روح کے لیے قرآن و حدیث سے کون سی چیزیں ثابت ہیں؟
:سوال
روح کے لئے کون کون سی چیزیں قرآن وحدیث سے ثابت ہیں کہ جن سے ان کے حیات و ادراک پر دلالت ہوتی ہے۔
: جواب
(1) بعد انتقال عقل و ہوش بدستور رہنا۔ (2) روح کا پس از مرگ آسمانوں پر جانا۔ (3) اپنے رب کے حضور سجدے میں گرنا ۔ (4) فرشتوں کو دیکھنا۔ (5) ان کی باتیں سننا۔ (6) ان سے باتیں کرنا۔ (7) اپنے منازل جنت کا پیش نظر رہنا۔ (8) نیک ہمسایوں سے نفع پانا۔ (9) بد ہمسایوں سے ایذا اٹھانا ۔ (10) ملائکہ کا ان کے پاس تحفے لانا ۔ (11) ان کی مزاج پرسی کو آنا۔ (12) ان کا منتظر صدقات رہنا۔ (13) قبر کا ان سے بزبان فصیح باتیں کرنا۔ (14) ان کے منتہائے نظر تک وسیع ہونا ۔ (15) زندوں کے اعمال انھیں سنائے جانا۔ (16) نیکیوں پر خوش ہونا، بُرائیوں پر غم کرنا۔ (17) پسماندوں کے لیے دعائیں مانگنا۔ (18) ان کے ملنے کا مشتاق رہنا۔ (19) روحوں کا باہم ملنا جلنا۔ (20) ہر گو نہ کلام کے دفتر کھلنا۔
(21) منزلوں کی فصل سے آپس کی ملاقات کو جانا ۔ (22) اگلے اموات کا مردہ نو کے استقبال کو آنا۔ (23) اس کا گزرے قریبوں کو کو دیکھ دیکھ کر کر پہچاننا ، ان سے مل کر شاد ہونا ۔ (24) ان کا اس سے باقی عزیزوں دوستوں کے حال پوچھنا۔ (25) آپس میں خوبی کفن سے مفاخرت کرنا۔ (26) بُرے کفن والے کا ہم چشموں میں شرمانا ۔ (27) اپنے اعمال حسنہ یا سیئہ کو دیکھنا۔ (28) ان کی صحبت سے انس و فرحت یا معاذ اللہ خوف و وحشت پانا ۔ (29) عالم دین کا علم شریعت ۔ (30) اہلسنت کا مذہب سنت (31) مسلمان کے دل خوش کرنے والے کا اس سرور و فرحت سے صحبت دلکشا رکھنا۔ (32) تالی قرآن ( قرآن پڑھنے والے) کا قرآن عظیم کی پاکیزہ طلعت سے صحبت دلکشا رکھنا۔ (33) دشمنان عثمان کا اپنی قبروں میں عیاذاً بالله و جال پر ایمان لانا۔ (34) نیک بندوں کا خدمت اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وعبد الله الصالحین ( اللہ کے نیک بندوں ) میں حاضر ہونا ۔
(35) اپنی قبور میں نمازیں پڑھنا۔ (36) حج کرنا لبیک کہنا ۔ (37) تلاوت قرآن میں مشغول رہنا۔ (38) بلکہ ملائکہ کا انھیں تمام و کمال قرآن عظیم حفظ کرانا ۔ (39) اپنے رب جل جلالہ سے باتیں کرنا ۔ (40) رب تبارک و تعالی کا ان سے کلام جانفزا فرمانا۔ (41) بیل اور مچھلی کا لڑتے ہوئے ان کے سامنے آنا تماشا دیکھ کر جی بہلانا۔ (42) جنت کی نہروں میں غوطے لگانا۔ (43) جو تلاوت قرآن میں مشغول مرے قرآن عظیم کا ہر وقت ان کی دلجوئی فرماتا، ہر صبح و شام ان کے اہل و عیال کی خبریں انھیں پہنچانا ۔ (44) دودھ پیتے شہزادے کا انتقال ہوا، جنت کی دائیاں مقرر ہونا ، مدت رضاعت تمام فرمانا۔ (45) نیکوں کا شوق قیامت میں جلدی کرنا ۔ (48) بدوں کا نام قیامت سے گھبرانا۔ (47) مقتولان راہ خدا کے دل میں دوبارہ قتل کی
آرزو ہونا ۔ (48) مسلمانوں کا سبز یا سپید پرندوں کے روپ میں جہاں چاہنا اُڑتے پھرنا۔ (49) جنت کے پھل پانی کھانا پیا ۔ (50) سونے کی قندیلوں میں عرش کے نیچے بیر الینا۔ اللهم ارزقنا (اے اللہ ہمیں عطا فرما۔) اور ان کے سوا بہت سے امور وارد ہوئے ۔ جو ان کے علم و ادراک وسمع و بصر و کلام سیر وغیر ہاصفات و احوال حیات پر برہان ساطع (بلند دلیل)، بلکہ تمام آیات و احادیث عذاب قبر ونعیم قبر اس مدعا پر حجت قاطع ( بلکہ وہ تمام آیات اور احادیث جن میں قبر کے اندر عذاب اور نعمتیں ملنے کی خبر ہے وہ اس مدعا یعنی ارواح کے لئے حیات و ادراک ہے پر قطعی دلالت کرتی ہیں )۔
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 06, Fatwa 841 to 843

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top