حاکم کی اجازت سے عید گاہ مقرر کرنا کیسا؟
:سوال
اگر حاکم وقت نے عام طور پر اجازت دے دی کہ تم لوگ فلاں زمیں پر اپنی عید گاہ بنالو یا فقط دوگانہ ادا کرنے کی اجازت دی ، عید گاہ بنانے کی اجازت نہ دی تو ان دونوں صورتوں میں نماز کا ثواب اسی قدر ملے گا جس قدر مسلمان کی وقف
کردہ عید گاہ میں ملتا ہے یا اس سے کم؟
:جواب
ہاں اتنا ہی ثواب ہے، زمین وقف کردہ میں پڑھنا نہ عیدین کے سنن سے ہے نہ مستحبات سے سنت اس قدر ہے کہ صحرا میں ہو ،
وقد كان المصلى فى زمنه صلى الله تعالى عليه وسلم و زمن الخلفاء الراشدين رضى الله تعالى عنهم من عادى الارض بغير وقف ولا بناء –
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ظاہری حیات اور خلفاء راشدین رضی اللہ تعالی عنہم کے دور میں عیدگاه افتادہ زمین تھی ، نہ وقف تھی اور نہ تعمیر شدہ تھی۔
مزید پڑھیں:بارش کی وجہ سے عید کی نماز دوسرے دن ادا کرنا کیسا؟
مزید پڑھیں:عید گاہ میں مسجد کی چٹایاں لے جانا جائز ہے یا نہیں؟
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 06, Fatwa 721

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top