طواف و سعی صفا و مروہ کا تفصیلی طریقہ و بیان
فصل سوم : طواف و سعی صفا و مروہ کا بیان
اب کہ مسجد الحرام میں داخل ہو اگر جماعت قائم ہو یا نماز فرض خواہ وتر یا سنت موکدہ کے فوت ہونے کا خوف نہ ہو تو سب کاموں سے پہلے متوجہ طواف ہو، کعبہ شمع اور تو پروانہ، دیکھتا نہیں کہ پروانہ شمع کے گرد کیسے قربان ہوتا ہے تو بھی اس شمع پر قربان ہونے کے لیے مستعد ہو جا۔
(1)
شروع طواف سے پہلے مرد اضطباع کرے یعنی چادر کی سیدھی جانب دہنی بغل کے نیچے سے نکالے کہ سیدھا شانہ کھلا رہے اور دونوں آنچل بائیں کندھے پر ڈال لے۔
(2)
اب رو بہ کعبہ حجر اسود کی بائیں طرف رکن یمانی کی جانب سنگ اسود اقدس کے قریب یوں کھڑا ہو کہ تمام پتھر اپنے سیدھے ہاتھ کو ر ہے، پھر طواف كى نيت كرو: اللهم اني اريد طواف بيتك المحرم فيسره لي وتقبله منى –
(3)
اس نیت کے بعد کعبہ کو منہ کیے اپنی دہنی سمت چلو ، جب سنگ اسود کے مقابل ہو ( اور یہ بات اونی حرکت سے حاصل ہو جائے گی) کانوں تک ہاتھ اس طرح اٹھاؤ کہ ہتھیلیاں حجر کی طرف رہیں اور کہو: بسم الله والحمد لله والله اكبر ط والصلوة والسلام على رسول الله
(4)
میسر ہو سکے تو حجر اسود مطہر پر دونوں ہتھیلیاں اور ان کے بیچ میں منہ رکھ کر یوں بوسہ دو کہ آواز پیدا نہ ہو سکے، تین بار ایسا ہی کرو، یہ نصیب ہو تو کمال سعادت ہے، یقینا تمہارے محبوب و مولی محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسے بوسہ دیا اور روئے اقدس اس پر رکھا ہے، زہے خوش نصیبی کہ تمہارا منہ وہاں تک پہنچے ، اور ہجوم کے سبب نہ ہو سکے تو نہ اوروں کو ایذ ادو اور نہ آپ دبو کچلو، بلکہ اس کے عوض ہاتھ سے اور ہاتھ نہ پہنچے تو لکڑی سے سنگ اسود مبارک چھو کر اسے چوم لو، یہ بھی نہ بن پڑے تو ہاتھوں سے اس کی طرف اشارہ کر لے اسے بوسہ دے محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے منہ رکھنے کی جگہ پر نگا ہیں پڑرہی ہیں، یہی کیا کم ہے
(5)
اللہم ایمانا بک و تباعالسنہ نبیک محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کہتے ہوئے در کعبہ تک بڑھو، جب حجر مبارک کے سامنے سے گزر جاؤ ، سیدھے ہو لو خانہ کعبہ کو اپنے بائیں ہاتھ پر لے کر یوں چلو کہ کسی کو ایذا نہ دو۔
(6)
مردر مل کرتا چلے یعنی جلد جلد چھوٹے قدم رکھتا شانے ہلا تا جیسے قوی و بہادر لوگ چلتے ہیں، نہ کودتا، نہ دوڑتا، جہاں زیادہ ہجوم ہو جائے اور رمل میں اپنی یا غیر کی ایذا ہو اتنی دیر رمل ترک کرو،
(7)
طوف میں جس قدر خانہ کعبہ سے نزدیک ہو بہتر ہے مگر نہ اتنے کہ چشتہ دیوار پر جسم یا کپڑا لگے اور نزدیکی میں کثرت ہجوم کے سبب رمل نہ ہو سکے تو دوری بہتر ہے۔
(8)
