صحابہ کرام کے اہل قبور سے کلام کرنے کے کچھ واقعات
:سوال
صحابہ کرام کے اہل قبور سے کلام کرنے کے کچھ واقعات بیان فرمادیجئے۔
:جواب
عبد اللہ بن عمر فاروق ا اعظم رضی اللہ تعالی عنہا فر ماتے ہیں
جاء اعرابی الى النبي صلى الله تعالى فذكر الحديث الى ان قال قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم حيثما مررت بقبر مشرك فبشره بالنار، قال فأسلم الاعرابي بعد وقال لقد كلفني رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم تعبأ ما مررت بقبر كافر الا بشرته بالنار
يعنی نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے فرمایا: جہاں کسی مشرک کی قبر پر گزرے اسے آگ کا مژدہ دینا۔ اس کے بعد وہ اعرابی
مسلمان ہو گیا تو وہ صحابی فرماتے ہیں مجھے مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس ارشاد سے ایک مشقت میں ڈالا کسی کافر کی قبر پر میرا گذر نہ ہوا مگر یہ کہ اسے آگ کا مژدہ دیا۔
(سنن ابن ماجہ ص 114، ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی)
امیر المؤمنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے
(انه مر بالبقيع فقال السلام عليكم يا أهل القبور اخبار ما عندنا ان نساء كم قد تزوجن ودياركم قد سكنت وأموالكم قد فرقت فأجابه ها تف يا عمر ابن الخطاب اخبار ما عندنا ان ما قدمناه فقد وجدناه وما انفقنا فقد ربحناه وما خلفناه فقد خسرناه )
یعنی ایک بار امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالی نے بقیع پر گزرے اہل قبور پر سلام کر کے فرمایا: ہمارے پاس کی خبریں یہ ہی کہ تمھاری عورتوں نے نکاح کر لیے اور تمھارے گھروں میں اور لوگ بسےتمھارے مال تقسیم ہوگئے ۔ اس پر کسی نے جواب دیا: اے عمر بن الخطاب ! ہمارے پاس کی خبریں یہ ہیں کہ ہم نے جو اعمال کئے تھے یہاں پائے اور جو راہ خدا میں دیا تھا اس کا نفع اٹھایا اور جو پیچھے چھوڑا وہ ٹوٹے میں گیا۔
(شرح الصدور، ص 87 ، خلافت اکیڈمی ، سوات )
سعید بن المسیب سے روایت ہے، فرماتے ہیں
قال دخلنا مقابر المدينة مع علی ابن ابی الطالب فنادي يا اهل القبور السلام عليكم ورحمة الله تخبرونا بأخباركم تريدون ان نخبركم قال فسمعت صوتا و عليك السلام ورحمه الله وبركاته يا امير المومنين اخبرنا عما كان بعدنا فقال على رضى الله تعالى عنه اما ازواجكم فقد تزوجن واما اموالكم فقد اقتسمت و اولاد فقد حشر وا في زمرة اليتامى والبناء الذي شيدتم فقد سكن اعدائكم فهذه اخبار ما عندنا فما عندكم فأجابه ميت فقد تخرفت الاكفان وانتثرت الشعور وتقطعت الجلود وسالت الاحداق على الخدود وسألت منأخير بالقيح والصديد وما قدمناه ربحناه وما خلفناه خسرنا ونحن مرتهنون بالاعمال)
ہم مولی علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ہمرکاب مقابر مدینہ طیبہ میں داخل ہوئے، حضرت مولا علی نے اہل قبر پر سلام کر کے فرمایا تم ہمیں اپنی خبریں بتاؤ گے یا یہ چاہتے ہو کہ ہم تمھیں خبر دیں؟ سعد بن مسیب فرماتے ہیں: میں نے آواز سنی کسی نے حضرت انے حضرت مولی علی کو جواب سلام ب سلام دے کر عرض کی: امیر المومنین! آپ بتائیے ہمارے بعد کیا گذری؟ امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: تمھاری عورتوں نے تو نکاح کر لیے، اور تمھارے مال سو وہ بٹ گئے، اور اولا دیتیموں کے گروہ میں اٹھی، اور وہ تعمیر جس کا تم نے استحکام کیا تھا اس میں تمھارے دشمن ہے، ہمارے پاس کی خبریں تو یہ ہیں اب تمھارے پاس کیا خبر ہے؟ ایک مردے نے عرض کی کہ کفن پھٹ گئے ، بال جھڑ پڑے، کھالوں کے پرزے پرزے ہو گئے، آنکھوں کے ڈھیلے بہہ کر گالوں تک آئے نتھنوں سے پیپ اور گندا پانی جاری ہے اور جو آگے بھیجا تھا اس کا نفع ملا اور جو پیچھے چھوڑا اسکا خسارہ ہوا اور اپنے اعمال میں محبوس ہیں ۔
(شرح الصدور ہی 87، خلافت اکیڈی سوات )
عہد فاروقی میں ایک جوان عابد تھا۔ امیر المؤمنین اس سے بہت خوش تھے، دن بھر مسجد میں رہتا، بعد نماز عشاء باپ کے پاس جاتا ، راہ میں ایک عورت کا مکان تھا اس پر عاشق ہوگئی، ہمیشہ اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتی، جوان نظر نہ فرماتا، ایک شب قدم نے لغزش کی ، ساتھ ہولیا، دروازے تک گیا، جب اندر جانا چاہا خدایاد آ گیا اور بے ساختہ یہ آیہ کریمہ زبان سے نکلی
ان الذين اتقوا اذا مسهم طائف من الشيطن تذكروا فاذاهم مبصرون.
کے ڈروالوں کو جب کوئی جھپٹ شیطان کی پہنچی ہے خدا کو یاد کرتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
آیت پڑھتے ہی غش کھا کر گرا عورت نے اپنی کنیز کے ساتھ اٹھا کر اس کے دروازے پر ڈال ، باپ منتظر تھا، آنے میں دیر ہوئی ، دیکھنے نکلا، دروازے پر بیہوش پڑا پایا۔ گھر والوں کو بلا کر اندر اٹھوایا، رات گئے ہوش آیا ، باپ نے حال پوچھا، کہا خیر ہے، کہا بتا دے، ناچار قصہ کہا، باپ بولا جان پدر! وہ آیت کون سی ہے؟ جوان نے پھر پڑھی، پڑھتے ہی غش آیا، جنبش دی، مردہ پایا، رات ہی کونہلا کفناکروفن کر دیا،صبح کو امیر المؤمنین نے خبر پائی، باپ سے تعزیت اور خبر نہ دینے کی شکایت فرمائی، عرض کی یا امیر المومنین رات تھی، پھر امیر المومنین ہمراہیوں کو لے کر تشریف لے گئے ، آگے لفظ حدیث یوں ہیں
( فقال عمر يافلان ولمن خاف مقام ربه جنتن، فأجابه الفتى من داخل القبر يا عمر قد اعطانيها ربي في الجنة مرتين)
یعنی امیر المومنین نے جوان کا نام لے کر فرمایا : اے فلان ! جو اپنے رب کے پاس کھڑے ہونے کاڈر کرے اس کے لیے دو باغ ہیں، جوان نے قبر میں سے آواز دی، اے عمر! مجھے میرے رب نے یہ دولت عظمی جنت میں دوبار عطا فرمائی۔
(کنز العمال، 2 ص 516، موسستہ الرسالہ، بیروت)
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 04, Fatwa 154

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top