کیا مردے سنتے ہیں یا نہیں؟
:سوال
بعض لوگ کہتے ہیں کہ مردے نہیں سنتے ، اور دلیل کے طور پر یہ آیت پاک پیش کرتے ہیں (انک لا تسمع الموتى )بے شک تم مردوں کو نہیں سنا سکتے۔
:جواب
( اس کا جواب تین طرح سے ہے:)
:جواب اول
آیت کا صریح منطوق ( ظاہری لفظ ) نفی اسماع ( سنانا ) ہے۔ نہ نفی سماع (سنے کی نفی نہیں) ، پھر اسے محل نزاع سے کیا علاقہ نظیر اس کی آیہ کریمہ( الک لا تهدى من احببت ) ہے۔ اس لیے جس طرح وہاں فرمایا ولكن الله يهدي من يشاء ) یعنی لوگوں کا ہدایت پانا نبی کی طرف سے نہیں خدا کی طرف سے ہے یونہی یہاں بھی ارشاد ہوا ہو ان الله يسمع من يشاء ) ( بیشک اللہ جسے چاہتا ہے سناتا ہے ) وہی حاصل ہوا کہ اہل قبور کا سننا تمھاری طرف سے نہیں اللہ عزوجل کی طرف سے ہے۔ مرقاه شرح مشکوۃ میں ہے( الآية من قبيل انك لا تهدى من احببت ولكن الله يهدي من يشاء ) – ترجمه: يہ آیت اس آیت کی قبیل سے ہے۔ بیشک تم ہدایت نہیں دیتے مگر خدا دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔
(مرقاة المصابیح، ج 7 ،ص 591 مکتبہ حبیب کو ئٹہ )
:جواب دوم
نفی سماع ہی مانو تو یہاں سے سماع قطعاً بمعنی سمع قبول و انتفاع ہے، باپ اپنے عاق بیٹے کو ہزار بار کہتا ہے، وہ میری نہیں سنتا۔ کسی عاقل کے نزدیک اس کے یہ معنی نہیں کہ حقیقت کان تک آواز نہیں جاتی ۔ بلکہ صاف یہی کہ سنتا تو ہے، مانتا نہیں، اور سننے سے اسے نفع نہیں ہوتا ، آیت کریمہ میں اسی معنے کے ارادہ پر ہدایت شاہد کہ کفار سے انتفاع ( نفع ) ہی کا انتفا (نفی) ہے نہ کہ اصل سماع کا۔ خود اس آیہ کریمہ انک لا تسمع الموتی کے تتمہ میں ارشاد فرماتا ہے عزوجل وان تسمع الامن يومن بايتنا فهم مسلمون ) تم نہیں سناتے مگر انھیں جو ہماری آیتوں پر یقین رکھتے ہیں تو وہ فرمانبردار ہیں۔
اور پر ظاہر کہ پند و نصیحت سے نفع حاصل کا وقت یہی زندگی دنیا ہے، مرنے کے بعد نہ کچھ ماننے سے فائدہ نہ سننے سے حاصل، قیامت کے دن سبھی کا فرایمان لے آئیں گے، پھر اس سے کیا کام۔ تو حاصل یہ ہوا کہ جس طرح اموات کو وعظ سے انتفاع نہیں، یہی حال کافروں کا ہے کہ لاکھ سمجھائیے نہیں مانتے ۔ امام ابو البرکات نسفی نے تفسیر مدارک التنزیل میں زیر آ یہ سورہ فاطر میں فرمایا شبه الكفار بالموتى حيث لا ينتفعون بمسموعهم ” كفار كومردوں سے تشبیہ دی اس لحاظ سے کہ وہ جو سنتے ہیں اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔
( تفسیر مدارک التنزیل، ج 3، ص 339، دار الكتاب العربية ، بيروت )
:جواب سوم
مانا کہ اصل سماع ہی منفی مگر کس سے موتی سے، موتی کون ہے؟ ابدان، کہ روح تو کبھی مرتی ہی نہیں، اہل سنت و جماعت کا یہی مذہب ہے۔ ۔ ہاں کسی سے نفی فرمائی؟ من فی القبور سے یعنی جو قبر میں ہے۔ قبر میں کون ہے؟ جسم کہ روحیں تو علّیّین یاجنّت یا آسمان یا چاہ زمزم و غیر با مقامات عز و کرام میں ہیں، جس طرح ارواح کفار سجین یا ناریا چاہ وادی برہوت و غیر ہا مقامات ذلت و آلام میں ۔ امام سبکی شفاء السقام میں فرماتے ہیں لا ندعى ان الموصوف بالموت موصوف بالسماع انما السماع بعد الموت لحی وهو الروح “ ہم یہ دعوی نہیں کرتے کہ جو موت سے متصف ہے وہی سننے سے بھی متصف ہے، مرنے کے بعد سننا ایک ذی حیات کا کام ہے جو روح ہے۔
(شفاء السقام، ص 209 نور یہ رضویہ ،سکھر )
شاہ عبد القادر صاحب برادر حضرت شاہ عبد العزیز صاحب موضح القرآن میں زیر كريمه وما انت بمسمع من القبور فرماتے ہیں حدیث میں آیا ہے کہ مردوں سے سلام علیک کرو، سنتے ہیں، بہت جگہ مردوں کو خطاب کیا ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ مردے کی روح سنتی ہے اور قبر میں پڑا ہے دھر، وہ نہیں سن سکتا ہے۔
موضع القرآن ص 697 ناشران قرآن مجیدلمیٹڈ ،اردو بازار لاہور ( ص0 70)
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 06, Fatwa 409

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top