...
سایہ دو مثل پر نماز ظہر کا وقت ختم ہونے اور عصر کا شروع ہونے میں امام عظم علیہ الرحمہ کے قول کو صاحبین کے قول پر کیوں ترجیح حاصل ہے؟

سایہ دو مثل پر نماز ظہر کا وقت ختم ہونے اور عصر کا شروع ہونے میں امام عظم علیہ الرحمہ کے قول کو صاحبین کے قول پر کیوں ترجیح حاصل ہے؟

:سوال
سایہ دو مثل پر نماز ظہر کا وقت ختم ہونے اور عصر کا شروع ہونے میں امام عظم علیہ الرحمہ کے قول کو صاحبین کے قول پر کیوں ترجیح حاصل ہے؟
:جواب
:یہ مذہب بوجوہ کثیرہ (کئی وجوہات سے) مذہب صاحبین پر مرجح ہوا
:اولا
یہی مذہب امام ہے اور مذہب امام اعظم پر عمل واجب ہے جب تک کوئی ضرورت اس کے خلاف پر باعث نہ ہو
:ثانیا
اسی پر متون مذہب ہے اور متوان کے حضور اور کتابیں مقبول نہیں ہوتیں
:ثالثا
اسی پر عامہ شروح ہے اور شروع فتوی پر مقدم
:رابعا
اجلہ اکا برآئمہ تصحیح و فتوی مثل امام قاضی خان وامام برہان الدین صاحب، ہدا یہ وامام ملک العلماء مسعود کا شانی صاحب برائع وغیرہم رحمہم اللہ تعالی نے اسی کی ترجیح وتصہحیح فرمائی اور جلالت مصححین ( تصحیح کرنے والوں کی شان و عظمت )باعث ترجیح ہے
:خامسا
مجہور مشائخ مذہب نے اس کی تصحیح و ترجیح کی اور عمل اسی پر چاہیے جس طرف اکثر مشائخ ہوں
:سادسا
اسی میں احتیاط ہے کہ مثل ثانی میں عصر پڑھی تو ایک مذہب جلیل پر فرض ذمہ سے ساقط نہ ہوا پڑھی بے پڑھی برابر رہی اور بعد میں مثل ثانی پڑھی تو بالا اتفاق صحیح وکامل ادا ہوئی
:سابعا
رہیں حدیثیں بعض صاحبوں نے گمنڈ یہ کیا کہ احادیث مذہب صاحبین میں نص ہیں بخلاف مذہب امام عظم رضی اللہ تعالی عنہم حالانکہ کے حق یہ ہے کہ صحاغ احادیث دونوں جانب موجود ہرگز کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ مذہب صاحبین پر کوئی حدیث صحیح صریح سالم عن المعارض( معارض سے سلامتی کے ساتھ) ناطق (دلالت کر رہی )ہے
جیسے دعوی ہو پیش کریں اور بامداد روح پر فتوی حضرت سیدنا امام رضی اللہ تعالی عنہم (امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی روح مبارک کی امداد سے )اس فقیر سے جواب لے ان شاءاللہ تعالی یا تو ثابت ہو جائے گا کہ وہ حدیث جس کے مخالف نے استناد کیا صحیح یا نہ تھی یا صحیح تھی تو مذہب صاحبین میں صریح نہ تھی یا یہ بھی سہی تو اس کا معارض صحیح موجود ہے اور فقیر انشاءاللہ تعالی ثابت کر دے گا کہ اس تعارض میں اس احادیث مذہب صاحبین کو منسوخ ماننامقتضائے اصول ہے اور اگر نہ مانیں تا ہم تعارض قائم ہو کر تساقط ہوگا اور پھر وہی مذہب امام رنگ ثبوت پائے گا کہ جب بوجہ تعارض مثل ثانی میں شک واقع ہواکہ یہ وقت ظہر ہے یا وقت عصر اور اس سے پہلے وقت ظہر بالیقین ثابت تھا تو شک کے سبب خارج نہ ہوگا اور وقت عصر بالیقیین نہ تھا تو شک کے سبب داخل نہ ہوگا والحمداللہ رب العالمین

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.