رافضی کی نماز جنازہ پڑھانے کا کیا حکم ہے؟
:سوال
ایک شخص جو اثناء عشری مذہب رکھتا ہے اور کلمہ لا الله الا الله محمد رسول الله على خلافة بلا فصل وغيره اعتقادات کا معتقد ہے فوت ہوا ہے اس کا جنازہ ہمارے امام حنفی المذہب جامع مسجد نے پڑھایا اور اس کو نسل دیا نیز اس کے ختم میں شامل ہوار افضی جماعت نے امام مذکور کے نماز جنازہ پڑھانے کے بعد دوبارہ رافضی امام سے متوفی مذکور کی نماز جنازہ پڑھائی کیا امام مذکور خفی المذہب کا یہ فعل ائمہ احناف کے نزدیک جائز ہے ؟ اگرنا جائز ہے توکیا امام مذکور کا یہ فعل شرعا قابل تعزیر ہے اور کی تعزیر ہونی چاہئے؟
:جواب
صورت مذکورہ میں وہ امام سخت اشدر کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا، اس نے قرآن عظیم کا خلاف کیا، اللہ تعالی فرماتا ہے ولا تصل على احد منهم مات ابدا ) ترجمہ: ان کے کسی مردے کی نماز جنازہ کبھی نہ پڑھو۔ تعزیر یہاں کون دے سکتا ہے اس کی سزا حاکم اسلام کی رائے پر ہے وہ چاہتا تو پچھتر کوڑے لگاتا اور چاہتا تو قتل کر سکتا تھا کہ اس نے مذہب کی توہین کی ، اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں اور اسے امامت سے معزول کرنا واجب۔
یہ سب اس صورت میں ہے کہ اس نے کسی دنیوی طمع سے ایسا کیا ہو اور اگر دینی طور پر اسے کار ثواب اور رافضی تبرائی کو مستحق غسل و نماز جان کر یہ حرکات مردودہ کیں تو وہ مسلمان ہی نہ رہا اگر عورت رکھتا ہو اس کے نکاح سے نکل گئی کہ آج کل رافضی تبرائی عموما مرتدین ہیں اور بحکم فقہائے کرام تو نفس تبرا کفر ہے۔
READ MORE  حضور ﷺ کے دور میں دوبارہ نماز جنازہ کا ہونا

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top