حدیث منقطع( جس حدیث کی سند میں کوئی راوی ساقط ہو) کا کیاحکم ہے؟
سوال
حدیث منقطع( جس حدیث کی سند میں کوئی راوی ساقط ہو) کا کیاحکم ہے؟
جواب
اسی طرح سند کا منقطع ہونا مستلزم وضع نہیں ہمارے ائمہ کرام اور جمہور علماء کے نزدیک تو انقطاع سے صحت وحجیت ہی میں کچھ خلل نہیں آتا امام محقق کمال الدین محمد بن الہمام فتح القدیر میں فرماتے ہیں۔
ضعف بالا نقطاع وھو عندنا قالا رسال بعد عدالتہ الرواتہ وثقتھم لایضر۔
اسے انقطاع کی بنا پر ضعیف قرار دیا ہے جو کہ نقصان وہ نہیں کیونکہ راویوں کے عادل وثقہ ہونے کے بعد منقطع ہمارے نزدیک مرسل کی طرح ہی ہیں
امام ابن امیرالحاج حلیہ میں فرماتے ہیں۔
لا یضر ذلک فان المنقطع کالمرسل فی قبولہ من الثقات
یہ بات نقصان نہیں دیتی کیونکہ منقطع قبولیت میں مرسل کی طرح جب کہ ثقہ سے مروی ہے
اور جو اسے قادح(جو انقطاع کو عیب میں ڈالنے والا) جانتے ہیں وہ بھی صرف مورث ضعف مانتے ہیں نہ کہ مستلزم موضوعیت مرقاتہ شریف میں امام ابن حجر مکی سے منقول۔
لا یضر ذلک فی الاستدلال بہ گھنا لان المنقطع یعمل بہ فی الفضائل اجماعا۔
یعنی یہ امر یہاں کچھ استدلال کو مظر نہیں کہ منقطع پر فضائل میں بالا جماع عمل کیا جاتا ہے
مزید پڑھیں:جہالت راوی سے حدیث پر کیا اثر پڑتا ہے؟
READ MORE  انگوٹھے چومنے والی احادیث کا حکم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top