یہ جو مشہور ہے کہ رجب کی چوتھی جس دن کی ہوتی ہے اُسی دن رمضان کی پہلی ہوتی ہے اور جو شوال کی پہلی ہے اور جو ہوتی ہے اُسی روز عاشورہ ہوتا ہے یہ معتبر ہے یا نہیں؟
سوال
یہ جو مشہور ہے کہ رجب کی چوتھی جس دن کی ہوتی ہے اُسی دن رمضان کی پہلی ہوتی ہے اور جو شوال کی پہلی ہے اور جو ہوتی ہے اُسی روز عاشورہ ہوتا ہے یہ معتبر ہے یا نہیں؟
جواب
یہ محض بے اصل ہے اور تجربہ بھی اس کے خلاف پر شاہد ، اور اس پر اعتماد شرع ہرگز جائز نہیں۔ تمام قیاسات حسابات و قرائن کہ عوام میں مشہور ہیں شرعا باطل و مہجور ہیں ، صرف انہی طریقوں پر اعتماد جائز ہے جو ماقبل ( چار سوال پہلے ) گزرے ہیں۔
مزید پڑھیں:شعبان کی 29 کو چاند نظر نہ آئے اور افواہ ہو کہ چاند ہو گیا تو تراویح مع جماعت اور صبح کو روزہ رکھنا درست ہے یا نہیں؟
READ MORE  بزرگوں کے مزار پر شمع روشن کرنا کیا اسراف میں داخل نہیں؟

About The Author

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top