29 کو اگر چاند نظر نہ آئے تو 30 دن پورے کرنا چاہئیں، یہ رمضان اور عید الفطر کے ساتھ خاص یا سب مہینوں کے لئے ہے؟

چاند 29 کا ہوگا یا 30 کا، یہ قانون کس مہینے کے ساتھ خاص ہے؟

سوال
یہ جو فقہاء نے فرمایا کہ 29 کو اگر چاند نظر نہ آئے تو 30 دن پورے کرنا چاہئیں، یہ رمضان اور عید الفطر کےساتھ خاص یا سب مہینوں کے لئے ہے؟
جواب
یہ حکم بارہ مہینے کے لیے ہے ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک بار دسوں انگلشتان مبارک تین دفعہ اٹھا کر فرمایا
( الشهر هكذا وهكذا وهكذا)
ترجمہ :(مہینہ اتنا اور اتنا اور اتنا اور اتنا ہوتا ہے)
یعنی تیس 30 دن کا، اور ایک بار دسوں انگشت مبارک تین دفعہ اٹھائیں مگر اخیر میں ایک انگشت مبارک بند فرما کر فرمایا
( الشهر هكذا وهكذا وهكذا)
ترجمہ : مہينہ اتنا اور اتنا اور اتنا ہوتا ہے یعنی ۲۹ دن کا
تو کوئی قمری عربی مہینہ کہ یہی شریعت مطہرہ میں معتبر ہیں نہ 29 دن سے کم ہو سکتا ہے نہ تیس 30 سے زائد ، جس مہینے کی رؤیت کافی ثبوت شرعی سے ثابت ہوار اس کی 29 کو رویت نہ ہو تو 30 پورے کر کے خواہی نخواہی دوسرے مہینے کا ہلال ہے۔
مزید پڑھیں:اخباروں سے چاند کی تاریخ دیکھ کر رؤیت ہلال کا حکم؟
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 04, Fatwa 122

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top