جمعہ کے دو خطبوں کے درمیان مقتدی کا دعا مانگنا کیسا ہے؟
:سوال
جمعہ کے دو خطبوں کے درمیان مقتدی کا دعا مانگنا کیسا ہے؟
:جواب
مقتدی ان کے بارے میں ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم مختلف، امام ثانی عالم ربانی قاضی الشرق و الغرب حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیک انھیں صرف بحالت خطبہ سکوت واجب ، قبل شروع و بعد ختم و بین الخطبتين دعا وغیرہ کلام دینی کی اجازت دیتے ہیں، اور امام الائمہ مالک الازمہ حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ خروج امام سے ختم نماز تک عند التحقیق دینی و دنیوی ہر طرح کے کلام یہاں تک کہ امر بالمعروف و جواب سلام بلکہ مخل استماع ہر قسم کے کام سے منع فرماتے ہیں اگر چہ کلام آہستہ ہو اگر چہ خطیب سے دور بیٹھا ہو کہ خطبہ سننے میں نہ آتا ہو، امام ثالث محرر المذ ہب محمد بن الحسن رحمہ اللہ تعالی بین الخطبتین میں امام اعظم اور قبل و بعد میں امام ابو یوسف کے ساتھ ہیں۔
تحقیق یہی ہے، اگر چہ یہاں اختلاف نقول حد اضطراب پر ہے کہ سب کو مع ترجیح و تنقیح ذکر کیجئے تو کلام طویل ہو، اس تحقیق کی بنا پر حاصل اس قدر کہ مقتدی دل میں دعا مانگیں کہ زبان کو حرکت نہ ہو تو بلا شبہ جائز کہ جب عین حالت خطبہ میں وقت ذکر شریف حضور پر نورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دل سے حضور پر درود بھیجنا مطلوب، تو بین الخطبتین کہ امام ساکت ہے دل سے دعا بدرجہ اولی روا۔ ردالمحتار میں ہے اذا ذكر النبي صلى الله تعالى عليه وسلم لا يجوز ان يصلوا عليه : بالجهربل بالقلب و عليه الفتوى رملی “ ترجمہ: جب سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ سلم کا مبارک ذکر آئے تو بالجہر کی بجائے دل میں درود شریف پڑھ لیا جائے ، اسی پر فتوی ہے، رملی۔
(ردالمحتار، ج 1 میں 808 مطبوعہ مصطفی البابی مصر )
اور زبان سے مانگنا امام کے نزدیک مکروہ اور امام ابی یوسف کے نزدیک جائز، اور مختا رقول امام ہے، تو بیشک مذہب منقح حنفی میں مقتدیوں کو اس سے احتراز کا حکم ہے۔
READ MORE  روزوں کا فدیہ کس کو دے سکتے ہیں؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top