کیا اولیاء کا فیض برزخ میں بھی جاری ہے؟
:سوال
کیا اولیاء کا فیض برزخ میں بھی جاری ہے، اور غلاموں کی امداد فرماتے ہیں؟
:جواب
الحمد اللہ برزخ میں بھی ان کا فیض جاری اور غلاموں کے ساتھ وہی شان امداد و یاری ہے۔ امام اجل عبدالوہاب شعرانی
قدس سره الربانی میزان الشریعۃ الکبری میں ارشاد فرماتے ہیں
جميع الائمة المجتهدين يشفعون في اتباعهم ويلا حظونهم في شدائهم في الدنيا والبرزخ ويوم القيامة حتى يجاوز الصراط “
تمام ائمہ مجتہدین اپنے پیرووں کی شفاعت کرتے ہیں اور دنیاو برزخ و قیامت ہر جگہ کی سختیوں میں ان پر نگاہ رکھتے ہیں یہاں تک کہ صراط سے پار ہو جائیں۔
الميزان الکبری ، ج 1 ص9،مصطفی البابی مصر )
اسی امام اجل نے اسی کتاب اجمل میں فرمایا
” قد ذكرنا في كتاب الاجوبة عن ائمة الفقهاء و الصوفية كلهم يشفعون في مقلديهم و يلاحظون احدهم عند طلوع روحه وعند سوال منكر ونكير له وعند النشر والحشر والحساب والميزان والصراط، والا يغفلون عنهم في موقف من المواقف ولما مات شيخنا شيخ الاسلام الشيخ ناصر الدین اللقاني رآه بعض الصالحين في المنام فقال له ما فعل الله بك فقال لما اجلسني الملكان في القبر ليسئلاني اتاهم الامام مالك فقال مثل هذا يحتاج الى سوال في ايمانه بالله ورسوله تنحيا عنه فتحيا عنی اھ واذا كان مشائخ الصوفية يلاحظون اتباعهم ومريديهم في جميع الاهوال والشدائد في الدنيا والآخرة فكيف بائمة المذهب الذين هم أوتاد الارض واركان الدين وأمناء الشارع صلى الله تعالى عليه وسلم على امته رضى الله تعالى عنهم اجمعين “
ہم نے کتاب الا جو بہ من الفقہاء والصوفیہ میں ذکر کیا ہے کہ تمام ائمہ فقہاء و صوفیہ اپنے اپنے مقلدوں کی شفاعت کرتے ہیں اور جب ان کے مقلد کی روح نکلتی ہے، جب منکر نکیر اس سے سوال کو آتے ہیں، جب اس کا حشر ہوتا ہے، جب نامہ اعمال کھلتے ہیں، جب حساب لیا جاتا ہے، جب عمل تکتے ہیں، جب صراط پر چلتا ہے، غرض ہر حال میں اس کی نگہبانی
فرماتے ہیں اور کسی جگہ اس سے غافل نہیں ہوتے ، ہمارے استاد شیخ الاسلام امام ناصرالدین لقانی مالکی رحمہ اللہ تعالی کا جب انتقال ہوا بعض صالحوں نے انھیں خواب میں دیکھا، پوچھا اللہ تعالی نے آپ کے ساتھ کیا کیا ؟ کہا جب منکر نکیر نے مجھے سوال کے لئے بٹھا یا امام مالک تشریف لائے اور ان سے فرمایا ایسا شخص بھی اس کی حاجت رکھتا ہے کہ اس سے خداور سول پر ایمان کے بارے میں سوال کیا جائے الگ ہو (جائیے ) اس کے پاس سے ، یہ فرماتے ہیں نکیرین مجھ سے الگ ہو گئے اور جب مشائخ کرام صوفیہ قدست اسرار ہم ہول سختی کے وقت دنیا و آخرت میں اپنے پیروں اور مریدوں کا لحاظ رکھتے ہیں تو ان پیشوایان مذہب کا کہنا ہی کیا جو زمین کی میخیں ہیں اور دین کے ستون، اور شارع علیہ السلام کی امت پر اس کے امین رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔
الله اكبر الله اكبر ولله الحمد
الميزانالكبری، ج 1 میں 53 مصطفی البابی مصر )
حسبی من الخيرات ما اعددته
يوم القيامة في رضى الرحمن
دين النبي محمد خير الورى
ثم اعتقادى مذهب النعمن
و ارادتي و عقيدتي ومحبتي
للشيخ عبد القادر الجيلان
ترجمہ: میرے لیے نیکیوں سے وہ کافی ہے جو روز قیامت خوشنودی الہی کی راہ میں، میں نے تیار کر رکھا ہے ، نبی اکرم مخلوق میں سب سے افضل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ سلم کا دین پاک، پھر مذہب نعمان امام اعظم ابو حنیفہ پر اعتقاد، اور سیدی
شیخ عبد القادر جیلانی سے ارادت اور عقیدت و محبت ۔
وی بخاک رضا شدم گفتم که تو چونی که ما چنان شده ایم
ممه روز از غمت بفكر فضول همه شب در خیال بهیده ایم ای
خبری گوبماز تلخی مرگ سنیت را گدانے میکده ایم
شیر بودیم و شهد افروزند
