شعبان کی 29 کو چاند نظر نہ آئے اور افواہ ہو کہ چاند ہو گیا تو تراویح مع جماعت اور صبح کو روزہ رکھنا درست ہے یا نہیں؟

شعبان کی 29 کو چاند نظر نہ آئے اور افواہ ہو کہ چاند ہو گیا تو تراویح مع جماعت اور صبح کو روزہ رکھنا درست ہے یا نہیں؟

سوال
شعبان کی 29 کو چاند نظر نہ آئے اور افواہ ہو کہ چاند ہو گیا لیکن شہادت دینے والا نہ ملے تو شب کو تر اویح مع جماعت کرنا جائز ہے یا نہیں اور صبح کو روزہ رکھنا درست ہے یا نہیں؟
جواب
ایسی صورت میں نہ شب کو تر اویح پڑھنی جائز ، نہ صبح کو روزہ رمضان رکھنا حلال ۔ بلکہ اگر جماعت نہ کریں اکیلے میں رکھتیں پڑھیں اور تراویح کی نیت کریں جب بھی شرع مطہر پر زیادت کرنے والے ہوں گے شرع مظہر نے شب ہائے رمضان میں رکھی ہیں اور یہ رات اُن کے لیے شب رمضان نہیں۔
مزید پڑھیں:جنتری کے حساب سے روزہ رکھنا یا عید کرنا یا کسی دیگر ماہ کی تاریخ مقرر کرنا درست ہے؟
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 05, Fatwa 325

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top