...
ایک حدیث متعدد طریقوں سے روایت کی گئی ہو اور وہ سارے ضعیف ہوں تو اس حدیث کا کیا حکم ہے؟

ایک حدیث متعدد طریقوں سے روایت کی گئی ہو اور وہ سارے ضعیف ہوں تو اس حدیث کا کیا حکم ہے؟

سوال
ایک حدیث متعدد طریقوں سے روایت کی گئی ہو اور وہ سارے کے سارے ضعیف ہوں تو اس حدیث کا کیا حکم ہے؟
جواب
حدیث اگر متعدد طریقوں سے روایت کی جائے اور اور سب ضعف رکھتے ہوں تو ضعیف ضعیف مل کرقوت حاصل کر لیتے ہیں
بلکہ اگر ضعف غایت شدیت و قوت پر نہ ہو تو جبر نقصان ہو کر حدیث درجہ حسن تک پہنچی اور مثل صحیح خوداحکام حلال و حرام میں حجت ہو جاتی ہے۔
مرقاۃ میں ہے
” تحدد الطرق يبلغ الحديث الصعيف إلى حد الحسن
متعددروایتوں سے آنا حدیث ضعیف کو درجہ حسن تک پہنچا دیتا ہے۔
موضوعات کبیر میں فرمایا
تعدد الطرف ولو ضعفت يرقى الحديث الى الحسن
” طرق متعدده اگر چہ ضعیف ہوں حدیث کو درجہ حسن تک ترقی دیتے ہیں۔
محقق على الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں
” لو تم تضعيف كلها كانت حسنة لتعدد الطرق وكثرتها “
اگرسب کا ضعف ثابت ہو بھی جائے تا ہم حدیث حسن ہوگی کہ طرق متعد دو کثیر ہیں ۔
امام ابن حجر مکی صواعق محرقہ میں امام ابوبکر بیہقی سے ناقل
هذه الاسانيد، وان كانت ضعيفة لكنها الاضم بعضها إلى بعض احدثت قوة “
یہ سندیں اگر چہ سب ضعیف ہیں مگر آپس میں مل کر قوت پیدا کریں گی۔
جہالت راوی بلکہ ابہام بھی انہیں کم درجہ کے ضعفوں سے ہے جو تعدد طرق سے منجر ہو جاتے ہیں اور حدیث کو رتبہ حسن تک ترقی سے مانع نہیں آتے، یہ حدیثیں جابر و نجر دونوں ہونے کے صالح ہیں۔۔
علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں
فی اسناده جهالة لكنه اعتضد فصار حسنا
اس کی اسنادمیں جہالت مگر تائید پا کر حسن ہوگئی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.