ایسا نیا نیک کام جو قرآن وسنت سے نہ ٹکراتا ہو کرنا کیسا ہے؟
:سوال
شریعت میں ایسا نیا نیک کام جو قرآن وسنت سے نہ ٹکراتا ہو کرنا کیسا ہے؟
:جواب
علامہ شعرانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب عہود المشائخ میں فرمایا ہے کہ ہم اپنے دوستوں میں سے کسی کو ایسے امر پر نکیر ( منع کرنے کی )اجازت نہ دیں گے جسے مسلمانوں نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں تقرب کے طور پر ایجاد کیا ہو اور اسے اچھا جانتے ہوں، خصوصاً ایسا کام جس کا تعلق خدائے تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو جیسے جنازہ کے آگے لا الہ الالله
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا اور اس کے سامنے قرآن کی تلاوت کرنا، یا ایسے دوسرے کام۔ جو اسے حرام کہے وہ فہم شریعت سے قاصر ہے، اس لئے ہر وہ کام جو عہد رسول اللہ تعالی علیہ وسلم میں نہ ر ہا ہو برا نہیں،
اگر یہ دروازہ کھولا جائے تو مجتہدین کرام کے وہ سارے اقوال مردود ٹھہریں جو انھوں نے اپنی پسند کردہ اچھی چیزوں کے بارے میں فرمائے ہیں اور اس کا کوئی قائل نہیں۔ خود رسول اللہ صلی اللہ یہ سلم نے اپنی امت کے علماء کے لئے یہ دروازہ کھول رکھا ہے اور انھیں اجازت دی ہے کہ جو طریقہ بھی اچھا سمجھیں اسے جاری کریں اور رسول اللہ صل للہ عیہ سل کی شریعت میں شامل کریں یہ اجازت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد گرامی سے ثابت ہے ( من سن سنة حسنة فله أجرة من يعمل بها) یعنی جوشخص کوئی اچھا کام ایجاد کرے اسے اس ایجاد کا ثواب ملے گا اور اس طریقے پر آئندہ سارے عمل کرنے والوں کا بھی ثواب ملے گا۔
حدیقہ مداریہ شرح طریقہ محم سوراج 2 میں 6-408 اور پ رضویہ (ص 144)
READ MORE  روزہ دار کے لیے سرمہ لگانے کا کیا حکم ہے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top