اگر دو صاحب کسی شخص کا روزہ زبردستی تڑ واد یں ان کے لیے کیا حکم ہے؟ اور جو صاحب روزہ توڑ یں وہ کیا کریں ؟

اگر دو صاحب کسی شخص کا روزہ زبردستی تڑ واد یں ان کے لیے کیا حکم ہے؟ اور جو صاحب روزہ توڑ یں وہ کیا کریں ؟

:سوال
اگر دو صاحب کسی شخص کا روزہ زبردستی تڑ واد یں ان کے لیے کیا حکم ہے؟ اور جو صاحب روزہ توڑ یں وہ کیا کریں ؟
: جواب
بلاضرورت و مجبوری شرعی فرض روزہ زبردستی تڑوانے والا شیطان مجسم و محق نار جہنم ہے اور بغیر سچی مجبوری کے فقط کسی کےبار ڈالنے یا زیر کرنے سے فرض روزہ توڑ دینے والے پر عذاب ہے، اور روزہ ادائے رمضان تھا تو حسب شرائط اس پر کفارہ واجب جس میں ساٹھ روزے لگا تار رکھنے ہوتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم
مزید پڑھیں:سحری کے بعد اپنی منکوحہ سے خوش طبعی کرتے ہوئے انزال ہو گیا تو روزے کا کیا حکم ہو گا؟
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 02, Fatwa 42

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top