جب ملتزم، پھر رکن عراقی ، پھر میزاب الرحمة ، پھر رکن شامی کے سامنے آؤ تو یہ سب دعا کے مواقع ہیں، ان کے لیے خاص خاص دعا ئیں کہ جو جواہر البیان شریف میں مذکور ہیں سب کا یاد کرنا دشوار ہے اس سے وہ اختیار کرو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سچے وعدے سے تمام دعاؤں سے بہتر و افضل ہے یعنی یہاں اور تمام مواقع میں اپنے لیے دعا کے بدلے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر درود بھیجو، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں ((اذا يكفى همك ويغفر لك ذنبك)) ايسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ تیرے سب کام بنا دے گا اور تیرے گناہ معاف فرمادے گا۔
(الترغيب والتربيب ج 2 ص 501 مصطفی البابی مصر)
(9)
طواف میں دعا درود کے لیے رکو نہیں بلکہ چلتے میں پڑھو۔
(10)
دعا و ورود چلا چلا کر نہ پڑھو جس طرح مطوف پڑھاتے ہیں بلکہ آہستہ اس قدر کہ اپنے کان تک آواز آئے۔
(11)
جب رکن یمانی کے پاس آؤ تو اسے دونوں ہاتھ یا دہنے ہاتھ سے تبر کا چھوؤ، نہ صرف بائیں ہاتھ سے، اور چاہو تو اسے بوسہ بھی دو، اور نہ ہو سکے تو یہاں لکڑی سے چھوٹا یا اشارہ کر کے ہاتھ چومنا نہیں۔
(12)
جب اس سے بڑھو تو یہ مستجاب (ہے) جہاں ستر ہزار فرشتے دعا پر آمین کہیں گے ، اپنے اور سب احباب مسلمین اور اس حقیر وذلیل کی نیت سے صرف درود شریف کافی ہے۔
(13)
اب جو دوبارہ حجر تک آئے یا ایک پھیرا ہوا، یونہی سات پھیرے کر و مگر ہاقی پھیروں میں وہ نیت کرنا نہیں کہ نیت تو ابتداء میں ہو چکی ، اور رمل صرف اگلے (پہلے) تین پھیروں میں ہے، اور باقی چار میں آہستہ بے جنبثں شانہ معمولی چال سے چلو۔
(14)
جب ساتوں پھیرے ہو جائیں ، آخر میں پھر حجر اسود کو بوسہ دو یا وہی طریقے ہاتھ یا لکڑی کے بر تو ۔
(15)
بعد طواف مقام ابراہیم میں آکر آیہ کریمہ ﴿ وَاتخدُوا مِنْ مُقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى ( اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ) پڑھ کر دو رکعت طواف کہ واجب ہیں قل یا اور قل ھو اللہ سے پڑھو، اگر وقت کراہت مثلا طلوع صبح سے بلندی آفتاب تک یا دو پہر یا نماز عصر کے بعد غروب تک نہ ہو، ورنہ وقت نکل جانے پر بعد کو پڑھو، یہ رکعتیں پڑھ کر دعا مانگو۔
(16)
پھر ملتزم پر جاؤ اور قریب حجر اس سے لپٹو اور اپنا سینہ اور پیٹ اور کبھی دہنا رخسارہ کبھی ہایاں رخسارہ اس پر رکھو اور دونوں ہاتھ سر سے اونچے کر کے دیوار پر پھیلاؤ یا ہا ہاتھ دروازے اور بایاں سنگ اسود کی طرف، اور یہاں کی دعا یہ ہے ( يَا وَاجدُ یا مَا جِدٌ لا تَزِلُ عَنى نِعْمَةُ انعَمتَ بِهَا عَلَى ) ترجمہ: اے قدرت والے اے عزت والے مجھ سے زائل نہ کر جونعمت تو نے مجھے بخشی ہے۔ حدیث میں فرمایا : میں جب چاہتا ہوں جبریل کو دیکھتا ہوں کہ ملتزم سے لیٹے ہوئے یہ دعا کر رہے ہیں۔
