دیہات میں جمعہ جائز ہے یا نہیں ؟ شہر کی تعریف کیا ہے؟
:سوال
دیہات میں جمعہ جائز ہے یا نہیں ؟ اور وہ آبادی جس کی مسجد میں اس کے ساکن نہ سما سکیں شہر ہے یا گاؤں؟
:جواب
دیہات میں جمعہ نا جائز ہے اگر پڑھیں گے گنہگار ہوں گے اور ظہر ذمہ سے ساقط نہ ہو گی ۔۔۔ صحت جمعہ کے لئے شہر شرط ہے، اور شہر کی یہ تعریف کہ جس کی اکبر مساجد میں اس کے سکان جن پر جمعہ فرض ہے یعنی مرد عاقل بالغ تندرست نہ سما سکیں ، ہمارے ائمہ ثلشہ رحمہم اللہ تعالی سے ظاہر الروایہ کے خلاف ہے اور جو کچھ ظاہر الروایہ کے خلاف ہے مرجوع عنہ اور متروک ہے۔۔۔ اور فتوی جب مختلف ہو تو ظاہر الروایہ پر عمل واجب ہے۔
مزید پڑھیں:جماعت جمعہ میں کم از کم کتنے آدمی ہونے چاہئیں؟
اقول :محقیقین تصریح فرماتے ہیں کہ قول امام پر فتوی واجب ہے اس سے عدول نہ کیا جائے اگر چہ صاحبین خلاف پر ہوں اگر چہ مشائخ مذہب قول صاحبین پر افتا کریں۔ تو جہاں قول صاحبین بھی امام ہی کے ساتھ ہے ایک روایت نوادر صرف بوجہ اختلاف فتاوای متاخرین کیونکہ معمول و مقبول اور آئمہ ثلثہ کا ظاہر الروایہ میں جوار شاد ہے متروک ولائق عدول ہو ، لا جرم شرح نقایہ و مجمع الانہر میں تصریح فرمائی ہے کہ شہر کی یہ تعریف محققین کے نزدیک صحیح نہیں۔
اقول: معہذ اہمارے ائمہ کرام رحمتہ اللہ علیہم نے جوا قامت جمعہ کے لئے مصر کی شرط لگائی اس کا ماخذ حضرت مولی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم کی حدیث صحیح ہے جسے ابو بکر بن ابی شیبہ وعبد الرزاق نے اپنی مصنفات میں روایت کیا ((لا جمعة ولا تشريق ولا صلوة فطر ولا اضحى الافي مصر جامع او مدينة عظيمة ( ) ترجمہ: جمعہ تکبیرات تشریق ، عید الفطر اور عید الاضحی جامع شہر یا بڑے شہر میں ہو سکتے ہیں۔ظاہر ہے کہ اس روایت غریبہ (یعنی وہ آبادی جس کی بڑی مسجد میں وہاں کے اہلیان جمعہ نہ سماسکیں ) کی تعریف بہت سے چھوٹے چھوٹے مزرعوں (دیہاتوں) پر صادق جنھیں کوئی مصر جامع یا مد ینہ نہ کہے گا۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ، ج 2 ، ص 101 ، ادارة القرآن والعلوم الاسلامیہ، کراچی)
مزید پڑھیں:دیہات میں جمعہ بقول امام شافعی جائز ہے حنفی پڑھیں کیا حکم؟
تو اس کا اختیار اصل مذہب سے عد دل اور ماخذ کا صریح خلاف ہے اور گویا مخالفوں کے اس اعتراض کا پورا کر لینا ہے کہ حنفیہ نےیہ شرط بے توقیف شارع اپنی رائے سے لگالی اس کے سوا عند التحقیق اس پر بہت اشکال وارد ہیں جن کی تفصیل کو دفتر درکار ہے۔ طرفہ یہ ہے کہ وہ پاک مبارک دو شہر جس کی مصریت پر اتفاق ہے اور ان میں زمانہ اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے جمعہ قائم یعنی مدینہ مکہ زار ہما اللہ تعالی شرفاوتکریما اس تعریف کی بنا پر وہی شہر ہونے سے خارج ہوئے جاتے ہیں۔۔۔ تو اس کی بے اعتباری میں کیا شبہ ہے۔
صحیح تعریف شہر کی یہ ہے کہ وہ آبادی جس میں متعدد کو چے ہوں دوائی بازار ہوں ، نہ وہ جسے پیٹھ کہتے ہیں، اور وہ پرگنہ ہے کہ اس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں اور اُس میں کوئی حاکم مقدمات رعایا فیصل کرنے پر مقرر ہو جس کی حشمت و شوکت اس قابل ہو کہ مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے۔ جہاں یہ تعریف صادق ہو وہی شہر ہے اور وہیں جمعہ جائز ہے۔ ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالی عنہم سے یہی ظاہر الروایہ ہے۔
مزید پڑھیں:کیا امام جو خطبہ دے رہا ہے اس کا معنی جاننا بھی ضروری ہے؟
READ MORE  مالک نصاب کس مہینے میں زکوۃ ادا کرے گا؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top