...
قبر پر یا قبر کے سامنے یا قبر کے دائیں بائیں نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ تفصیلاً جواب ارشاد فرمادیں ۔

قبر پر یا قبر کے سامنے یا قبر کے دائیں بائیں نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ تفصیلاً جواب ارشاد فرمادیں

سوال
قبر پر یا قبر کے سامنے یا قبر کے دائیں بائیں نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ تفصیلاً جواب ارشاد فرمادیں ۔
جواب
اس مسئلہ میں تحقیق یہ ہے کہ نماز قبر پر مطلقاً مکروہ ممنوع ہے بلکہ قبر پر پاؤں رکھنا ہی جائز نہیں۔
اور قبر کی طرف بھی نماز مکروہ و منوع ہے جبکہ سترہ نہ ہو
اور صحراء یا مسجد کبیر میں قبر موضع سجود میں ہو یعنی اتنے فاصلے پر جبکہ یہ خاشعین کی سی نماز پر ھے اور اپنی نگاہ خاص موضع سجود پر جمی رکھے تو اس پر نظر پڑے کہ نگاہ کا قاعدہ ہے جس محل خاص پر اسے جمایا جائے اُس سے کچھ دور آگے بڑھتی ہے مذہب اصح میں بحالت مذکورہ جہاں تک نگاہ پہنچے سب موضع سجود ہے۔
اور اگر قبر دہنے بائیں یا پیچھے ہے تو اصلاً موجب کراہت نہیں ۔
بلکہ اگر مزارات اولیائے کرام ہوں اور اُن کی ارواح طیبہ سے استمداد کے لئے ان کی قبور کریمہ کے پاس دہنے یا بائیں نماز پڑھے تو اور زیادہ موجب برکت ہے
امام علامہ قاضی عیاض مالکی شرح صحیح مسلم شریف پھر علامہ طیبی شافعی شرح مشکوۃ شریف پھر علامہ علی قاری حنفی مرقاة المفاتح میں فرماتے ہیں
كانت اليهود والنصارى يسجدون بقبور انبيائهم ويجعلونها قبلة ويتوجهون في الصلاة نحوها، فقد اتخذوها او ثانا، فلذلك لعنهم ، ومع المسلمين عن مثل ذلك ، اما من اتخذ مسجدافي جوار صالح، اوصلى في مقبرة، وقصد الاستظهار بروحه او وصول اثر ما من اثر عبادته اليه، لا للتعظيم له والتوجه نحوه، فلا حرج عليه الاترى ان مرقد اسمعيل عليه الصلاة والسلام في المسجد الحرام عند الحطيم ثم أن ذلك المسجد، افضل مكان يتحرى المصلى لصلاته
ترجمہ :یہود و نصاری اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ کرتے تھے، انہیں اپنا قبلہ بنا لیتے تھے اور نماز میں انہی کی طرف منہ کرتے تھے، اس طرح انہوں نے قبروں کو بت بنا لیا تھا اس لئے آپ نے ان پر لعنت بھیجی اور مسلمانوں کو ایسے کاموں سے منع کیا ، رہاوہ آدمی جو کسی صالح کی قبر کے پاس مسجد بنائے یا مقبرے میں نماز پڑھے اور اس کا مقصد یہ ہو کہ اس صالح انسان کی روح سے تقویت حاصل کرے یا اس کی عبادت کے اثرات میں سے کچھ اثر اس تک بھی پہنچ جائے ، اور قبر کی تعظیم اور اس کی طرف منہ کرنا مقصود نہ ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اسمعیل علیہ اسلام کی قبر مسجد حرام میں حطیم کے پاس ہے، اس کے باوجود یہ مسجد ان تمام مقامات سے افضل ہے جنہیں کوئی نمازی ، نماز پڑھنے کیلئے تلاش کرتا ہے۔
اور یہ امر کہ سامنے ہونا زیادہ مکروہ ہے اور دہنے بائیں اس سے کم اور پیچھے ہونا اس سے بھی کم کتب خفیہ میں تصویر جانداری کی نسبت ہےنہ کہ قبر کی

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.