خطبہ جمعہ کے بعد اسکا ترجمہ پڑھ کے سنانا کیسا؟
:سوال
زید جمعہ کے دن جب خطبہ پڑھتا ہے تو اس کے بعد ترجمہ بھی پڑھتا ہے اس لئے خطبہ ثانیہ میں توقف ہوتا ہے اور خطبہ ثانیہ کے بعد ترجمہ پڑھنے سے نماز میں تاخیر ہوتی ہے تو یہ خطبہ مع ترجمہ بزبان غیر عربی جمعہ یا عیدین کا جائز ہے یا نہیں؟
:جواب
ترجمہ کے سبب خطبہ ثانیہ یا نماز جمعہ میں تاخیر فصل اجنبی تو نہیں ہے کہ ترجمہ خطبہ بھی خطبہ ہے اذفيها ما فيها من الذكر والتذكير ( کیونکہ اس میں ذکر و نصیحت ہے ) ہاں خطبہ کی تطویل ہوگی اور یہ خلاف سنت ہے خصوصاً اگر مقتدیوں پر ثقیل ہو کہ اب سخت ممانعت ہے، لحدیث قوله صلى الله تعالى عليه وسلم ((افتان انت يا معاذ !)) قاله في الصلوة فكيف في الخطبة – ترجمہ: حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے اے معاذ ا تو فتنہ پیدا کرنا چاہتا ہے، یہ آپ نے نماز کے بارے میں فرمایا تھا تو خطبہ میں کیا حال ہوگا ۔
(مسند احمد بن مقبل ، ج 3، ص 299 ، دار الفکر، بیروت)
مزید پڑھیں:صحت جمعہ کے لیے اذن عام ہونا شرط ہے۔
اور نہ بھی ہو تو خطبہ میں غیر زبان عربی کا خلط خود مکروہ اور سنت متوارثہ کے خلاف ہے۔۔ ہاں عیدین میں خطبہ ثانیہ اگر لوگ راضی و متوجہ ہوں بہ نیت و عظ نہ بہ نیت خطبہ عید پند و نصیحت کر سکتا ہے اگر چہ وہی خطبہ میں بزبان عربی مذکور ہوئی۔ ((فقداتی صلی اللہ تعالى عليه وسلم بعد خطبة العيد الى النساء فوعظهن وذكر هن) ترجمہ: آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خطبہ عید کے بعدخواتین کے اجتماع میں تشریف لے جا کر انھیں وعظ و نصیحت فرماتے۔
(مشكوة المصانع مص 128 مطیع مجبہائی، دہلی) (ص 286)
مزید پڑھیں:خطیب کے لیے خطبہ جمعہ کے معنی جاننا ضروری نہیں
READ MORE  صاحب مزار تصرف کر سکتے ہیں یا نہیں؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top