خطیب کا خطبہ ثانی میں ایک سیڑھی اترنا اور چڑھنا کیسا؟
:سوال
خطیب کو خطبہ ثانی میں منبر سے ایک سیڑھی اُترنا اور پھر چڑھ جانا یہ شرع شریف میں جائز ہے یا نہیں؟ بعض علماء اس کو بدعت شنیع کہتے ہیں اور حوالہ یہ دیتے ہیں کہ شامی میں لکھا ہے کہ
قال ابن حجر في التحفة وبحث بعضهم ان ما اعتيد الآن من النزول في الخطبة الثانية الى درجة سفلى ثم العود بدعة قبيحة شنيعة
ترجمہ: ابن حجر نے تحفہ میں فرمایا کہ بعض لوگوں نے یہ بحث کی ہے کہ یہ جو عادت بنائی گئی ہے کہ دوسرے خطبہ کے وقت منبر کی نچلی سیڑھی اور پھر دوبارہ اوپروالی سیڑھی پر چلا جانا بدترین بدعت ہے۔ اور بعض علماء سے پوچھا گیا تو وہ اسے جائز کہتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے کسی فعل کو بغیر دلیل کے بدعت شنیعہ کہنا بڑی سخت بات ہے۔
:جواب
کسی فعل مسلمین کو بدعت شنیعہ و نا جائز کہنا ایک حکم مسلمانوں پر ۔ اللہ ورسول پر تو یہ حکم کہ ان کے نزدیک یہ فعل ناروا ہے انھوں نے اس سے منع فرما دیا ہے، اور مسلمانوں پر یہ کہ وہ اس کے باعث گنہگار ومستحق عذاب و نا راضی رب الارباب ہیں، ہر خدا ترس مسلمان جس کے دل میں اللہ ورسول کی کامل عزت و عظمت اور کلمہ اسلام کی پوری تو قیر وقعت اور اپنے بھائیوں کی سچی خیر خواہی ومحبت ہے کبھی ایسے حکم پر جرات روانہ رکھے جب تک دلیل شرعی واضح سے ثبوت کافی و وافی نہ مل جائے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے
(ام تقولون على الله مالا تعلمون )
ترجمہ: یا تم ایسی بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہتے ہو جس کا تمھیں علم نہیں کیا اللہ عزوجل پر بے علم حکم لگائے دیتے ہو۔
دلیل شرعی مجتہد کے لئے اصول اربعہ ہیں اور ہمارے لئے قول مجتہد صرف ایسی ہی جگہ علمائے کرام علم بالجزم لکھتے ہیں اس کے سوا اگر کسی عالم غیر مجتہد نے کسی امر کی بحث کی تو ہرگز اس مسئلے کو یونہی نہیں لکھ جاتے کہ حکم یہ ہے بلکہ صراحتہ بتاتے ہیں کہ یہ فلاں یا بعض کی بحث ہے تا کہ منقول فی المذ ہب نہ معلوم ہو اور جس کا خیال ہے اس کے ذمہ رہے۔ اگر احیانا کوئی اسے بطور جزم لکھ جاتا ہے تو اس پر گرفت ہوتی ہے کہ ساقها مساق المنقول في المذهب بی اس مسلے کو ایسا لکھ گیا گویا مذ ہب میں منقول ہے۔
خود اسی رد المحتار وغیرہ کے مواضع عدیدہ سے نظر کرنے والوں کو یہ بیان عیاں ہو جائے گا، یہاں بھی علامہ شامی نے وہی طریق برتا، یہ نہ فرمایا که نزول و صعود ممنوع یا بدعت شنیعہ ہے بلکہ ابن حجرشافعی کا کلام نقل فرمادیا کہ ماخذ مسئلہ متمیز رہے، منقول فی الذہب ہونا در کنار اپنے کسی عالم مذہب کا مذکور نہ سمجھا جائے ، وہی تحفظ امام ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے ملحوظ رکھا مسلے کا حکم خود نہ لکھا جس سے جزم مفہوم ہو، بلکہ فرمایا بحث بعضهم بعض نے یوں بحث کی ہے، بحث و ہیں کہیں گے جہاں مسئلہ نہ منقول ہو نہ صراحتہ کسی کلیہ نامخصوصہ مذہب کے تحت میں داخل ہو کہ ایسے کلیات سے استناد بحث و نظر پر موقوف نہیں مثلاً سوال کیا جائے کہ ایک لڑکے نے چھ مہینے پانچ دن چار گھڑی تین منٹ کی عمر میں ایک عورت کا دودھ پیا اس کی دختر اس پر حرام ہوئی یا نہیں؟ جواب ہوگا کہ حرام، یہ صورت خاصه اگر چہ اصلاً کسی کتاب میں منقول نہیں مگر اسے ہرگز بحث فلاں نہ کہا جائے گا کہ کتب مذہب میں اس کلیہ عامہ کی تصریح ہے کہ مدت رضاعت کے اندر جوار تضاع ہو موجب تحریم ہے، تو ثابت ہوا کہ علامہ شامی یا امام ابن حجر اسے کسی کلیہ مذہب کے نیچے بھی صراحتہ داخل ہونا نہیں مانتے ورنہ یہ قال ابن حجر و بحث بعضهم “ (ابن حجر نے کہا اور اس میں بعض نے بحث کی ہے) پر اکتفا نہ کرتے، پھر بعضهم کے لفظ نے اور بھی اشعار کیا کہ یہ خیال صرف بعض کا ہے اکثر علماء اس کے مخالف ہیں، لا اقل (کم از کم ) ان کی موافقت ثابت نہیں، خود علامہ شامی نے اسی ردالمختار میں اس اشارہ واشعار کی جابجا تصریح کی، در مختار میں نظم الفرائد سے نقل کیا ” واعتاقه بعض الائمة ينكر “ (بعض ائمہ کا اسے آزاد قرار دینا نا پسند ہے )۔
اس پر علامہ شامی نے اعتراض فرمایا ہے
” مفهوم قول بعض الائمة يـنـكــر انــه يـحـوزه اكثرهم ولم ينقل ذلك
ترجمہ: قوله بعض الائمة ينكر “ کا مطلب یہ ہے کہ اکثر نے اس نے اسے جائز قرار دیا ہے۔
(رد المختار،ج 5 ،ص339 مصطفی البابی مصر)
بلکہ تصریح فرمائی کہ ایسی تعبیر اس قول کی بے اعتمادی پر دلیل ہوتی ہے۔ در مختار کتاب الغصب میں تھا
اختار بعضهم الفتوى على قول الكرخي في زماننا
ترجمہ: ہمارے زمانے میں بعض نے امام کرخی کے قول پر فتوی دیا ہے۔ شامی نے کہا ” هذا من كلام الزيلعي اتى به لاشعار هذا التعبير بعدم اعتمادہ “ ترجمہ: یہ امام زیلعی کا کلام ہےان کی یہ تعبیر واضح کر رہی ہے کہ یہ معتمد نہیں۔
رد المختار، ج 6 ص 135 مصطفی البابی مصر)
اس تقریر منیر سےبحمد اللہ تعالی روشن ہوگیا کہ علامہ شامی خواه امام ابن حجرکی تحریر اس دعوے جزم بحکم عدم جواز کے اصلاً
مساعد نہیں بلکہ ہے تو مخالف ہے۔ اب رہی بعض کی بحث
اقول اولا : وہ بعض مجہول ہیں اور مجہول الحال کی بحث مجہول الماخذ کیا قابل استناد بھی نہیں۔ اسی رد المحتار کتاب النکاح باب الولی میں ہے
قول المعراج رأيت في موضع الخ لا يكفى في النفل لجهالته
ترجمہ: صاحب معراج کا قول کہ میں نے کسی جگہ پڑھا ہے الخ ان کے عدم علم کی وجہ سے نقل کے لئے کافی نہیں۔
ردالمختار ج ص 339 مصطفی البابی مصر)
ثانيا محتمل بلکہ ظاہر کہ وہ بعض ائمہ مجتہدین سے نہیں اور مقلدین صرف کہ کسی طبقہ اجتہاد میں نہ ہوں نہ خود اپنی بحث پر حکم لگا سکتے ہیں، نہ دوسرے پر ان کی بحث حجت ہوسکتی ہے۔
والا لكان تقلید مقلد وهو باطل اجماعا
ترجمه: ورنہ یہ مقلد کی تقلید ہو جائے گی اور وہ بالا تفاق باطل ہے۔
ثالثاً اس پر کوئی دلیل ظاہر نہیں ۔
اگر کہے حادث ہے اقول : مجرد حدوث اصلا نہ شرعا دلیل منع ، نہ اس کی حجیت، علامہ شامی نہ امام ابن حجر نہ ان بعض کسی کو تسلیم ۔ رد المحتار میں ہے صاحب
صاحب بدعة اى محرمة والا فقد تكون واجبة كنصب الادلة للرد على اهل الفرق الضالة وتعلم النحو المفهم للكتاب والسنة ومندوبة كاحداث نحو رباط ومدرسة و كل احسان لم يكن في الصدر الأول ومكروهة كزخرفة المساجد ومباحة كالتوسع بلذيذ المأكل والمشارب الصياد كما في شرح جامع الصغير للمناوى عن تهذيب النوى ومثله في الطريقة المحمدية للبركوى
