سحری کے بعد اپنی منکوحہ سے خوش طبعی کرتے ہوئے انزال ہو گیا تو روزے کا کیا حکم ہو گا؟

سحری کے بعد اپنی منکوحہ سے خوش طبعی کرتے ہوئے انزال ہو گیا تو روزے کا کیا حکم ہو گا؟

سوال
ماہ رمضان المبارک میں ایک شخص نے سحری کا کھانا کھا کر روزے کی نیت کر کے کھانا پینا بند کیا، اس کے بعد اپنی منکوحہ سے خوش طبعی کرتے ہوئے اسے انزال ہو گیا، یہ معاملہ صبح صادق سے پہلے ہوا ہو یا بعد میں، بہر صورت اس کے اور اس کی عورت کے روزے کا کیا حکم ہے؟
جواب
عورت کے لئے کچھ حکم نہیں اور مرد پر بھی کفارہ نہیں، اور اگر انزال قبل صادق ہو تو قضا بھی نہیں ، اور بعد صبح صادق ہوا اور اس وقت مس وغیرہ نہیں کر رہا تھا اُس کے بعد مجرد بقائے تصور سے واقع ہو ا جب بھی قضا نہیں، ورنہ اس روزہ کو پورا کرے اور ایک روزہ اس کے عوض رکھے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
مزید پڑھیں:کیا ایک شہر کی رؤیت سے دوسرے شہر میں رمضان یا عید ہوسکتی ہے یا ہر شہر و علاقہ کے لیے علیحدہ علیحدہ رویت ہونا ضروری ہے؟
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 03, Fatwa 110

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top