محرم نہ ہو تو عورت کیے حج کرے؟
:سوال
ادائے حج ہندہ پر مدت سے فرض تھا اب جانے کا قصد کیا تو یہ جانے کے لیے کوئی صالح محرم نہیں، ایک محرم ہے مگر فاسق ہے، یا شوہر کا بھتیجا ہے یا پھر ایک عورت متقییہ کا ساتھ جانا ممکن ہے، کیا کرے؟
:جواب
عورت کو بغیر محرم کے حج خواہ کسی اور کام کے واسطے سفر کرنا نا جائز ہے اور بھتیجا شو ہر کا محرم نہیں، اور محرم فاسق بیکار ہے اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے اور معیت زن متقیہ کی امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک کافی نہیں لیکن اگر بغیر محرم کے چلی گئیاور حج کر لیا تو فرض ساقط اور حج مع الکراہتہ ادا، اس فعل نا جائز کی معصیت جُدا۔ پس جب ہندہ پر بسبب اجتماع شرائط کے حج فرض ہو گیا تھا اور اب معیت محرم کی نہیں ملتی تو چارہ کار یہی ہے کہ نکاح کرے، اگر یہ خوف ہو کہ شاید اس نے نکاح کر لیا اور پھر نہ گیا تو یہ پھنس گئی اور حج بھی نہ ہوا، یا اندیشہ ہو کہ شوہر موافق مزاج نہ نکلے چاہئے تو تھا چند روز کےلیے اور پابند ہوگئی عمر بھر کی، یا سرے سے اسے پابند شو ہر رہنا منظور ہی نہ ہو ، صرف اس ضرورت کی رفع تک نکاح چاہئے۔
تو اقول ( میں کہتا ہوں ) اس کی تدبیر یہ ہے کہ اس شرط پر نکاح کرے کہ اگر تو اس سال میرے ساتھ حج کو نہ جائے تو مجھ پر ایک طلاق بائن ہو اور جب بعد حج میں واپس آؤں اور اپنے مکان میں قدم رکھوں تو فورا مجھ پر طلاق بائن ہو ، یوں اگر وہ نہ گیا تو طلاق ہو جائے گی اور اگر گیا تو واپسی پر عورت جو وقت اپنے مکان میں قدم رکھے گی نکاح سے نکل جائے گی۔ اور بہتر اور آسان تر یہ ہے کہ اس شرط پر نکاح کرے کہ مجھے ہر وقت اپنے نفس کا اختیار ہو کہ جب کبھی چاہوں اپنے آپ کو ایک طلاق بائن دے لوں، یوں اس کے نہ جانے یا واپس آنے پر اور اس کے بعد بھی ہر وقت عورت کو اختیار رہے گا مرضی ہو اس کی زوجیت میں رہے، نہ مرضی ہو اپنے آپ کو ایک طلاق بائن دے کر جُدا ہو جائے۔
(701،702ص)
READ MORE  حج بدل کی کیا کیا شرائط ہیں؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top