ما سراپا حلاوت آمده ایم
ترجمہ: ایک دن میں نے رضا کی خاک پر جا کر کہا تمھارا کیا حال ہے، ہمارا حال تو یہ ہے کہ دن رات تمھارے غم میں بیکار سوچتے اور فکر کرتے رہتے ہیں، بتاؤ کہ موت کی تلخی کا حال کیسا رہا؟ عرض کیا: یہ تلخ جام ہم نے تو کم ہی چکھا، قادریت ہمارا مشرب رہا اور سنیت ہمارا میکدہ۔ ہم دودھ تھے ہی اس پر شہد کا اضافہ ہوا، ہم تو سرا پا حلاوت نکلے ۔
تنبیہ : ہاں مقلد ان ائمہ کو خوشی و شادمانی اور ان کے مخالفوں کو حسرت و پیشمانی، مگر حا شا صرف فروع میں تقلید سے متبع نہیں ہوتا ، پہلے مہم امر عقائد ہے جو اس میں ائمہ سلف کے خلاف ہو، تو بہ کہاں وہ اور کہاں اتباع ، یوں تو بہتیرے معتزلی حنفیت جتاتے ہیں، بعض زیدیہ روافض شافعی کہلاتے ہیں، بہت مجسمہ موجہہ حنبلی کیے جاتے، پھر کیا ارواح طیبہ حضرات عالیہ امام اعظم و امام شافعی امام احمد رضی الله تعالی عنہم ان
سے خوش ہوں گے کلا واللہ ان گمراہوں کا انتساب ایسا ہے جیسے روافض اپنے آپ کو امامیہ کہتے ہیں، حالانکہ ان سے پہلے بیزار روح پاک ائمہ اطہار ہے رضوان اللہ تعالی علیہ اجمین، یونہی نجد کے منبلی ، ہند کے حنفی جو مخترعان مذہب جدید و متبعان قرن طرید ہوئے ہر گز حنبلی حنفی نہیں بلکہ حبکی جن پر غضب کیا گیا ہو) و مثفی ( ظلم و جور کرنے والے ) ہیں۔
معہذا بالفرض اگر ایک فریق منکرین با عتبار فروع مقلدین سہی تاہم جب ان کے نزدیک ارواح گزشتگان مثل جماد اور محال امداد اور شرک استمدادہ تو وہ اس قابل کہاں کہ ارواح ائمہ ان پر نظر فرمائیں ، سنت الہیہ ہے کہ منکرین کو محروم رکھتے ہیں، اللہ تعالی حدیث قدسی میں فرماتا ہے ((نا عند ظن عبدی ہی) میں بندہ سے وہ کرتا ہوں جو بندہ مجھ سے گمان رکھتا ہے۔ ا
(صحیح للبخاری ج 2 قدیمی کب خانہ کراچی)
جب ان کے گمان میں امداد محال تو ان کے حق میں ایسا ہی ہوگا۔
سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم حدیث متواتر میں فرماتے ہیں
(شفاعتي يوم القيمة حق فمن لم يؤمن بها لم يكن من اهلها)
رواه ابن منيع عن زيد بن ارقم وبضعة عشر من الصحابة رضوان الله تعالیٰ اجمعین
میری شفاعت قیامت کے روز حق ہے جو اس پر ایمان نہ لائے گا اس کے اہل نہ ہوگا۔
(الجامع صغير مع فیض القدیر ، ج 2، ص 301، دار المعرفة، بیروت لبنان)
امام ابن حجر مکی پھر شیخ نے شروح مشکوۃ میں فرمایا ” صالحان را مدد بلیغ است بہ زیارت کنند گان خود را بر اندازه ادب ایشان صالحین اپنے زائرین کے ادب کے مطابق ان کی بے پناہ مددفرماتے ہیں۔
اشتہ اللمعات، ج 1 ، ص 720 ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر)

امام علامہ تفتازانی نے شرح مقاصد میں اہلسنت کے نزدیک علم وادراك موتی کی تحقیق کر کے فرمایا
” ولهذا ينتفح بزيارة قبور الابرار والاستعانة من نفوس الاخبار “
اسی لیے قبور اولیاء کی زیارت اور ارواح طیبہ سے استعانت نفع دیتی ہے۔
( شرح المقاصد ، ج 2، ص 43، دار المعارف النعمانیہ لاہور )
رد المحتار میں امام غزالی سے ہے
انهم متفاوتون في القرب من الله تعالى ونفع الزائرين بحسب معارفهم و اسرار هم
ارواح طیبہ اولیائے کرام کا حال یکساں نہیں بلکہ وہ متفاوت ہیں اللہ سے نزدیکی اور زائروں کو نفع دینے میں موافق اپنے معارف و اسرار کے۔
ردالمختار ، ج 1، ص 604، ادارة الطباعة العربية مصر )
سید جمال مکی کے فتاوی میں امام شہاب الدین ریلی سے منقول
للانبياء والرسل والأولياء والصالحين اغائہ بعد موتهم
” انبیاء ورسل و اولیاء وصالحین بعد رحلت بھی فریاد رسی کرتے ہیں۔
ْ(فتاوی جمال بن عمر کی)
READ MORE  جنازہ کے بغیر دفنا دیا تو قبر پر کتنے دن تک جنازہ پڑھ سکتے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top