جنازہ کے چند مسائل
:سوال
ایک آدمی کہتا ہے کہ بے نمازی کے جنازے کی نماز پڑھنا جائز نہیں ، قبر پر اذان دینا بھی جائز نہیں، فاتحہ گیارہویں شریف کی نیاز کرنا جائز نہیں ، اور یہاں پر سب مسلمانوں کو گمراہ کئے دیتا ہے، آپ اس بارے میں ہماری راہنمائی فرمائیں۔
: جواب
اس شخص کے مسئلے محض غلط اور بے سند ہیں، جنازے کی نماز ہر مسلمان پر فرض ہے الا ما استثناه العلماء وليس هذا منهم ( مگر وہ جن کا علماء نے استثناء کیا ہے اور یہ ان میں سے نہیں) ، قبر پر اذان دینا جائز ہے
كما هو مبين في ايذان الاجرفي اذان القبر
( جیسا کہ ہمارے رسالہ ایذان الا جرفی اذان القبر “ میں اس کا واضح بیان ہے )
اور فاتحہ اور گیارہویں شریف کی نیاز و ایصال ثواب اہلسنت کے نزدیک جائز و بہتر ہے۔ كما في الهداية وفتح القدير والدر المختار وردالمحتار وغيرها (جیسا کہ ہدایہ فتح القدیر، در مختار اور دالمحتار وغیر ہامیں ہے ) تو ان چیزوں کو جونا جائز کہے اس سے ایک ہی بات دریافت کرنا کافی ہے وہ یہ کہ تو جونا جائز کہتا ہے آیا اللہ و رسول نے انہیں نا جائز کہا ہے یا تو اپنی طرف سے کہتا ہے؟ اگر اللہ درسول نے نا جائز کہا ہے تو دکھا کون سی آیت یا حدیث میں ہے کہ اذان جو مسلمان کی قبر پر دفع شیطان ودفع وحشت و حصول اطمینان و نزول برکت کے لئے کہی جائے وہ نا جائز ہے اور فاتحہ اور گیارہویں شریف بغرض ایصال ثواب کی جائے نا جائز ہے۔ اور اگر اللہ ورسول نے نا جائز نہ کہا تو خود اپنی طرف سے کہتا ہے تیرا قول تیرے منہ پر مردود ہے، بغیر خدا و رسول کے منع فرمائے ہوئے کوئی چیز نا جائز نہیں ہو سکتی۔ ہمیں قرآن وحدیث نے قاعدہ کلیہ ارشاد فرمایا کہ اللہ ورسول جس بات کا حکم دیں وہ واجب ہے جس سے منع فرمائیں وہ نا جائز ہے اور جس کا کچھ ذکر نہ فرمائیں وہ معافی میں ہے، وہ اگر واجب نہیں تو نا جائز بھی نہیں ۔
READ MORE  نصف النہار ( مکر وہ وقت کی ابتداء ) کے جاننے کا طریقہ کیا ہے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top