صاحب بدعت یعنی بدعت محرمه والا ، ورنہ کبھی بدعت واجبہ ہوتی ہے جیسے کہ گمراہ فرقوں کی گمراہی کا رد کرنے کے لئے دلائل قائم کرنا اور علم نحو کاسیکھنا جو کتاب وسنت کی تفہیم کے لئے ضروری ہے اور بھی مستحب ہوگی جیسے کہ سرائے اور مدرسہ اور ہر نیکی کا کام جو پہلے دور میں نہ تھا، اور کبھی مکروہ ہوگی جیسے مساجد کو مزین کرنا، اور مباح ہو گی جیسے کھانے پینے اور لباس میں وسعت اختیار کرنا جیسا کہ امام مناوی نے شرح جامع صغیر میں تہذیب نوی سے بیان کیا، اور برکوی کی طریقہ محمدیہ میں بھی اسی طرح ہے۔
(ردالمختار ج 1 ص 414 مصطفی البابی مصر)
امام ابن حجر فتح المبین میں فرماتے ہیں
الحاصل ان البدعة الحسنة متفق على ندبها وعمل المولد واجتماع الناس له كذلك
ترجمہ: حاصل یہ ہے کہ بدعت حسنہ کے مندوب ہونے پر اہل علم کا اتفاق ہے، میلا د شریف کرنا اور اس کے لئے لوگوں کا اجتماع بھی بدعت حسنہ ہی ہے۔
خود اسی قول میں بدعت کو قبیحہ شنیعہ سے مقید کرنا مشعر ہے کہ نفس بدعیت مستلزم قبیح و شناعت نہیں معہذ ایوں تو وہ حل جس پر یہ نزول و صعود ہوتا ہے یعنی اگر سلاطین خور ہی بدعت تھا تو اس نزول و صعود کے ساتھ تخصیص کلام کی وجہ نہ تھی۔
اگر کہئے زیادت علی السنہ ہے، اقول یوں تو ذکر سلاطین بلکہ ذکر عمین کریمین و بتول زہریحافتین مصطفی دسته با قیہ من العشرة المهثر بلکہ ذکر خلفاے اربعہ بھی صلی للہ تعالی علی الحبیب علیم جمیعا وبارک وسلم سب سے زیادت علی سنتہ المصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ٹھہریں گے۔ زیادت علی سنتہ ہ وہ مکروہ ہے کہ باعتقاد سنت ہو ورنہ باعتقادا باحت یا ندب زیادت نہیں ۔ در مختار بیان سنن الوضوء میں ہے
لوزاد لطمانينة القلب أو القصد الوضوء على الوضوء لاباس به وحديث فقد تعدى محمول على الاعتقاد
ترجمہ: اگر کسی نے (تین سے زائد بار اعضاء کو دھویا اور مقصد اطمینان قلب یا وضو پر وضو تھا تو اس میں کوئی حرج نہیں ، باقی فرمان نبوی ایسا کرنے والے نے زیادتی کی اعتقاد ( کہ اس کے بغیر وضو نہیں ہوتا) پر محمول ہے۔
در مختار ج 1 ص 22 مطیع مجتبائی وہلی)
اسی رد المحتار میں بدائع امام ملک العلماء سے ہے
الصحيح انه محمول على الاعتقاد دون نفس الفعل حتى لو زاد او نقص واعتقد ان الثلاث سنة لا يلحقه الوعيد
“ ترجمہ صحیح یہ ہے کہ یہ اعتقاد پر محمول ہے نفس فعل پر نہیں حتی کہ اگر کسی نے اضافہ کیا یا کمی کی مگر عقیدہ یہ تھا کہ سنت تین دفعہ ہی ہے تو اسے وعید لاحق نہ ہوگی۔
(رد المختار ، ج 1 ص 89 مصطفی البابی مصر)
البتہ اگر کہئے اس میں اندیشہ ہے کہ عوام سنت سمجھ لیں گے۔
اقول اولا : وہی نقوض ہیں کہ یہ نفس اذکار بھی سنت نہیں تو اندیشہ یہاں بھی حاصل ۔ اور تحقیق یہ ہے کہ اندیشہ مذکورہ نہ فعل کو بدعت قبیحہ شنیعہ کر دیتا ہے نہ اس کے ترک کو واجب ، بلکہ جہاں اندیشہ ہو صرف اتنا چاہئے کہ علماء بھی بھی اُسے بھی ترک کر دیں تا کہ عوام سنت نہ سمجھ لیں ، اسے نا جائز و بدعت قبیحہ ہونے سے کیا علاقہ افقیر غفر المولی القدیر نے اپنی کتاب رشاقة الكلام حاشية اذاقة الاثام میں اس کی بکثرت تصریحات ائمہ دین علمائے معتمدین حنفی و شافعیہ مالکیہ رحمہ اللہ علیھم اجمعین سے نقل کیں۔
