حج کے سفر کے آداب
فصل اول: آداب سفر
(1)
جس کا قرض آتا ہو یا امانت پاس ہو ادا کرے، جن کے مال ناحق لیے ہوں واپس دے یا معاف کرائے، پتا نہ چلے تو مال فقیروں کو دے دے۔
(2)
نماز ، روزہ ، زکوۃ جتنی عبادات ذمہ پر ہوں ادا کرے اور تائب ہو۔
(3)
جس کی بے اجازت سفر مکروہ ہے جیسے ماں ، باپ، شوہر، اسے رضا مند کرے جس کا اس پر قرض آتا ہے، اس وقت نہ دے سکے تو اس سے بھی اجازت لے، پھر بھی حج کسی کی اجازت نہ دینے سے رک نہیں سکتا، اجازت میں کوشش کرے نہ ملے جب بھی چلا جائے۔
(4)
اس سفر سے مقصود صرف اللہ ورسول ہوں۔
(5)
عورت کے ساتھ جب تک شوہر یا محرم بالغ قابل اطمینان نہ ہو جس سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے سفر حرام ہے، اگر کرے گی حج ہو جائے گا مگر ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا۔
(8)
تو شہ مال حلال سے ہو ور نہ قبول حج کی امید نہیں اگر چہ فرض اتر جائے گا۔
(7)
حاجت سے زیادہ تو شہ لے کر رفیقوں کی مدد اور فقیروں پر صدقہ کرتا چلے، یہ حج مبرور ( مقبول ) کی نشانی ہے۔
(8)
عام کتب فقہ بقدر کفایت ساتھ لے ورنہ کسی عالم کے ساتھ چلا جائے ، یہ بھی نہ ملے تو کم از کم یہ رسالہ ہمراہ ہو۔
(9)
آئینہ سر مہ کنگھا، مسواک ساتھ رکھے کہ سنت ہے۔
(10)
اکیلا سفر نہ کرے کہ منع ہے، رفیق دیندار ہو کہ بددین کی ہمراہی سے اکیلا بہتر ہے۔
(11)
حدیث میں ہے: جب تین آدمی سفر کو جائیں اپنے میں ایک کو سردار بنالیں، اس میں کاموں کا انتظام رہتا ہے،سردار ا سے بنائیں جو خوش خلق، عاقل دیندار ہو ، سردار کو چاہئے رفیقوں کے آرام کو اپنی آسائش پر مقدم رکھے۔
(12)
چلتے وقت اپنے دوستوں عزیزوں سے ملے اور اپنے قصور معاف کرائے ، اور ان پر لازم ہے کہ دل سے معاف کر دیں، حدیث میں ہے کہ جس کے پاس اس کا مسلمان بھائی معذرت لائے واجب ہے کہ قبول کرلے ورنہ حوض کوثر پر آنا نہ ملے گا۔
(الترغيب التربيب ، ج 3 ص 491، دار الكتاب العربی، بیروت)
(13)
وقت رخصت سب سے دعا لے کر برکت پائے گا۔
(14)
ان سب کے دین، جان، اولاد، مال ، تندرستی، عافیت خدا کو سونپے۔
(15)
لباس سفر پہن کر گھر میں چار رکعت نفل ، الحمد وقل سے پڑھ کر باہر نکلے، وہ رکعتیں واپس آنے تک اس کے اہل و مال کی نگہبانی کریں گی۔
(16)
جدھر سفر کو جائے جمعرات یا ہفتہ یا پیر کادن ہو، اور صبح کا وقت مبارک ہے، اور اہل جمعہ کو روزجمعہ قبل جمعہ سفر اچھا نہیں۔
(17)
جس شہر میں جائے وہاں کے سُنی عالموں اور با شرع فقیروں کے پاس ادب سے حاضر ہو، مزارات کی زیارت
کرے، فضول سیر تماشے میں وقت نہ کھودے۔
(18)
جس عالم کی خدمت میں جائے وہ مکان میں ہو تو آوا نہ دے باہر آنے کا انتظار کرے اس کے حضور بے ضرورت کلام نہ کرے، بے اجازت لیے مسئلہ نہ پوچھے، اس کی کوئی بات اپنی نظر میں خلافت شرع ہو تو اعتراض نہ کرے اور دل میں نیک گمان رکھے، مگر یہ سنی عالم کے لیے، ہر مذہب کے سامنے سے بھاگے۔
(19)
ذکر خدا سے دل بہلائے کہ فرشتہ ساتھ رہے گا، نہ کہ شعر و لغویات سے کہ شیطان ساتھ ہو گا ، رات کو زیادہ چلے کہ سفر جلد طے ہوتا ہے۔
(20)
دوستوں کے لیے کچھ نہ کچھ تحفہ ضرور لائے اور حاجی کا تحفہ تبرکات حرمین شریفین سے زیادہ کیا ہے اور دوسرا تحفہ دعا کہ مکان میں پہنچنے سے پہلے استقبال کرنے والوں اور سب مسلمانوں کے لیے کرے کہ قبول ہے۔
READ MORE  چاند دیکھنے سے متعلق کچھ ضروری مسائل

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top