جس بستی کے لوگ وہاں کی مسجد میں نہ سماویں وہاں جمعہ جائز ہے
:سوال
یہ جو علماء لکھتے ہیں کہ جس بستی کے مسلمان مکلف وہاں کی بڑی مسجد میں نہ سماویں وہاں جمعہ جائز ہے یہ مردم شماری کل آبادی سے مراد ہے یا تعداد نمازیوں سے، اندرون مسجد سے یا مع صحن مسجد ؟
:جواب
بعض علماء نے جو یہ روایت اختیار کی ہے اُس میں بستی کی مردم شماری مقصود نہیں بلکہ خاص وہ لوگ جن پر جمعہ فرض ہے یعنی مرد عاقل بالغ آزاد مقیم کہ اندھے لنجھے ُلولے یا ایسے ضعیف یا مریض نہ ہوں کہ جمعہ کی حاضری سے معذور ہوں، ایسے معذوروں یا بچوں، عورتوں ، غلاموں، مسافروں کی گنتی نہیں، اور پوری مسجد مع صحن مراد ہے نہ کہ فقط اندر کا درجہ ۔
مزید پڑھیں:جمعہ کے بعد احتیاطا ظہر کے چار فرض پڑھنا کیسا؟
READ MORE  جمعہ کی آذان ثانی مسجد کے اندر مکروہ تحریمی ہے یا تنزیہی

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top