مرنے کے بعد روح اپنے گھر واپس آتی ہے یا نہیں؟
:سوال
جس وقت روح انسان کے جسم سے پرواز کر جاتی ہے اس کے بعد پھر اپنے مکان پر آتی ہے یا نہیں؟ بعض لوگ اس کا انکار کرتے ہیں، ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟
:جواب
خاتمۃالمحد ثین شیخ محقق مولنا عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ شرح مشکوۃ شریف باب زیارۃ القبور میں فرماتے ہیں میت کے دنیا سے جانے کے بعد سات دن تک اس کی طرف سے صدقہ کرنا مستحب ہے، میت کی طرف سے صدقہ اس کے لیے نفع بخش ہوتا ہے۔ اس میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں ، اس بارے میں صحیح حدیثیں وارد ہیں، خصوصا پانی صدقہ کرنے کے بارے میں، اور بعض علماء کا قول ہے کہ میت کو صرف صدقہ اور دعا کا ثواب پہنچتا ہے اور بعض روایات میں آیا ہے کہ روح شب جمعہ کو اپنے گھر آتی ہے اور انتظار کرتی ہے کہ اس کی طرف سے صدقہ کرتے ہیں یا نہیں ۔)
شیخ الاسلام فرماتے ہیں ” غرائب اور خزانہ میں منقول ہے کہ مومنین کی روحیں ہر شب جمعہ، روز عید، روز عاشورہ، اور شب برات کو اپنے گھر آ کر باہر کھڑی رہتی ہیں اور ہر روح غمناک بلند آواز سے ندا کرتی ہے کہ اے میرے گھر والو، اے میری اولاد، اے میرے قرابت دار و !صدقہ کر کے ہم پر مہربانی کرو۔”
( كشف الغطاء ص66 ،فصل احکام دعاء صدقہ )
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں (ان الدنيا جنة الكافر وسجن المؤمن، وانما مثل المؤمن حين تخرج نفسه كمثل رجل كان في السجن فأخرج منه فجعل يتقلب في الارض يتفسح فيها ) بیشك دنيا کافر کی بہشت اور مسلمان کا قید خانہ ہے، جب مسلمان کی جان نکلتی ہے تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص زندان میں تھا اب آزاد کر دیا گیا تو زمین میں گشت کرنے اور با فراغت چلنے پھرنے لگا۔
(کتاب الترہد لا بن المبارک ،ص 211، دار الکتب العلمیہ ،بیروت)
حضرت سلمان فارسی و عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہما ہا ہم ملے ، ایک نے دوسرے سے کہا کہ اگر مجھ سے پہلے انتقال کرو تو مجھے خبر دینا کہ وہاں کیا پیش آیا، کہا کیا زندے اور مردے بھی ملتے ہیں؟ کہا ((نعم اما المومنون فأن ارواحهم في الجنة وهي تذهب حيث شاءت)) ہاں مسلمان کی روحیں تو جنت میں ہوتی ہیں انھیں اختیار ہوتا ہے جہاں چاہیں جائیں۔
(شعب الایمان ، ج 2، ص 121 ، دار الكتب العلمیة بیروت)
مالک بن انس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ( فرماتے ہیں کہ ) مجھے حدیث پہنچی ہے کہ (( ان ارواح المومنین مرسلة تذهب حيث شاءت)) مسلمانوں کی روحیں آزاد ہیں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں۔
( شرح الصدور ،ص 98، خلافت اکیڈمی منگور ہ،سوات )
خزانۃ الروایات میں ہے عن ابن عباس رضی الله تعالى عنهما (( اذا كان يوم عيد أو يوم جمعة أو يوم عاشوراء وليلة النصف من الشعبان تأتى ارواح الاموات ويقومون على ابواب بيوتهم فيقولون هل من احد يذكرنا هل من احد يترحم علينا هل من احد يذكر غربتنا )) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے جب عید یا جمعہ یا عاشورہ کا دن یا شب برات ہوتی ہے اموات کی روحیں آکر اپنے گھروں کے دروازوں پر کھڑی ہوتی اور کہتی ہیں: ہے کوئی کہ ہمیں یاد کرے، ہے کوئی کہ ہم پر ترس کھائے ، ہے کوئی کہ ہماری غربت کی یا دد لائے۔
(خزر انۃ الروايات )
امام اہلسنت علیہ الرحمہ مزید دلائل دینے کے بعد فرماتے ہیں) با لجملہ یہ مسئلہ نہ باب عقائد سے نہ باب احکام حلال و حرام سے، اسے جتنا ماننا چاہئے کہ اس کے لیے اتنی سندیں کافی ووانی، منکر اگر صرف انکار یقین کرے یعنی اس پر جزم و یقین نہیں تو ٹھیک ہے، اور عامہ مسائل سیر و مغازی و اخبار وفضائل ایسے ہی ہوتے ہیں ، اس کے باعث وہ مردود نہیں قرار پاسکتے ، اور اگر دعوای نفی کرے یعنی کہے مجھے معلوم وثابت ہے کہ روحیں نہیں آتیں تو جھوٹا کذاب ہے
بالفرض اگر ان روایات سے قطع نظر بھی تو غایت یہ کہ عدم ثبوت ہے نہ ثبوت عدم، اور بے دلیل عدم (عدم کی دلیل نہ ہوتے ہوئے ) ادعائے عدم (عدم کا دعوی کرنا) محض تحکم وستم ( زبردستی حکم لگانا اور ظلم ہے ) ، آنے کے بارے تو اتنی کتب علماء کی عبارات ، اتنی روایات بھی ہیں نفی وانکار کے لیے کون سی روایت ہے؟ کس حدیث میں آیا کہ روحوں کا آنا باطل و غلط ہے؟ تو ادعائے بے دلیل محض باطل وذلیل۔
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 06, Fatwa 597 to 599

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top