبردار ایسا نہ کرو، امام کے ساتھ نماز پڑھتے ہی فورا موقف کو روانہ ہو جاؤ، اور ممکن ہو تو اونٹ پر کہ سنت بھی ہے اور ہجوم میں دبنے کچلنے سے محافظت بھی۔
(19)
بعض مطوف اس مجمع میں جانے سے منع کرتے ہیں اور طرح طرح سے ڈراتے ہیں ان کی نہ سنو کہ وہ خاص نزول رحمت عام کی جگہ ہے، ہاں عورات اور کمزور مرد یہیں کھڑے ہوئے دعا میں شامل ہوں کہ بطن عرنہ ( یہ عرفات میں حرم کےنالوں میں سے ایک نالہ ہے مسجد نمرہ کے مغرب یعنی مکہ معظمہ کی طرف وہاں موقف محض نا جائز ہے ) کے سوا یہ سارا میدان موقف ہے اور یہ لوگ بھی تصور یہی کریں کہ ہم اس مجمع میں حاضر ہیں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ نہ سمجھیں ، اس مجمع میں یقیناً بکثرت اولیاء بلکہ الیاس و خضر علیہم الصلوٰة والسلام بنی اللہ موجود ہیں، یہ تصور کریں کہ انوار و برکات جو اس مجمع میں ان پر اتر رہے ہیں ان کا صدقہ ہم بھکاریوں کی بھی پہنچتا ہے، یوں الگ ہو کر بھی شامل رہیں گے، اور جس سے ہو سکے تو وہاں کی حاضری چھوڑنے کی چیز نہیں۔
(20)
افضل یہ ہے کہ امام سے نزدیک جبل رحمت کے قریب جہاں سیاہ پتھر کا فرش ہے رو بقبلہ پیش پشت امام کھڑا ہو جبکہ ان فضائل کے حصول میں وقت یا کسی کی اذیت نہ ہو ورنہ جہاں اور جس طرح ہو سکے وقوف کرو۔ امام کی دہنی جانب اور بائیں رو برو سے افضل ہے، یہ وقوف ہی حج کی جان اور اس کا بڑا رکن ہے۔
(21)
بعض جاہل یہ حرکت کرتے ہیں کہ پہاڑ پر چڑھ جاتے ہیں اور وہاں کھڑے رومال ہلاتے رہتے ہیں اس سے بچو اور ان کی طرف بھی برا خیال نہ کرو، یہ وقت اوروں کے عیب دیکھنے کا نہیں اپنے عیبوں پر شرمساری اور گریہ وزاری کا ہے۔
(22)
اب وہ کہ یہاں ہیں اور کہ ڈیروں میں ہیں سب ہمہ تن صدق دل سے اپنے کریم مہربان رب کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور میدان قیامت میں حساب اعمال کے لیے اس کے حضور حاضری کا تصور کرو، نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ لرزتے ، کانپتے ، ڈرتے، امید کرتے، انکھیں بند کیے، گردن جھکائے ، دست دعا آسمان کی طرف سر سے اونچے پھیلاؤ تکبیر، تہلیل، تسبیح ،لبیک ، حمد، ذکر، دعا، توبہ استغفار میں ڈوب جاؤ، کوشش کرو کہ ایک قطرہ آنسوؤں کا ٹپکے کہ دلیل اجابت و سعادت ہے ورنہ رونے کا سامنہ بناؤ کہ اچھوں کی صورت بھی اچھی، ا اثنائے دعا وذ کر میں لبیک کی بار بار تکرار کرو۔
آج کے دن کی دعائیں بہت منقول ہیں ، اور سب سے بہتر یہ ہے کہ سارا وقت درود، ذکر، تلاوت قرآن میں گزارو کہ بوعدہ حدیث دعا والوں سے زیادہ پاؤگے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا دامن پکڑو، غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے توسل کرو، اپنے گناہ اور اس کی قہاری یاد کرو، بید کی طرح لرز اور یقین جانو کہ اس کی مارسے اسی کے پاس پناہ ہے۔ اس سے بھاگ کر کہیں نہیں جا سکتے، اس کے در کے سوا کہیں ٹھکانا نہیں، لہذا ان شفیعوں کا دامن لیے اس کے عذاب سے اسی کی پناہ مانگو اور اسی حالت میں رہو کہ کبھی اس کی رحمت عام کی امید سے مرجھا یا دل نہال ہوا جاتا ہے اور یونہی تضرع وزاری میں رہو
