نمازیوں کو دوران خطبہ پنکھا جھلنے پر دلیل
:سوال
زید دوران خطبہ ایک شخص کا دیگر نمازیوں کو پنکھا جھلنے پر یہ بھی دلیل دیتا ہے کہ جنت میں بروز جمعہ سب مومنوں کو ایک مکان میں جمع کر کے باری تعالیٰ بھی ہوا شمالی چلائے گا تا کہ باطمینان دیدار حق سبحانہ سے مشرف ہوں کما فی المسلم۔
:جواب
جنت میں اُس ہوا کی یہ غایت تا کہ باطمینان دیدار سے مشرف ہوں سخت ابعد و واجب الرد ہے، جنت میں معاذ اللہ گرمی و جبس کا کون سا وقت ہوگا جس کے ازالے کو ہوا کی حاجت ہو، اہل جنت کے لئے معاذ اللہ بے اطمینانی کا سامان کسی وقت ہوگا کہ تحصیل اطمینان کی ضرورت ہو، وہاں کے جتنے امور ہیں سب محض لذت و زیادت نعمت ہیں، لہذا محققین فرماتے ہیں دنیا میں حقیقہ کوئی لذت نہیں جسے لذت گمان کیا جاتا ہے، واقع میں دفع الم ( تکلیف کو دور کرنا ) ہے، پانی یا شربت کیسا ہی سر دو شیریں و خوشبو و خوشگوار ہو پیاس نہیں تو کچھ لذت نہیں دیتا، کھانا کیسا ہی لذیذ و عمده و خوشبو و خوش مزہ ہو بھوک نہیں تو کچھ لطف نہیں آتا ،
مزید پڑھیں:بعد نماز جمعہ چند لوگ حاضر ہوئے اب یہ جمعہ ادا کریں یا ظہر؟
تو حقیقت بھوک پیاس کا الم دفع ہوتا ہے، نہ لذت خالصہ وعلی ہذا القیاس باقی تمام ملاذ ، بخلاف بہشت کہ وہاں اصلا نہیں، نہ بھوک، نہ پیاس، نہ گرمی، نہ احتباس تو وہاں جو کچھ ہے خالص وحقیقی لذت ہے۔اور بفرض باطل ایسا ہو بھی تو وہاں کون سا خطبہ ہے اور ہاری عز و جل پر کس چیز کا استماع واجب، اور کس وقت اپنے کسی فعل سے باز رہنا لازم، اور اُسے کون سا فعل دوسرے سے مشغول کر سکتا ہے، پھر افعال الہیہ سے استناد عجب تماشا ہے، معبود و عابد کی کیار یس ، ہمیں اتباع احکام سے کام ہے ویس۔
مزید پڑھیں:دوران خطبہ بہ نیت ثواب دوسرے نمازیوں کو پنکھا جھلنا کیسا ہے؟
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 04, Fatwa 245 to 247

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top