دیوبندی سے فاتحہ اور ایصال ثواب کا ثبوت
:سوال
عام مسلمانوں کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ اور بزرگوں کے ایصال ثواب کے لیے نیاز کرنے کو دیو بندی حرام کہتے ہیں، کیا ان کے بڑوں سے فاتحہ اور نیاز کا ثبوت ہے؟
: جواب
امام الطائفہ (اسمعیل دہلوی) نے اس باب میں عدم ورود تسلیم کرنے کے باوجود جو کچھ کہا ہے وہ سننے کے قابل ہے رسالہ زبدۃ النصائح میں طبع شدہ تقریر ذبیحہ میں لکھا ہے کنواں کھودنے اور اس جیسے کاموں اور دعاء استغفار، قربانی کے سوا قر آن خوانی، فاتحہ خوانی، کھانا کھلا نا سب طریقے بدعت ہیں، گو خاص بدعت حسنہ ہیں، جیسے عید کے دن معانقہ اور نماز صبح یا عصر کے بعد مصافحہ “ اب ہم کچھ اور اقوال امام الطائفہ کے بزرگان و عمائد اور اساتذہ و مشائخ کے نقل کرتے ہیں تا کہ بے باکوں کو پتہ چلے کہ شریعت سے ممانعت کے بغیر فاتحہ کو حرام بتانے پر زبان کھولنا اور فاتحہ کے کھانے ، بزرگوں کی نیاز کی شرینی کو حرام اور مردار کہنا کیسی سخت سزائیں چکھاتا ہے اور کیسے برے دن دکھاتا ہے۔ شاہ ولی الله انفاس العارفین میں اپنے والد شاہ عبدالرحیم سے نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسالت پناہ صلی للہ علیہ وسلم کے ایام وفات میں کچھ میسر نہ ہوا کہ آں حضرت کی نیاز کا کھانا پکایا جائے تھوڑے سے بھنے ہوئے چنے اور قند سیاہ (گڑ) پر نیاز کیا الخ “
(انفاس العارفين ، ص 106 ، المعارف گنج بخش روڈ لاہور )
. الدر الثمين في مبشرات النبی الامین میں اسی بات کو یوں نقل کیا ہے بائیسویں حدیث : مجھے سیدی والد ماجد نے بتایا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نیاز کے لئے کچھ کھانا تیار کراتا تھا، ایک سال کچھ کشائش (وسعت ) نہ ہوئی کہ کھانا پکواؤں ،صرف بھنے ہوئے چنے میسر آئے ، وہی میں نے لوگوں میں تقسیم کئے ، میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ ان کے سامنے یہ اپنے موجود ہیں اور حضور مسرور و شادماں ہیں ۔
(الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین ص 40، کتب خانہ علویہ رضویہ فیصل آباد)
یہی شاہ صاحب انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ میں لکھتے ہیں۔ تھوڑی شیرینی پر عموما خواجگان چشت کے نام فاتحہ پڑھیں ” اور خدا تعالیٰ سے حاجت طلب کریں ، اسی طرح روز پڑھتے رہیں۔“ شیرینی، فاتحہ اور ہر روز کے الفاظ ذہن سے نہ نکلیں۔
انتباء في سلاسل الاولیاء میں 100 ، برقی پریس دہلی
یہی شاہ صاحب ہمعات میں فرماتے ہیں یہیں سے ثابت ہے اعراس مشائخ کی نگہداشت اور ان کے مزارات کی زیارت پر مداومت اور ان کے لئے فاتحہ پڑھنے اور صدقہ دینے کا التزام ” ہمعات،
جمعہ 11 ، ص 58 ، اکادیمۃ الشاہ ولی اللہ، حیدر آباد )
یہی شاہ صاحب زبدۃ النصائح “ میں مندرج فتوی میں لکھتے ہیں اگر کسی بزرگ کی فاتحہ کے لئے ان کی روح مبارک میں کو ایصال ثواب کے قصد سے ملیدہ اور کھیر پکائیں اور کھلا ئیں تو مضائقہ نہیں، جائز ہے اور خدا کی نذر کا کھانا اغنیاء کے لئے حلال نہیں لیکن اگر کسی بزرگ کے نام کی فاتحہ دی جائے تو اس میں اغنیاء کو بھی کھانا جائز ہے۔“ مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب تحفہ اثنا عشریہ میں فرماتے ہیں حضرت امیر المؤمنین علی مرتضی (رضی اللہ تعالی عنہ) اور ان کی اولاد پاک کو تمام امت پیروں اور مرشدوں کی طرح مانتی ہے اور امور تکوینیہ ان سے وابستہ جانتی ہے اور ان کے نام فاتحہ و درود اور صدقات کا معمول ہے اور ایسے ہی تمام اولیاء اللہ کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔”
(تحفہ اثنا عشریہ ص 214، سہیل اکیڈمی، لاہور )
اسمعیل دہلوی جو ان کے غلاموں کا غلام اور ان کے مرید کا مرید ہے صراط مستقیم کے اندر ان کی مدح میں یوں رطب اللسان ہے جناب ہدایت مآب ، ارباب صدق و صفا کے پیشوا، اصحاب فناو بقا کے خلاصہ، علماء کے سردار، اولیاء کی سند،سارے جہاں پر اللہ کی حجت ، انبیاء ومرسلین کے وارث ، ہر ذلت و عزت والے کے مرجع ، ہمارے آقاد ہمارے مرشد شیخ عبدالعزیز
(صراط مستقیم ، ص 184 ، مکتبہ سلفیہ، لاہور )
خود امام الطائفہ نے تقریر ذبیحہ میں یہ نغمہ سرائی کی ہے اگر کوئی شخص کسی بکری کو گھر میں پالے تا کہ اس کا گوشت عمدہ ہو اس کو ذبح کر کے اور پکا کر حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی نہ کی فاتحہ پڑھ کر کھلائے تو کوئی خلل نہیں ہے ۔“
READ MORE  اہل قبور قبر پر آنے والوں کو پہچانتے، سلام اور جواب دیتے ہیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top