فوت شدگان سلام کے علاوہ کلام اور آوازیں سنتے ہیں
:سوال
فوت شدگان سلام کے علاوہ کلام اور آوازیں سنتے ہیں ، اس بارے میں دلائل ارشاد فرمادیجئے۔
:جواب
حضور پر نو رسید العالم صلی اللہ تعلی علیہ وسلم فرماتے ہیں
( ان الميت اذا وضع في قبره انه يسمع خفق نعالهم اذا انصر فوا)
مردہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور لوگ دفن کر کے پلٹتے ہیں بیشک وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے۔
صحیح مسلم ، ج 2 ، ص 386 ، قدیمی کتب خانہ، کراچی)
سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا
( ان الميت يسمع خفق نعالهم اذا ولو امدبرین)
بیشک مردہ جوتیوں کی پہچل سنتا ہے جب لوگ اسے پیٹھ دے کر پھرتے ہیں۔
(مسند احمد بن حنبل ، ج 4، ص 296 ، دار الفکر، بیروت)
سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ سلم فرماتے ہیں
( ان الميت اذا دفن يسمع خفق نعالهم اذا ولوا عنه منصر فين )
بیشک جب مردہ دفن ہوتا ہے اور لوگ واپس آتے ہیں وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے۔
(کنز العمال بحو الہ طبرانی ج 15 ص600 مکتبہ التراث الاسلامی عصر)
حدیث بیہقی کو امام سیوطی نے شرح الصدور میں فرمایا ” باسناد حسن (اس کی سند حسن ہے)۔
حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا
( والذي نفسي بيده ان الميت اذا وضع في قبره انه ليسمع خفق نعالهم حين يولون عنه)
قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب مردہ قبر میں رکھا جاتا ہے کفش پائے مردم ( لوگوں کے قدموں) کی آواز سنتا ہے جب اس کے پاس سے پلٹتے ہیں۔
(المستدرک للحاکم ج 1 ص380 دار الفکر بیروت)

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بسند حسن مروی ، فرماتے ہیں
( شهدنا جنازة مع رسول الله صلى الم تعالى وسلم فلما فرغ من دفنها وانصرف الناس قال انه الان يسمع خفق نعالكم )
ہم ایک جنازہ میں حضور اقدس صلی الہ تعالی علیہ سلم کے ہمراہ رکاب حاضر تھے۔ جب ان کے دفن سے فارغ ہوئے اور لوگ پلٹے حضور نے ارشاد فرمایا : اب وہ تمھاری جوتیوں کی آواز سن رہا ہے۔
شرح الصدور 54، خلافت اکیڈمی سوات)
صحیح بخاری شریف وغیرہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی
( اطلع النبي صلى الله تعالى عليه وسلم على اهل القليب فقال وجدتم ما وعد ربكم حقافقيل له اتدعوا مواتاً فقال ما انتم بأسمع منهم ولكن لا يجيبون )
) يعنى نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم چاہ بدر ( بدر کے کنویں) پر تشریف لے گئے، جس میں کفار کی لاشیں پڑیں تھیں۔۔ پھر فرمایا تم نے پایا جو تمھارے رب نے تمھیں سچا وعدہ دیا تھا یہ ما یعنی عذاب کسی نے عرض کی حضور مردہ کو پکارتے ہیں، ارشاد فرمایا تم کچھ ان سے زیادہ نہیں سننے والے، پر وہ جواب نہیں دیتے۔
( صحیح بخاری ، ج 1 ص 183 قدیمی کتب خانہ کراچی)
صحیح مسلم شریف میں امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی
ان رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم كان يرينا مصارع اهل بدر و ساق الحديث الى ان قال فانطلق رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم حتى انتهى اليهم فقال يا فلان بن فلان ويا فلان بن فلان هل وجهتم ما وعدكم الله ورسوله حق فأني قد وحدت ما وعدني الله حقا قال عمر يا رسول الله كيف تكلم اجسادا لا ارواح فيها قال ما انتم بأسمع لما اقول منهم غير انهم لا يستطيعون ان يردوا على شينا
