...
خطیب کے سامنے جو آذان ہوتی ہے مقتدیوں کو اُس کا جواب دینا اور جب وہ خطبوں کے درمیان جلسہ کرے مقتدیوں کو دُعا کرنا چاہئے یا نہیں؟

خطیب کے سامنے جو آذان ہوتی ہے مقتدیوں کو اُس کا جواب دینا اور جب وہ خطبوں کے درمیان جلسہ کرے مقتدیوں کو دُعا کرنا چاہئے یا نہیں؟

سوال
خطیب کے سامنے جو آذان ہوتی ہے مقتدیوں کو اُس کا جواب دینا اور جب وہ خطبوں کے درمیان جلسہ کرے مقتدیوں کو دُعا کرنا چاہئے یا نہیں؟
جواب
ہرگز نہ چاہئے یہی احوط ( زیادہ محتاط ہے ) ہاں یہ جواب اذان یا دعا اگر صرف دل سے کریں زبان سے تلفظ اصلا نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔
اور امام یعنی خطیب تو اگر زبان سے بھی جواب اذان دے یا دعا کرے بلا شبہ جائز ہے
وقد صح كلا الامرين عن سيد الكونین صلى الله تعالى عليه وسلم في صحيح البخاري و غيره
( صحیح بخاری وغیرہ میں ہے یہ دونوں امور سید کو نین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت ہیں )

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.