قرأت میں مقیم امام کے لئے سنت کتنی مقدار ہے؟
:سوال
قرأت میں مقیم امام کے لئے سنت کتنی مقدار ہے؟
:جواب
 نماز حضر یعنی غیر سفر میں ہمارے ائمہ سے تین روایتیں ہیں
:اول
فجر و ظہر میں طوال مفصل سے دو سورتیں پوری پڑھے ہر رکعت میں ایک سورت اور عصر وعشاء میں اوساط مفصل سے دو سورتیں اور مغرب میں قصار مفصل سے۔
مفصل قران کریم کے اس حصے کو کہتے ہیں جو سورہ حجرات سے آخر تک ہے اس کے تین حصے ہیں حجرات سے بروج تک طوال ، بروج سے لم یکن تک اوساط ،لم یکن سے ناس تک قصار۔
: دوم
فجر و ظہر میں سورہ فاتحہ کے علاوہ دونوں رکعت کی مجموع قرات چالیس پچاس آیت ہے اور ایک روایت میں ساٹھ آیت سے سوتک، اور عصر وعشاء کی دونوں رکعت کا مجموعہ پندرہ بیس آیت، اور مغرب میں مجموعہ دس آیتیں۔
:سوم
کچھ مقرر نہ رکھے جہاں وقت و مقتدیان و امام کی حالت کا مقتضی ہو ویسا پڑھے مثلا نماز فجر میں اگر وقت تنگ ہو یامقتدیوں میں کوئی شخص بیمار ہے کہ بقد رسنت پڑھنا اس پر گراں گزرے گا یا بوڑھاضعیف نا تواں یا کسی ضرورت والا ہے کہ دیر لگانے میں اُس کا کام حرج ہوتا ہے اُسے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوگا تو جہاں تک تخفیف کی حاجت سمجھے تخفیف کرے۔
خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے نماز فجر میں ایک بچے کے رونے کی آواز سن کر اس خیال رحمت سے کہ اُس کی ماں جماعت میں حاضر ہے طول قرآت سے اُدھر بچہ پھڑ کے گا ادھر ماں کا دل بے چین ہوگا صرف قل اعوذ برب الفلق اورقل اعوذ برب الناس سے نماز پڑھادی صلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ واصحابہ وبارک وسلم اجمعیں۔ اور اگر دیکھے کہ وقت میں وسعت ہے اور نہ کوئی مقتدیوں میں بیمار نہ ویسا کامی تو بقد ر سنت قرآت ( کرے)۔
 ان روایات میں پہلی اور تیسری روایت مختار و معمول بہ ہے و انا اقول لا خلاف بينهما وانما الثالثة تقييد الاولی كما لا يخفی ( میری رائے میں ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تعارض نہیں تیسری پہلی کو مقید کر رہی ہے جیسا کہ واضح ہے)۔
تو حاصل مذہب معتمد یہ قرار پایا کہ جب گنجائش بوجه وقت خواه بیماری وضعف و حاجت مقتدیان کم دیکھے تو قدر گنجائش پر عمل کرے ورنہ وہی طوال و اوساط و قصار کا حساب ملحوظ رکھے۔ اور قلت گنجائش کے لئے زیادہ مقتدیوں کا ناتواں یا کام کا ضرورت مند ہونا درکار نہیں بلکہ صرف ایک کا ایسا ہونا کافی ہے یہاں تک کہ اگر ہزار آدمی کی جماعت ہے اور صبح کی نماز ہے اور خوب وسیع ہے اور جماعت میں آدمی دل سے چاہتے ہیں کہ امام بڑی بڑی سورتیں پڑ ھے مگر ایک شخص بیمار یا ضعیف بو ڑھا یاکسی کام کا ضرورت مند ہے کہ اس پر تطویل بار ہوگی اسے تکلیف پہنچے گی تو امام کو حرام ہے کہ تطویل کرے
بلکہ ہزار میں سے اس ایک کے لحاظ سے نماز پڑ ھائے جس طرح مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے صرف اس عورت اور اسکے بچے کے خیال سے نمار فجر معوذ تین سے پڑ ھادی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور معاذ ابن جبل رضی اللہ تعالی عنہ پر تطویل میں سخت نا راضی فرمانئی یہاں تک کہ رخسارہ مبارک شدت جلال سے سرخ ہو گئے اور فرمایا ”افتان انت یامعاذ افتان انت يا معاذ افتان انت یا معاذ ”کیا تو لوگوں کوفتنہ میں ڈالئےوالاہے ،کیا تو لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والا ہے ،کیا تولوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والا ہے اے معاذ
READ MORE  کیا اللہ عزوجل کے نام کی فاتحہ دلوا سکتے ہیں؟

About The Author

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top