رمضان یا عید کے لیے فاسق کی گواہی قبول کرنے کا حکم؟

رمضان یا عید کے لیے فاسق کی گواہی قبول کرنے کا حکم؟

:سوال
ہلال رمضان مبارک یا عیدین اگر دس یا پانچ آدمیوں مسلمانوں نے مشاہدہ کیا اور سب فاسق ہیں لیکن معاملات میں ایسے ثقہ ہیں کہ مفتی کو ان کی شہادت پر یقین تام ہوتا ہے، اس صورت میں روزہ رمضان شریف کا فرض ہو گا یا نہیں ؟ اور نماز عید درست ہوگی یا نہیں؟
:جواب
صحیح یہ ہے کہ مسلمان اگر چہ فاسق ہو اہل شہادت ہے مگر اس کی شہادت قبول کرنی نا جائز ہے ماسوا اس حالت کے کہ اُس کے بارے میں کہ حاکم کو تمری صدق ہو کہ یہ بھی تبین میں داخل ہے۔ جب مفتی اہل فتوی کو ان کے بارے میں تمری صدق ہو تو اُس کا حکم حجت شرعیہ ہے، رمضان و فطر واجب ہو جائیں گے اور اسکے حکم کے بعد عوام میں کسی کو خلاف کی گنجائش نہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
مزید پڑھیں:چاند کی گواہی کس کے سامنے دی جائے، قاضی یا حاکم یا واعظ؟
READ MORE  زکوۃ دیئے مال پر اگلا سال آنے پر کیا دوبارہ سے زکوۃ ہوگی؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top