میت والے گھر ایک قبیح رسم کا حکم
:سوال
اکثر جگہوں پر یہ رسم ہے کہ میت کے روز وفات سے اس کے اعزہ واقارب واحباب کی عورات اس کے یہاں جمع ہوتی ہیں، اس اہتمام کے ساتھ جو شادیوں میں کیا جاتا ہے۔ پھر کچھ دوسرے دن اکثر تیسرے دن واپس آتی ہیں، بعض چالیس دن تک بیٹھتی ہیں، اسی مدت اقامت میں عورات کے کھانے پینے ، پان چھالیا کا اہتمام اہل میت کرتے ہیں جس کے باعث ایک صرف کثیر کے زیر بار ہوتے ہیں، اگر اس وقت ان کا ہاتھ خالی ہو تو اس ضرورت سے قرض لیتے ہیں، یوں نہ ملے تو سودی قرض نکلواتے ہیں، اگر نہ کریں تو مطعون و بدنام ہوتے ہیں، یہ شرعا جائز ہے یا کیا حکم ہے؟
:جواب
سبحان اللہ ، اے مسلمان !یہ پوچھتا ہے جائز ہے یا کیا ؟ یوں پوچھو کہ یہ نا پاک رسم کتنے قبیح اور شدید گنا ہوں سخت و شنیع خرابیوں پر مشتمل ہے۔
او لا: یہ دعوت خود نا جائز و بدعت شنیعہ قبیحہ ہے۔ حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی فرماتے ہیں ” كنا نعد الاجتماع الى اهل الميت وصنعة الطعام من النياحة ” ہم گروہ صحابہ اہل میت کے یہاں جمع ہونے اور ان کے کھانا تیار کرانے کو مردے کی نیاحت ( نوح کرنے) سے شمار کرتے تھے۔“
(مسند احمد بن حنبل ، ج 2، ص 204، دار الفکر، بیروت )
امام محقق على الاطلاق فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں بکرہ اتخاذ الضيافة من الطعام من اهل الميت لا نه شرع في السرور لافي الشرور وهي بدعة مستقبحة ” اہل میت کی طرف سے کھانے کی ضیافت تیار کرنی منع ہے کہ شرع نے ضیافت خوشی میں رکھی ہے نہ کہ غمی میں، اور یہ بدعت شنیعہ ہے۔
(فع القدر، ج 2 ص 102 ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر )
ثانیاً :غالبا ورثہ میں کوئی یتیم یا اور بچہ نا بالغ ہوتا ہے، یا اور ورثہ موجود نہیں ہوتے ، نہ ان سے اس کا اذن لیا جاتا ہے،جب تو یہ امر سخت حرام شدید پر متضمن ہوتا ہے ۔ اللہ عز وجل فرماتا ہے ان الذين يا كلون اموال اليتامى ظلما انما ياكلون في بطونهم نارا وسيصلون سعیر ا ) بیشک جو لوگ یتیموں کے مال ناحق کھاتے ہیں بلا شبہ وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھرتے ہیں، اور قریب ہے کہ جہنم کے گہراؤ میں جائیں گے۔ مال غیر میں بے اذن غیر تصرف خود نا جائز ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے والا تاکلوا اموالكم بينكم بالباطل )کے اپنے مال آپس میں ناحق نہ کھاؤ۔ خصوصاً نا بالغ کا مال ضائع کرنا جس کا اختیار نہ خود اسے ہے نہ اس کے باپ نہ اسے کے وصی کو۔
اور اگر ان میں کوئی یتیم ہوا تو آفت سخت تر ہے، والعياذ بالله رب العالمین ۔ ہاں اگر محتاجوں کے دینے کو کھانا پکوا ئیں تو حرج نہیں بلکہ خوب ہے، بشرطیکہ یہ کوئی عاقل بالغ اپنے مال خاص سے کرے یا ترکہ سے کریں، تو سب وارث موجود و بالغ و راضی ہوں، خانیہ و بزازیہ و تتار خانیہ و ہندیہ میں ہے ان اتخذ طعا ما للفقراء كان حسنا اذا كانت الورثة بالغين وان كان في الورثه صغير لم يتخذوا ذلك من التركة ” اگر فقراء کے لیے کھانا پکوائے تو اچھا ہے جب کہ سب ورثہ بالغ ہوں ، اور اگر کوئی وارث نابالغ ہو تو یہ ترکہ سے نہ کریں۔
(فتاوی ہندیہ، ج 5، ص 344، نورانی کتب خانہ، پشاور)
ثالثا :یہ عورتیں کہ جمع ہوتی ہیں افعال منکرہ کرتی ہیں، مثلا چلا کر رونا پیٹنا، بناوٹ سے منہ ڈھانکنا، الی غیر ذلک، اور یہ سب نیاحت (نوح کرنا) ہے اور نیاحت حرام ہے، ایسے مجمع کے لیے میت کے عزیزوں اور دوستوں کو بھی جائز نہیں کہ کھانا بھیجیں کہ گناہ کی امداد ہوگی ۔ نہ کہ اہل میت کا اہتمام طعام ( کھانے کا انتظام) کرنا کہ سرے سے نا جائز ہے، تو اس نا جائز مجمع کے لئے نا جائز تر ہوگا۔
رابعا: اکثر لوگوں کو اس رسم شنیع کے باعث اپنی طاقت سے زیادہ ضیافت کرنی پڑتی ہے، یہاں تک کہ میت والے بیچارے اپنے غم کو بھول کر اس آفت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اس میلے کے لیے کھانا، پان چھالیا کہاں سے لائیں اور بار ہا ضرورت قرض لینے کی پڑتی ہے، ایسا تکلف شرع کو کسی امر مباح کے لیے بھی زنہار (ہرگز) پسند نہیں، نہ کہ ایک رسم ممنوع کے لیے، پھر اس کے باعث جو دقتیں پڑتی ہیں خود ظاہر ہیں پھر اگر قرض سودی ملا تو حرام خالص ہو گیا، اور معاذ اللہ لعنت الہی سے پورا حصہ ملے کہ بے ضرورت شرعیہ سود دینا بھی سود لینے کی طرح باعث لعن ہے، جیسا کہ صحیح حدیث میں فرمایا۔ غرض اس رسم کی شناعت و ممانعت میں شک نہیں ، اللہ عز و جل مسلمانوں کو توفیق بخشے کہ قطعاً ایسی رسوم شنیعہ جن سے ان کے دین و دنیا کا ضرر ہے ترک کر دیں، اور طعن بیہودہ کا لحاظ نہ کریں۔
تنبیه : اگر چہ صرف ایک دن یعنی پہلے ہی روز عزیزوں کو ہمسایوں کو مسنون ہے کہ اہل میت کے لیے اتنا کھانا پکوا کر بھیجیں جسے وہ دو وقت کھا سکیں اور باصرار انھیں کھلائیں، مگر یہ کھانا صرف اہل میت ہی کے قابل ہونا سنت ہے۔ اس میلے کے لیے بھیجنے کا ہر گز حکم نہیں اور ان کے لیے بھی فقط روز اول کا حکم ہے آگے نہیں ۔
READ MORE  مقابر میں شمعیں روشن کرنا ان کی عبادت کرنے کی طرح نہیں؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top