(17)
پھر زمزم پر آؤ اور ہو سکے تو خواہ ایک ڈول کھینچو ورنہ بھرنے والوں سے لے لو اور کعبہ کو منہ کر کے تین سانسوں میں پیٹ بھر کے جتنا پیا جائے پیو، ہر بار بسم اللہ سے شروع اور الحمد اللہ پر ختم، باقی بدن پر ڈال لو اور پیتے وقت دعا کرو کہ قبول ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: زمزم جس مراد سے پیا جائے اس کے لیے ہے، حاضری مکہ معظمہ تک پینا تو بار بار نصیب ہوگا، قیامت کی پیاس سے بچنے کے لیے پیو، کبھی عذاب قبر سے محفوظی کو کبھی محبت رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو بھی وسعت رزق ، کبھی شفائے امراض ، کبھی حصول علم و غیر ہا خاص مرادوں کے لیے پیو۔
(18)
وہاں جب پیو خوب پیٹ بھر کر پیو، حدیث میں ہے: ہم میں اور منافقوں میں یہ فرق ہے کہ وہ زمزم کوکھ بھرکر نہیں پیتے۔
(19)
چاہ زمزم کے اندر بھی نظر کرو کہ بحکم حدیث دافع نفاق ہے۔
(20)
اب اگر کوئی عذر تکان وغیرہ کا نہ ہو تو ابھی ور نہ آرام لے کر صفا مروہ میں سعی کے لیے پھر حجر اسود کے پاس آؤ اور اسی طرح تکبیر وغیرہ کہہ کر چومو، اور نہ سکے تو اس کی طرف منہ کر کے فورا باب صفا سے جانب صفا روانہ ہو، دروازے سے پہلے بایاں پاؤں نکالو اور دہنا پہلے جوتے میں ڈالو، اور یہ ادب ہر مسجد سے باہر آتے ہمیشہ ملحوظ رکھو۔
(21)
ذکر و درود میں مشغول صفا کی سیڑھیوں پر اتنا چڑھو کہ کعبہ معظمہ نظر آئے (اور یہ بات جہاں پہلی ہی سیڑھی سے حاصل ہے) پھر رخ بہ کعبہ ہوکر دونوں ہاتھ دعا کی طرح پہلے شانوں تک اٹھا اور دیر تک تسبیح وتہلیل و درد دو دعا کرد کہ محل اجابت ہے ، پھر اتر کر ذکر و درود میں مشغول مروہ کو چلو ۔
(22)
جب پہلا میل آئے مرد دوڑ نا شروع کریں ( مگر نہ حد سے زائد نہ کسی کو ایذا دیتے ) یہاں تک کہ دوسرے میں سے نکل جائیں۔
(23)
دوسرے میل سے نکل کر پھر آہستہ ہولو یہاں تک کہ مروہ پہنچو، یہاں پہلی سیڑھی چڑھنے بلکہ اس کے قریب کھڑے ہونے سے مروہ پر صعود مل جاتا ہے، یہاں اگر چہ عمارتیں بن جانے سے کعبہ نظر نہیں آتا مگر رو بہ کعبہ ہو کر جیسا صفا پر کیا تھا کرو، یہ ایک پھیرا ہوا۔
(24)
پھر صفا کو جاؤ پھر آؤ، یہاں تک کہ ساتواں پھیرا مروہ پر ختم ہو، ہر پھیرے میں اسی طرح کریں، اس کا نام سعی ہے۔ واضح ہو کہ عمرہ صرف انہی افعال طواف وسعی کا نام ہے، قران و تمتع والے کے لیے بھی یہی عمرہ ہو گیا اور افراد والے کے لیے یہ طواف قدوم ہو ا یعنی حاضری دربار کا مجرا
(25)
قارن یعنی جس نے قران کیا ہے اس کے بعد طواف قدوم کی نیت سے ایک طواف وسعی اور بجالائے۔
(26)
