مجموعہ خطب علمی کا جمعہ و عیدین میں پڑھنا کیسا؟
:سوال
مجموعہ خطب علمی کا پڑھنا نماز جمعہ وعیدین میں جائز ہے یا نہیں ؟ چونکہ اس خطبہ میں کچھ اشعار اردو کے بھی شامل ہیں اسی وجہ سے تمام ہندوستان کے لوگ جن کی زبان اردو ہے اس کو بہت شوق سے سنتے ہیں اور اکثر بزرگ اس خطبہ کو بکثرت نماز جمعہ وعیدین میں پڑھا کرتے ہیں، سید محبوب علی شاہ صاحب سکندر یہ حیدر آباد دکھن جو مرید بھی کرتے ہیں اور وعظ بھی فرماتے ہیں انھوں نے بعد نماز جمعہ یہ فرمایا کہ مجموعۂ خطب علمی کا پڑھنا اور سننا نماز جمعہ وعیدین میں نا جائز ہے اس سے نماز نہیں ہوتی ہے کیونکہ علمی کا مذہب رافضی تھا، آپ ارشاد فرمائیں کہ اس میں شرعا کیا حکم ہے، یا مجموعہ خطب علمی کا پڑھنا اور سننا نماز جمعہ و عیدین میں نا جائز ہے یا نہیں ، اور علمی کا مذہب کیا تھا ؟
:جواب
مولانامحمد حسن علمی بریلوی رحمۃ الله علیہ سُنی صحیح العقیدہ اور واعظ و ناصح اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کے مداح اور میرے حضرت جدا مجد قدس سرہ العزیز کے شاگر د تھے انھیں رافضی نہ کہے گا مگر کوئی ناصبی یا خارجی، دکھنی صاحب نے اگر کسی کی سنی سنائی بے تحقیق کہہ دی تو یہ آیت کریمہ فتبينوا ان تصيبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم ندمين ) (ترجمہ تحقیق کر لو کہیں جہالت کی وجہ سے کسی قوم پر حملہ آور نہ ہو جاؤ تو پھر تم اپنے کئے پر نادم ہو جاؤ۔ ) کا خلاف کیا صحیح حدیث ((لا تذكروا موتاكم الابخیر)) ترجمہ: اپنے فوت شدگان کو اچھائی سے یاد کیا گرو۔ (اتحاف السادۃ العین ، ج 7 ص 91، دار الفکر بیروت) اور حدیث صحیح (( كفا بالمرء كذابا ان يحدث بكل ما سمع )) ترجمہ: کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ سنی سنائی بیان کر دیتا ہے۔
حیح مسلم، ج 1، ص 8 نور محمد اصح المطابع، کراچی)
آیت کا ارشاد یہ ہے کہ غیر ثقہ کی خبرخوب کی تحقیق کر لو ہیں کسی کو جہالت سے آزار دے بیٹھو، پھر اپنے کئے پر پچھتاتے ہو، اور حدیث اول کا کہ اپنے اموات کو خیر ہی سے یاد کرو اور دوم یہ کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کو یہ بہت ہے کہ جو کچھ نے اس پر اعتبار کر کےلوگوں سے بیان کر دے اور اگر اپنی طرف سے کہا تو آفت سخت تر ہے، رسول اللہ صلی الله تعالی علیہ و سلم فرماتے ہیں ( من ذكر امرأ بما ليس فيه ليعيبه به حبسه الله في نار جهنم حتى يأتي بنفاذ ما قال فيه )) جو کسی کے عیب لگالے کو وہ بات بیان کرے جو اس میں نہیں اللہ اسے نار جہنم میں قید کرے گا یہاں تک کہ اپنے کئے کی سند لائے۔
معجم اوسط ، ج 9، ص 432، مكتبة المعارف، الرياض)
دوسری روایت میں ہے ( ( كان حقا على الله ان يذيبه يوم القيمة في النار حتى يأتي بانفاذ ماقال)) الله پر حق ہے کہ جب تک اپنی اس بات کا ثبوت پیش نہ کرے اُسے آتش دوزخ میں پگھلائے ۔
(حجم الاوسط ،ج 4، ص 201، دار الکتاب، بیروت )
اور بفرض غلط اگر معاذ اللہ کوئی بد مذہب ہی خطبہ تصنیف کرے اور وہ صیح ہو اس میں کوئی بد مذہبی نہ ہو تو اس کے پڑھنے سے نماز کیوں نا جائز ہونے لگی۔ یہ دل سے مسئلہ گھڑنا اور شریعت مطہرہ پر افتراء کرنا ہے، ہاں اردو زبان خطبہ میں ملانا نہ چاہئے کہ خلاف سنت متوارثہ ہے یہ دوسری بات ہے اسے عدم جواز نماز سے کیا علاقہ شخص مذکور اگر اپنی ان حرکات پر مصر رہے اور تائب نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز نہ چاہئے نہ اس کے ہاتھ پر بیعت۔
READ MORE  ہندوستان دارالاسلام ہے یا نہیں اور اسمیں جمعہ کا کیا حکم ہے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top