اسی رد المحتار میں فتح القدیر سے ہے
مقتضى الدليل عدم المداومة لا المداومتہ على الترك فان لزوم الايهام ينتفى بالترك احيانااھ باختصار
ترجمہ: دلیل کا تقا ضا عدم مداومت ہے نہ کہ ترک پر مداومت کیونکہ کبھی کبھار ترک سے لازم و واجب ہونے کی نفی ہو جاتی ہے۔
وانا اقول وبالله التوفیق اور میں اللہ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں ) جن اعصار و امصار میں بعض نے یہ بحث کی وہاں اس فعل پر ایک نکتہ جمیلہ ودقیقہ جلیلہ اصول شرعی سے ناشی ہو سکتا ہے جس سے یہ فعل شرعا نہایت مفید و مہم قرار پاتا اور بحث باحث کا اصلا پتا نہیں رہتا ہے خطبے میں ذکر سلاطین اگر چہ محدث ہے مگر شعار سلطنت قرار پا چکا یہاں تک کہ کسی ملک میں کسی کی سلطنت ہونے کو یوں تعبیر کرتے ہیں کہ وہاں اس کا سکہ و خطبہ جاری ہے، سلطنت اسلامی میں اگر خطیب ذکر سلطان ترک کرے مورد عتاب ہوگا مصر ہو تو گویا باغی اور سلطنت کا منکر ٹھہرے گا اور ایسی حالت میں مباح بلکہ مکروہ بھی بقدر را ندیشہ فتنہ موکد ترک بلکہ واجب تک مترقی ہوتا ( ترقی کر کر جاتا جاتا ہے۔ ہے۔ اسی رد المحتار مختار میں اسی مسئلہ ذکر سلطان میں ہے
و ایضا ا فان الدعاء للسلطان على المنابر قد صار الآن من شعار السلطنة فمن تركه يخشى عليه ولذا قال بعض العلماء لو قيل ان الدعاء له واجب لما في تركه من الفئة غالبا لم يبعد كما قيل به في قيام الناس بعضهم لبعض
ترجمہ: سلطان کے لئے منبر پر دعا کرنا بھی اب سلطنت کے شعار میں سے ہو گیا ہے، جو اسے ترک کرے گا اس پر نقصان کا خدشہ ہے اس لئے بعض علماء نے فرمایا کہ اس میں کوئی بُعد نہیں اگر یہ کہہ دیا جائے کہ سلطان کے لئے دعا کرنا واجب ہے کیونکہ اس کے ترک پر غالبا فتنہ اٹھنے کا اندیشہ ہوتا ہے جیسا کہ بعض لوگوں کے بعض کے لئے قیام کے بارے میں کہا گیا ہے۔ )
اور شک نہیں کہ صد ہا سال سے اکثر سلاطین زمان فساق ہیں، اس کا فسق اور کچھ نہ ہو تو حدود شرعیہ یک لخت اٹھا دینا اور خلاف شریعت مطہرہ طرح طرح کے ٹیکس اور جرمانے لگانا کیا تھوڑا ہے۔ اسی رد المحتار آخر کتاب الاشربہ میں سیدی عارف بالله عبد الغنی نابلسی قدس سرہ القدری سے ہے
قد قالوا من قال . سلطان زماننا عادل كفر
ترجمہ: علماء نے فرمایا جو ہمارے دور کے سلطان کو عادل کہے گا وہ کافر ہے۔
رو الحتار، ج 5، ص 327 مصطفی البابی مصر )
اور شک نہیں کہ جس طرح وہ خطبہ میں اپنا نام نہ لانے پر ناراض ہوں گے یوں ہی اگر نام بے کلمات مدح و تعظیم لایا جائے تو اس سے زیادہ موجب افروختگی ہوگا اور فاسق کی مدح شرعا حرام ہے۔ حدیث میں رسول اللہ لا الہ تعالی علیہ سلم فرماتے ہیں
(اذا مدح الفاسق غضب الرب واهتز له العرش)
ترجمہ: جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب عز و جل غضب فرماتا ہے اور اس کے سبب عرش الہی ہل جاتا ہے۔