یہاں تک کہ آفتاب ڈوب جائے اور رات کا لطیف جز آجائے اس سے پہلے کوچ منع ہے، بعض جلد بازدن ہی سے چل دیتے ہیں ان کا ساتھ نہ دو۔ غروب تک ٹھہرنے کی ضرورت نہ ہوتی تو عصر ظہر سے ملا کر پڑھنے کا حکم کیوں ہوتا، اور کیا معلوم کہ رحمت الہی کسی وقت توجہ فرمائے ، اگر تمھارے چل دینے کے بعد اتری تو معاذ اللہ کیسا خسارہ ہے، اور اگر غروب سے پہلے حدود عرفات سے نکل گئے جب تو پورا جرم ہے اور جرمانے میں قربانی دینی آئے گی، بعض مطوف یوں ڈراتے ہیں کہ رات میں خطرہ ہے یہ دو ایک کے لیے ٹھیک ہے اور جب قافلہ کا قافلہ ٹھہرے گا تو ان شاء اللہ کچھ اندیشہ نہیں۔
(23)
ایک ادب واجب الحفظ اس روز کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سچے وعدوں پر بھروسا کر کے یقین کرے کہ آج میں گناہوں سے ایسا پاک ہو گیا جیسا جس دن ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا ، اب کوشش کروں کہ آئندہ گناہ نہ ہوں اور جو داغ اللہ تعالی نے بمحض رحمت میری پیشانی سے دھویا ہے پھر نہ لگے۔
(24)
یہاں یہ باتیں مکروہ ہیں: (۱) غروب آفتاب سے پہلے وقوف چھوڑ کر روانگی جب کہ غروب تک حدود عرفات سے باہر نہ ہو جائے ورنہ حرام ہے۔ (۲) نماز ظہر وعصر ملانے کے بعد موقوف کو جانے میں دیر (۳) اس وقت سے غروب تک کھانے پینے یا توجہ بخدا کسی کام میں مشغول ہونا ، (۴) کوئی دینوی بات کرنا، (۵) غروب پر یقین ہو جانے کے بعد روانگی می تاخیر کرنا (۱) مغرب یا عشاء عرفات میں پڑھنا۔
تنبیه : موقوف میں چھتری لگانے یا کسی طرح سایہ چاہنے سے حتی المقدور بچو، ہاں جو مجبور ہے معذور ہے۔ تنبیه ضروری اشد ضروری بدنگاہی ہمیشہ حرام ہے، نہ کہ احرام میں، نہ کہ موقف میں ، یا مسجد الحرام میں، نہ کہ کعبہ معظمہ کے سامنے، نہ کہ طواف، بیت الحرام میں، یہ تمھارے بہت امتحان کا موقعہ ہے عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ یہاں منہ نہ چھپاؤ اور تمھیں حکم دیا گیا ہے کہ ان کی طرف نگاہ نہ کرو، یقین جانو کہ یہ بڑے عزت والے بادشاہ کی باندیاں ہیں اور اس وقت تم اور وہ سب خاص دربار میں حاضر ہو، بلا تشبیہ شیر کا بچہ اس کی بغل میں ہو اس وقت کون اس کی طرف نگاہ اٹھا سکتا ہے
، تو اللہ تعالی واحد قہار کی کنیزیں کہ اس کے خاص دربار میں حاضر ہیں ان پر بد نگاہی کس قدر سخت ہوگی وَ لِلَّهِ الْمَثَلُ الاعلی (اور اللہ تعالیٰ ہی کی شان سب سے بلند ہے ) ہاں ہاں ہو شیار، ایمان بچائے ہوئے ، قلب و نگاہ سنبھالے ہوئے، جرم وہ جگہ ہے جہاں گناہ کے ارادے پر پکڑا جاتا ہے اور ایک گناہ لاکھ گناہ کے برابر ٹہرتا ہے، الہی ! خیر کی توفیق دے۔ آمین
READ MORE  کیا مردے سنتے ہیں یا نہیں؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top