یعنی رسول اللہ صل اللہ تعالی علیہ سلم ہمیں کفار بدر کی قتل گاہیں دکھاتے تھے کہ یہاں فلاں کا فرقتل ہوگا اور یہاں فلاں ، جہاں جہاں حضور نے بتایا تھا وہیں وہیں ان کی لاشیں گریں۔ پھر حکم حضور وہ پہلے (مردے) ایک کنویں میں بھر دئے گئے۔ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے اور نام بنام ان کفار لیام کو ان کا اور ان کے باپ کا نام لے کر پکارا، اور فرمایا تم نے بھی پایا جو سچا وعدہ خدا اور رسول نے تمھیں دیا تھا کہ میں نے تو پالیا جوحق وعدہ اللہ تعالی نے مجھے دیاتھا۔ امیر المومنین عمرر ضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ حضور ان جسموں سے کیونکر کلام کرتے ہیں جن میں رو میں نہیں۔ فرمایا : جو میں کہہ رہا ہوں اسے کچھ تم ان سے زیادہ نہیں سنتے مگر انھیں یہ طاقت نہیں کہ مجھے لوٹ کر جواب دیں۔
( صحیح مسلم ج 2 ص 287 قدیمی کب خانہ کراچی)
حدیث پاک میں ہے
( كانت امرأة تقم المسجد فماتت ولم يعلم بها النبي صلى الله تعالى عليه وسلم فمر على قبرها فقال ما هذا القبر قالوا ام محجن قال التي كانت تقم المسجد قالوا نعم نصف الناس فصلى عليها ثم قال اي العمل وجدت افضل قالوا يارسول الله اتسمع قال ما انتم بأسمع منها فذكر انها اجابته ان اقم المسجد
یعنی ایک لی بی مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی ان کا انتقال ہو گیا، نبی صلی اللہ تعالی علیہ سلم کو کسی نے خبر نہ دی حضور ان کی قبر پر گذرے۔ دریافت فرمایا یہ قبر کیسی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی: ام محجن کی۔ فرمایاوہ ہی جو مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی عرض کی ہاں ۔ حضور نے صف باندھ کر نماز پڑھائی پھر ان بی بی کی طرف خطاب کر کے فرمایا تو نے کون ساعمل افضل پایا، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا وہ سنتی ہے؟ فرمایا کچھ تم اس سے زیادہ نہیں سنتے پھر فرمایا اس نے جواب دیا کہ مسجد میں جھاڑو دینی۔
(شرح الصدور ، ص 40، خلافت اکیڈمی ، سوات)
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں
( اذا مات احد من اخوانكم فسويتم التراب على قبره فليقم أحدكم على راس قبره ثم ليقل يأفلان بن فلانة فأنه يسمعه ولا يجيب ثم يقول يا فلان بن فلانة فأنه يستوى قاعد اثم يقول يا فلان بن فلانة فأنه يقول ارشد نا رحمك الله ولكن لا تشعرونه فليقل ذكر مأخرجت عليه من الدنيا شهادة ان لا اله الا الله وان محمدا عبده ورسوله وانك رضيت بالله ربا وبا الاسلام دينا وبمحمد نبيا وبالقرآن اماماً فأن منكر ونكير ايا خذ كل واحد منهما بيد صاحبه ويقول ان انطلق بنا ما نقعد عند من قد لقن حجته
جب تمہارا کوئی مسلمان بھائی مرے اور اس کی قبر پر مٹی برابر کر چکوتم میں سے کوئی اس کے سرہانے کھڑا ہو اور فلاں بن فلانہ کہہ کر پکارے بیشک وہ سنے گا اور جواب نہ دے گا دوبارہ پھر یوں ہی ندا کرے وہ سیدھا ہو بیٹھے گا سہ بارہ پھر اسی طرح آواز دے اب وہ جواب دے گا کہ ہمیں ارشاد کر اللہ تجھ پر رحم کرے مگر تمہیں اس کے جواب کی خبر نہیں ہوتی اس وقت کہے یاد کر وہ بات جس پر تو دنیا سے نکلا تھا گواہی دے اس کی کہ اللہ کے سواء کوئی سچا معبود نہیں اورمحمد صلی اللہ تعالی علیہ سلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ تو نے پسند کیا اللہ تعالیٰ کو پروردگار اور اسلام کو دین اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کونبی اور قرآن کو پیشوا ، منکر نکیر ہر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہیں گے چلو ہم کیا بیٹھیں اس کے پاس جسے لوگ اس کی حجت سکھا چکے۔
(المعجم الکبیرج8، ص 298 ، مکتبہ فیصلیہ ، بیروت)
امام ابن الصلاح وغیرہ محد ثین اس حدیث کی نسبت فرماتے ہیں
(اعتضد بشواهد وبعمل أهل الشام قديماً نقله العلامة ابن امير الحاج في الحلية)
یعنی اس کو دو وجہ سے قوت ہے ایک تو حدیث اس کی موید ، دوسرے زمانہ سلف سے علماء شام اس پر عمل کرتے آئے۔
(حاشیہالطحطاوی علی المراقی الفلاح میں 338 نورمحمد کارخانہ تجارت کتب ، کراچی)
READ MORE  مرشد کے مزار کا طواف، بوسہ اور آنکھوں سے لگانا کیسا؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top