زکوۃ، صدقہ فطر، صدقات لینا امام مسجد کو جائز ہے یا نہیں؟

زکوۃ، صدقہ فطر، صدقات لینا امام مسجد کو جائز ہے یا نہیں؟

:سوال
صدقہ فطر لینا امام مسجد کو جائز ہے یا نہیں؟ اسی طرح اموات کی طرف سے کیا گیا صدقہ اسے جائز ہے یا نہیں؟ حالانکہ امام مسجد صاحب زکوۃ و صاحب مال ہو، نیز قربانیوں کی کھالیں وغیرہ لینا جائز ہے یا نہیں ؟ مسجد کے چراغ کے لیے لوگوں سے نقد پیسے منگوانا اور جو بچے خود رکھ لینا کیسا ہے؟
:جواب
صاحب نصاب کو اگر چہ امام ہو، کوئی صدقہ واجبہ مثل زکوۃ یا صدقات عید الفطر یا کفارات جائز نہیں حرام ہے، اور اس کے دئے وہ زکوۃ وصدقہ ادا نہ ہوں گے۔ قربانی کی کھال اگر لوگ اپنی خوشی سے دیں لے سکتا ہے مانگ کا اپنا حق قرار دے کر لینا جائز نہیں ، اموات کی طرف سے جو نفل صدقہ دیا جاتا ہے اگر دینے دینے والے نے اسے فقیر سمجھ کر دیا اور اس نے اپنا صاحب کی سے جو نصاب ہونا چھپایا تو یہ بھی حرام ہے ورنہ مکروہ وناپسند۔ تیل وغیرہ کے لیے نقد منگا کر جو بچے اپنے صرف میں کرانا بھی حرام ہے مگر اس صورت میں کہ دینے والے اس بات سے آگاہ اور اس پر راضی ہوں تو کچھ مضائقہ نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
READ MORE  درخت پر لگے پھل بیچے تو عشر بائع پر ہوگا یا مشتری پر؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top