دو خطبوں کے درمیان دعا کو حرام، بدعت سیئہ اور شرک کہنا کیسا؟
:سوال
وہابیہ دو خطبوں کے درمیان دعا مانگنے کو حرام، بدعت سیئہ اور شرک قرار دیتے ہیں۔ اس طرح کہنا کیسا ؟
:جواب
غایت یہ کہ جو لوگ اس مسئلہ سے ناواقف ہوں انھیں بتا دیا جائے نہ کہ معاذ اللہ بدعتی گمراہ حتی کہ بلا وجہ مسلمانوں کو مشرک ٹھہرایا جائے ، کیا ظلم ہے جب ان اشقاء کے نزدیک اللہ عز و جل کو پکارنا بھی شرک ہوا تو مگر شیخ نجدی یعنی ابلیس لعین کا پکارتا توحید ہو گا حاش اللہ ( اللہ ہی کے لئے پاکیزگی ہے ) یہ ان بد عقلوں کی بد زبانیاں ہیں جن کا مزہ آخرت میں کھلے گا، جب لا الہ الا اللہ مسلمانوں کی طرف سے اُن بیباکان پر سرف سے جھگڑنے آئے گا۔ وسیعلم الذين ظلموا ای منقلب ينقلبون ترجمہ: اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ قول ارجح ممانعت سہی پھر بھی ان دعا کرنے والوں کے لئے خود ہمارے مذہب و کتب مذہب میں متعد درا ہیں تجویز واجازت کی ہیں
اولاً : یہی قول امام ابو یوسف رحمہ اللہ علیہ جو اس ترخیص کے ساتھ اس جہالت نجدیہ کا بھی علاج کافی ہے کہ وہ اس وقت
تسبیح بالتصریح جائز بتاتے ہیں حالانکہ بہ لحاظ خصوص وقت ورود اس کا بھی نہیں۔
ثانيا : بعض کے نزدیک مقتدیوں کو صرف جہر ممنوع ہے آہستہ میں حرج نہیں۔ اور اس کی تائید اس قول سے بھی مستفاد
کہ عین حالت خطبہ میں ذکر اقدس سن کر آہستہ درود پڑھنے کا حکم دیا گیا اگر چہ تحقیق وہی ہے، کہ دل سے پڑھے۔
ثالثا: امام نصیر بن سکی و امام محمد بن الفضل و غیر ہما عین حالت خطبہ میں بعید کو کہ خطبہ کی آواز اس تک نہ پہنچے انصات واجب نہیں جانتے ، اور امام محمد بن سلمہ بھی صرف اولی کہتے ہیں اگر چہ مفتی یہ اس پر بھی وجوب ، تو اس جلسہ میں کہ آواز ہی نہیں
بدرجہ اولی واجب نہ کہیں گے۔
رابعاً : بعض علماء کا گمان ہے کہ ہمارے امام کے نزدیک بھی صرف کلام دنیوی ممنوع ہے دعاء وذکر مطلقا جائز حتی کہ عین حالت خطبہ میں بھی ، اگر چہ صواب اُس کے خلاف ہے۔
اور مذاہب دیگر پر نظر کیجئے تو حد درجہ کی توسیعیں ہیں حتی کہ محیط میں تو یہاں تک منقول کہ من العلماء من قال السكوت على القوم كان لازما في زمن رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم اما اليوم فغير لازم ” ترجمہ: بعض علماء نے کہا کہ لوگوں پر سکوت رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ظاہری حیات میں لازم تھا اب لازم نہیں رہا۔
(جامع الرموز وال الحمل من 1 207 مکتب اسلامی کنید قاموس (ایران)
علماے محتاطین تو ایسے مسائل اجتہادیہ میں انکار بھی ضروری و واجب نہیں جانتے نہ کہ عیاذ باللہ نوبت تا بہ تضلیل وا کفار ۔ بالجملہ مقتدیوں کا یہ فعل تو علی الاختلاف ممنوع مگر مسلمانوں کو بلا وجہ مشرک بدعتی کہنا بالا جماع حرام قطعی تو یہ حضرات مانعین خود اپنی خبر لیں اور امام کے لئے تو اس کے جواز میں اصلاً کلام نہیں ، ہاں خوف مفسدہ اعتقاد عوام ہو تو التزام نہ کرے، فقیر غفر اللہ تعالی اس جلسہ میں اکثر سکوت کرتا اور کبھی ( سورة ) اخلاص کبھی درود پڑھتا ہے اور رفع یدین کبھی نہیں کرتا کہ مقتدی دیکھ کر خود بھی مشغول بدعانہ ہوں ، مگر معاذ اللہ ایسا نا پاک تشد د شرع کبھی روا نہیں فرماتی ، مولی تعالی ہدایت بخشے آمین ۔
READ MORE  جمعہ کے دو خطبوں کے درمیان مقتدی کا دعا مانگنا کیسا ہے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top