قارن اور مفرد جس افراد کیا تھا لبیک کہتے ہوئے احرام کے ساتھ مکہ میں ٹھہریں، ان کی لبیک دسویں تاریخ رمی جمرہ کے کے وقت وفا ختم ہوگی ؟ جبھی احرام احرام سے نکلیں گے جس کا ذکر ان شاء اللہ تعالیٰ آتا ہے، مگر متمتع جس نے تمتع کیا تھا وہ اور معتمر یعنی نرا عمرہ کرنے والا شروع طواف کعبہ معظمہ سے سنگ اسود شریف کا پہلا بوسہ لیتے ہی لبیک چھوڑ دیں اور طواف وسعی مذکور کے بعد حلق یعنی مرد سارا سر منڈا دیں یا تقصیر یعنی مرد و عورت بال کتر وائیں اور احرام سے باہر آئیں، پھر متمتع چاہے تو آٹھویں ذی الحجہ تک بے احرام رہے، مگر افضل یہ ہے کہ جلد حج کا احرام باندھ لے، اگر یہ خیال نہ ہو کہ دن زیادہ ہیں یہ قیدیں نہ نبھیں گی۔
تنبیه : طواف قدوم میں اضطباع ورمل اور اس کے بعد صفا و مروہ میں سعی ضرور نہیں، مگر اب نہ کرے گا تو طواف الزیارت میں کہ حج کا طواف فرض ہے جس کا ذکر ان شاء اللہ آتا ہے، یہ سب کام کرنے ہوں گے، اور اس وقت ہجوم بہت ہوتا ہے عجب نہیں کہ طواف میں رمل اور مسعی میں دوڑنا نہ ہو سکے اور اس وقت ہو چکا تو طواف میں ان کی حاجت نہ ہوگی ، لہذا ہم نے ان کو مطلقا داخل ترکیب کر دیا۔
(27)
مفرد و قارن تو حج کے رمل وسعی سے طواف قدوم میں فارغ ہو لیے مگر متمتع نے جو طواف وسعی کیے وہ عمرہ کے تھے، حج کے رمل وسعی اس سے ادا نہ ہوئے اور اس پر طواف قدوم ہے نہیں کہ قارن کی طرح اس میں یہ امور کر کے فراغت پالے، لہذا اگر وہ بھی پہلے سے فارغ ہو لینا چاہے تو جب حج کا احرام باندھے گا اس کے بعد ایک نفل طواف میں رمل وسعی کرے اب اسے طواف الزیارت میں ان کی حاجت نہ ہوگی۔
(28)
اب یہ سب حجاج ( قارن ، متمتع ، مفرد، کوئی ہو) کہ منی جانے کے لیے مکہ معظمہ میں آٹھویں تاریخ کا انتظار کر رہے ہیں، ایام اقامت میں جس قدر ہو سکے نرا طواف بے اضطباع ورمل وسعی کرتے رہیں، باہر والوں کے لیے یہ سب سے بہتر عبادت ہے اور ہر سات پھیروں پر مقام ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام میں دو رکعت پڑھیں۔
(29)
اب خواہ منی سے واپسی پر جب کبھی رات میں جتنی بار کعبہ معظمہ پرنظر پڑے لا إله إلا الله والله اكبر تین تین بار کہیں اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر درود بھیجیں، دعا کریں کہ یہ وقت قبول ہے۔
(30)
طواف اگر چہ نفل ہو اس میں یہ باتیں حرام ہیں : (1) بے وضو طواف کرنا (۲) کوئی عضو جوستر میں داخل ہے اس کا چہارم کھلا ہونا مثلا ران یا آزاد عورت کا کان، (۳) بے مجبوری سواری پر یا کسی کی گود میں یا کندھوں پر طواف کرنا، (۴) بلا عذر بیٹھ کر سر کنایا گھٹنوں چلنا، (۵) کعبہ کوداہنے ہاتھ پر لے کر الٹا طواف کرنا ، (۲) طواف میں حطیم کے اندر ہو کر گزرنا (۷) سات پھیروں سے کم کرنا۔
(31)
