مسجد میں دو امام درمیان میں پردہ ڈال کر جمعہ پڑھانا کیسا؟
:سوال
ایک مسجد میں دو امام درمیان میں پردہ ڈال کر جمعہ پڑھانا جائز ہوگا یا نہیں ؟
:جواب
عدم جواز بمعنی گناہ تو جمیع فرائض میں ہے صورت سوال سے ظاہر کہ دیدہ و دانستہ دو جماعتیں بالقصد اس طرح کیں اور کسی فرض کی دو جماعتیں ایک مسجد ایک وقت میں بالقصد قائم کرنا ہرگز جائز نہیں، دونوں فریق یالا اقل دونوں میں سے ایک ضرور گنہگار ہوگا کہ جماعت فرائض کی ایسی تفریق صراحتہ بدعت سنیہ شنیعہ ہے، اگر دونوں امام میں صرف ایک صالح امامت بلا کراہت ہے، مثلاً دوسرا فاسق معلن یا بد مذہب ہے جب تو کراہت صرف اس دوسرے پر ہے، اور اگر دونوں صالح تو جس کی نیت پہلے بندھ گئی اس پر الزام نہیں دوسرے پر ہے، اور معا باندھیں تو دونوں پر۔ اور جمعہ میں تو جو از بمعنی صحت ہی نہیں کم سے کم ایک فریق کا جمعہ سرے سے ادا ہی نہ ہوگا، صحت جمعہ کی شرائط سے ایک یہ بھی ہے کہ بادشاہ اسلام یا اس کا مامورا قامت کرے یعنی سلطان خود یا اُس کا ماذون خطبہ پڑھے، امامت کرے اور جہاں یہ صورت متعذر ہو جیسے ان بلاد ہندوستان میں کہ ہنوز دارالاسلام ہے وہاں بضرورت نصب عامہ کی اجازت یعنی عام مسلمین جسے امام مقرر کرلیں۔
مزید پڑھیں:نماز جمعہ کے بعد چار فرض ظہر احتیاطی کیوں پڑھے جاتے ہیں؟
پُر ظاہر کہ کسی مسجد کے لئے دواما جمعہ علی وجہ الاجتماع کے دونوں امامت جمعہ واحدہ کریں مقرر نہیں ہوتے خصوصاً ہمارے بلاد میں امر اور بھی اظہر کہ نصب عامہ صرف بضرورت اقامت شعار معتبر، اور یہ ضرورت امام واحد سے مرتفع ، تو ایک جمعہ میں ایک مسجد میں دو امام کا جمع باطل و متدفع ۔پس صورت مستفسرہ میں اُن دونوں میں جو اُس مسجد کا امام معین جمعہ نہ تھا اُس کا اور اس کے مقتدیوں کا جمعہ ادانہ ہوا، اور اگر دونوں نہ تھے تو کسی کا نہ ہوا، یہیں سے صورت اخیرہ کا جواب بھی ظاہر ، اور اگر بفرض باطل صورت صحت تسلیم بھی ہو جو ہرگز لائق تسلیم نہیں تو اس کے سخت مخالف مقصود شرع و بدعت شنیعہ سیئہ ہونے میں کلام نہیں۔ جمعہ میں ایک مذہب قوی یہ ہے کہ شہر بھر میں ایک ہی جگہ ہو سکتا ہے اور بعض نے دو جگہ اجازت دی اور بعض نے بیچ میں نہر فاصل ہونے کی شرط کی مفتی بہ جو از تعدد ہے مگر یہ تعدد کہ ایک ہی دن ایک ہی مسجد میں دس بار امامت جمعہ ہو کہ جیسے دو ویسی ہی ۱۰۰ سو یہ بلا شبہ ابتداع فی الدین ہے۔
(ص320)
مزید پڑھیں:مسجد میں دو امام درمیان میں پردہ ڈال کر جمعہ پڑھانا کیسا؟
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 06, Fatwa 530 to 535

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top