زکوۃ کے پیسوں سے دینی کتاب طبع کروانا کیسا؟

زکوۃ کے پیسوں سے دینی کتاب طبع کروانا کیسا؟

:سوال
ایسی کتاب دینی جو اگر طبع کی جائے تمام مسلمانان عالم میں مفید ثابت ہو سکتی ہے، اگر کوئی شخص زکوۃ کی رقم لوگوں سے جمع کر کے طبع کروائے، تو کیا یہ درست ہے؟
: جواب
جائز ہے اور اس میں چندہ دہندوں کے لیے اجر عظیم اور ثواب جاری ہے، جب تک وہ کتاب باقی رہے گی اور نسلاً بعد نسل جن جن مسلمانوں کو فائدہ دے گی ہمیشہ ان کا اجر ایک چندہ دہندے کو اُس کی حیات میں اور اُس کی قبر میں پہنچتا رہے گا۔ مگر اولا فقیر کو بہ نیت زکوۃ دے کر مالک کر دینا ضرور ہے پھر وہ فقیر طبع کتاب میں خود دے دے یا اس سے دلوادے۔ اور سب سے آسان یہ ہے کہ ایک دیندار شخص کے پاس سب زکوۃ دہندہ اپنا چندہ جمع کریں اور اس سے کہہ دیں کہ زرِز کوۃ ہے طریقہ شرعیہ پر بعد تملیک فقیر طبع میں ہمارے ثواب کے لیے صرف کر ۔ وہ ایسا ہی کرے ، سب زکو تیں بھی ادا ہو جائیں گی اور وہ دینی ضروری نافع کام بھی ہو جائے گا اور یہ اموال کا ملانا کہ باذن مالکانہ ہے کہ چندہ کا یہی طریقہ معروفہ معہودہ ہے کچھ مانع نہ ہو گا۔
مزید پڑھیں:زکوۃ فقیر شرعی کو دی، وہ مسجد کی تعمیرمیں لگا دے تو کیا حکم؟
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 04, Fatwa 223

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top