(شعب الایمان ، ج 4، ص 230 ، دار الكتب العلمية، بيروت)
خطباء جب کہ مجبورانہ اس میں مبتلا ہوئے ان بندگان خدا نے چاہا کہ اس ذکر کو خطبے سے علیحدہ بھی کر دیں کہ نفس عبادت اس امر پر مشتمل ہے اور بالکل خطبے سے جدائی بھی نہ معلوم ہو کہ آتش فتنہ مشتعل نہ رہے اس کے لئے اگر یوں کرتے کہ خطبہ پڑھتے پڑھتے کچھ دیر خاموش رہتے اس کے بعد ذکر سلاطین کر کے بقیہ تمام کرتے تو یہ ہرگز کافی نہ تھا کہ مجلس واحد رہی اور مجلس واحد حسب تصریح کا فہ ائمہ جامع کلمات ہوتی ہے جو کچھ ایک مجلس میں کہا گیا گویا سب الفاظ دفعة واحدة معا صادر ہوئے۔
لہذا یہ تدبیر نکالی کہ اس ذکر کے لئے زینہ زیریں تک اتر آئیں اور بقدر امکان مجلس بدا ن مجلس بدل دیں کہ خطبہ پڑھتے پڑھتے نیچے اتر نا شرعاً اس کے قطع ہی کے لئے معہود ہے تو عموما اجنبی خصوصاً به نیت قطع تبدل مجلس و انفصال ذکر کا باعث ہوگا جس طرح تلاوت آیت سجدہ میں ایک شاخ سے دوسری پر جانے کو علماء نے تبدیل مجلس گنا ہے۔ اس رد المحتار میں ہے
لعل وجهه ان الانتقال من غصن الى غصن والتسدية ونحو ذلك اعمال اجنبية كثيرة يختلف بها المجلس حكما
ترجمہ: شاید وجہ یہ ہے کہ ایک شاخ سے دوسری شاخ کی طرف منتقل ہونا اور کپڑا بنانے کے لئے تانالگانا اعمال اجنبی اور کثیر ہیں جن کی وجہ سے مجلس حکما مختلف ہو جاتی ہے۔
(رد المحتار ج 1، ص 574، مصطفی البابی، مصر)
اس میں اس قدر ہوگا کہ بیچ میں محلہ قطع کرنا ہوا اس محظور (ممنوع کام) کے دفعہ کو، اس میں کیا محذور(ڈر ہے) جب خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے صحیح حدیث شاہزادوں کے لینے کے لئے خطبہ قطع فرما کر بیچے اترنا پھر او پر تشریف لے جانا ثابت ، تو بعضہم کی بحث اصلا متجر نہ تھی غرض نقل مذکور میں مدعی عدم جواز کے لئے کوئی محل احتجاج نہیں۔
جہاں صورت یہ ہو جو فقیر نے ذکر کی وہاں اس نزول و صعود سے یہی نیت کریں اور جب ذکر و مدح سلطان ترک نہ کر سکیں اس مصلح سے ترک کی کوئی وجہ نہیں اور جہاں ایسا نہ ہو جیسا ہمارے بلاد میں وہاں مدح میں الفاظ باطلہ ومخالفہ شرح ذکر کرنا خود حرام خالص ہے، خصوصاً کذب و شائع کو عبادت میں ملانا، تو اس کیلئے یہ نزول عذر نہیں ہو سکتا، اور جب مخالفات شرع سے پاک تو بہ نیت اظہار مراتب ( یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خلفاء راشدین وغیرہ اور ان سلاطین کے مراتب کا فرق ظاہر کرنے کے لئے ایسا کریں یعنی سیڑھی اتریں ) جس طرح شیخ مجد درحمہ اللہ تعالی کے مکتوبات میں ہے۔ نزول و صعود ایک وجہ موجہ رکھتا ہے اس صورت میں اس پر نکیر لازم نہیں ، ہاں عوام سے اندیشہ اعتقاد سنیت کے سبب علماء کو مناسب کہ گاه گاه اس نزول صعود بلکہ خود ذکر سلطان اعز الله نصرہ کو بھی ترک کریں ورنہ دعائے سلطان اسلام محبوب و مندوب ہے اور اس نیت کے لئے نزول و صعود میں بھی حرج نہیں، اور بے دلیل شرعی مسلمانوں پر الزام گناه و ارتکاب بدع شنیعہ باطل مبین۔
READ MORE  جمعہ کا روزہ نقل رکھنا کیسا ہے ؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top