یہ باتیں طواف میں مکروہ ہیں: (۱) فضول بات کرنا ، (۲) بیچنا، خریدنا (۳) حمد و نعت و منقبت کے سوا کوئی شعر پڑھنا، (۴) ذکر یا دعا یا تلاوت یا کوئی کلام بلند آواز سے کرنا۔ (۵) ناپاک کپڑے میں طواف کرنا، (۶) رم7ل یا اضطباع یا بوسہ سنگ اسود جہاں جہاں ان کا حکم ہے ترک کرنا ، (۷) طواف کے پھیروں میں زیادہ فاصلہ دینا یعنی کچھ پھیرے کر لیے پھر دیر تک ٹھہر گئے یا اور کسی کام میں لگ گئے، باقی پھیرے بعد کو کیے مگر وضو جاتا رہا تو کر آئے یا جماعت قائم ہوئی اور اس نے نماز ابھی نہ پڑھی ہو تو شریک ہو جائے بلکہ جنازہ کی جماعت میں بھی طواف چھوڑ کر مل سکتا ہے، باقی جہاں سے چھوڑا تھا آ کر پورا کرے، یوں ہی پیشاب پاخانہ کی ضرورت ہو تو چلا جائے وضو کر کے باقی پورا کرے،
(۸) ایک طواف کے بعد جب تک اس کی رکعتیں نہ پڑھ لیں دوسرا طواف شروع کر دیتا مگر کراہت نماز کا وقت ہو جیسے صبح صادق سے طلوع آفتاب یا نماز عصر پڑھنے کے بعد سے غروب آفتاب تک کہ اس میں متعدد طواف بے فصل نماز جائز ہیں، وقت کراہت نکل جائے تو ہر طواف کے لیے دو رکعت ادا کرے، (۹) خطبہ امام کے وقت طواف کرنا ، ہاں اگر خود پہلی جماعت میں پڑھ چکا تو باقی جماعتوں کے وقت طواف کرنے میں حرج نہیں اور نمازیوں کے سامنے سے گزرسکتا ہے کہ طواف بھی مثل نماز ہی ہے، (۱۰) طواف میں کچھ کھانا ، (1) پیشاب یا پاخانہ تاریخ کے تقاضے میں طواف کرنا۔
(32)
یہ باتیں طواف وسعی دونوں میں مباح ہیں: (۱) سلام کرنا، (۲) جواب دینا، (۳) پانی پینا، (۴) حمد ونعت و منقبت کے اشعار آہستہ پڑھنا ، (۵) اور سعی میں کھانا کھا سکتا ہے۔ (۶) حاجت کے لیے کلام کرنا فتویٰ پوچھنا فتویٰ دینا۔
(33)
طواف کی طرح سعی بھی بلا ضرورت سوار ہو کر یا بیٹھ کرنا جائز و گناہ ہے۔
(34)
سعی میں یہ باتیں مکروہ ہیں : (1) بے حاجت اس کے پھیروں میں زیادہ فصل دینا مگر جماعت قائم ہو تو چلا جائے، یونہی شرکت جنازہ یا قضائے حاجت یا تجدید وضو کو اگر چہ سعی میں ضرور نہیں، (۲) خرید و فروخت، (۳) فضول کلام، (۴) صفایا مروہ پر نہ چڑھنا، (۵) مرد کا سعی میں بلا عذر نہ دوڑنا، (۶) طواف کے بعد بہت تاخیر کر کے سعی کرنا ، (۷) ستر عورت نہ ہونا ، (۸) پریشان نظری یعنی ادھر اُدھر فضول دیکھنا سعی میں بھی مکروہ ہے اور طواف میں اور زیادہ مکروہ۔ مسئلہ: بے وضو بھی سعی میں کوئی حرج نہیں ، ہاں با وضو مستحب ہے۔
(35)
طواف وسعی کے سب مسائل مذکورہ میں عورتیں بھی شامل ہیں مگر اضطباع، رمل، سعی میں دوڑنا ان کے لیے نہیں، مزاحمت کے ساتھ بوسہ سنک اسود یا مس رکن یمانی یا قرب کعبہ یا زمزم کے اندر نظر یا خود پانی بھرنے کی کوشش نہ کریں، یہ باتیں یوں مل سکیں کہ نامحرم سے بدن نہ چھوئے تو خیر ورنہ الگ تھلگ رہنا اس کے لیے سب سے بہتر ہے۔
READ MORE  کسی چیز کی ایڈوانس قیمت ادا کر دی تو کیا اس پر زکوۃ ہو گی؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top