عمامہ کے سنت ہونے کا انکار کرنا کیسا؟
:سوال
ایک شخص عمامہ کے سنت ہونے کا انکار کرتا ہے اور اسے پہننے کو ثواب نہیں جانتا بلکہ اس نے کئی آدمیوں کے عمامے اتروا دیے ہیں اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
:جواب
 عمامہ حضور پرنورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کی سنت متواترہ ہے جس کا تواتر یقینا سرحد ضروریات دین تک پہنچا ہے۔ ولہذا علمائے کرام نے عمامہ تو عمامہ ارسال عذ بہ یعنی شملہ چھوڑنا کہ اس کی فرع اور سنت غیر موکدہ ہے۔ ۔ اس کے ساتھ استہزا کو کفر ٹھہرايا
كما نص عليه الفقهاء الكرام وامر و ابتر كه حيث يستهزء به العوام كيلا يقعوا في الهلاك بسوء الکلام
( جیسا کہ فقہاء کرام نے اس پر تصریح کی ہے اور وہاں اسکے ترک کا حکم دیا جہاں عوام اس پر مذاق کرتے ہوں تا کہ وہ اس کلام بد سے ہلاکت میں نہ پڑیں )
مزید پڑھیں:فرض نماز میں بعد سلام امام کا قبلہ رو بیٹھے رہنا کیسا؟
  اس کا انکار کس درجہ ا شد واکبر ہو گا اس کا سنت ہونا متواتر ہے اور سنتِ متواتر کا استخفاف کفر ہے۔
مسلمانوں کے عمامے قصداً اتروا دینا اور اسے ثواب نہ جاننا قریب ہے کہ ضروریات دین کے انکار اور سنت قطعیہ متواترہ کے استخفاف کی حد تک پہنچے ایسے شخص پر فرض ہے کہ اپنی ان حرکات سے تو بہ کرے اور از سرنو کلمہ اسلام پڑھے اور اپنی عورت کے ساتھ تجدید نکاح کرے۔
مزید پڑھیں:سلام کے بعد پھرنے کا حکم مقتدی کے لیے نہیں
READ MORE  نوکری کے سلسلہ میں کسی شہر جانے والا مسافر ہو گا یا نہیں؟

About The Author

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top