کیا ایک شہر کی رؤیت سے دوسرے شہر میں رمضان یا عید ہوسکتی ہے یا ہر شہر و علاقہ کے لیے علیحدہ علیحدہ رویت ہونا ضروری ہے؟

کیا ایک شہر کی رؤیت سے دوسرے شہر میں رمضان یا عید ہوسکتی ہے یا ہر شہر و علاقہ کے لیے علیحدہ علیحدہ رویت ہونا ضروری ہے؟

:سوال
کیا ایک شہر کی رؤیت سے دوسرے شہر میں رمضان یا عید ہوسکتی ہے یا ہر شہر و علاقہ کے لیے علیحدہ علیحدہ رویت ہونا ضروری ہے؟
:جواب
ہمارے ائمہ کرام کا مذہب صحیح و معتمد یہی ہے کہ دربارہ ہلال رمضان و عید اختلاف مطالع کا کچھ اعتبار نہیں، اگر مشرق میں رویت ہو مغرب پر حجت ہے، اور مغرب میں تو مشرق پر اگر ثبوت بروجہ شرعی چاہئے ، خط یا تا ریا تحریر اخبار یا افواہ بازار یا حکایت امصار محض بے اعتبار۔
مزید پڑھیں:ایک مریض کو دن میں سخت تکلیف ہوئی، جس کی وجہ سے اسے دوا پلا دی گئی، اب اس روزے کی قضاء ہوگی یا کفارہ؟
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 03, Fatwa 95

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top